دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستانیت ہی ہماری بقا ہے
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
پاکستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک شناخت اور ایک اجتماعی ذمہ داری کا نام ہے۔ اس ریاست کا قیام بے شمار قربانیوں، جدوجہد اور واضح مقصد کے تحت عمل میں آیا۔ مگر بدقسمتی سے آج اسی پاکستان میں ایسے افراد اور حلقے موجود ہیں جو یہاں رہتے، یہیں کماتے اور اسی ریاست کے وسائل استعمال کرتے ہیں، مگر فکری اور عملی طور پر پاکستان سے دور دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی ترجیحات، وابستگیاں اور سیاسی ہمدردیاں بظاہر پاکستان کی بجائے سعودی عرب، افغانستان اور ایران کے گرد گھومتی نظر آتی ہیں۔ یہ حلقے ان ممالک کے ہر اقدام کی غیر مشروط حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں، چاہے وہ اقدام علاقائی امن، بین الاقوامی قوانین یا خود پاکستان کے قومی مفادات کے منافی ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے برعکس، جب بات پاکستان کے داخلی استحکام، سلامتی یا ریاستی نظم و نسق کی آتی ہے تو یہی عناصر احتجاج، انتشار، سول نافرمانی اور بعض صورتوں میں خونریزی کو بھی کسی بڑی نظریاتی جدوجہد کا نام دے کر جائز قرار دیتے ہیں۔ گویا پاکستان میں عدم استحکام ان کے لیے کوئی سنجیدہ مسئلہ نہیں۔ یہ ریاستِ پاکستان سے ہر ممکن فائدہ اٹھاتے ہیں، مراعات اور سہولتیں حاصل کرتے ہیں، مگر زبان اور عمل سے دوسرے ممالک کے گُن گاتے نظر آتے ہیں۔ کوئی خود کو افغانستان کا غیر اعلانیہ ترجمان سمجھتا ہے تو کوئی ایران یا سعودی عرب کا نام نہاد خیرخواہ بن کر پاکستان کے اندر نظریاتی محاذ آرائی کو ہوا دیتا ہے۔
ان عناصر کا سب سے نمایاں تضاد اس وقت سامنے آتا ہے جب پاکستان کے جمہوری نظام کو کفریہ، غیر اسلامی اور ناقابلِ قبول قرار دیا جاتا ہے، مگر سعودی عرب کی بادشاہت، ایران کے آمرانہ مذہبی ڈھانچے اور افغانستان میں قائم سخت گیر نظامِ حکومت کو عین اسلامی اور قابلِ تقلید بتایا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر جمہوریت واقعی اسلام کے منافی ہے تو پھر یہ صرف پاکستان میں کیوں حرام قرار پاتی ہے؟ کیا اسلامی اصول ریاستوں کے بدلنے سے تبدیل ہو جاتے ہیں؟ پاکستان اس وقت جن سنگین سیکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے، ان میں سرحد پار دہشت گردی ایک اہم مسئلہ ہے۔ متعدد واقعات اور شواہد اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان مخالف دہشت گرد تنظیموں، خصوصاً ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر رہی ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ہمارے شہری اور سیکیورٹی اہلکار جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، مگر جیسے ہی افغان حکمرانوں پر تنقید کی جاتی ہے، یہی حلقے تلملا اٹھتے ہیں اور پاکستان کے موقف کو کمزور کرنے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں۔ یہی دوہرا معیار اس وقت بھی سامنے آتا ہے جب پاکستان کے سیاستدان بھارت کے ساتھ معاشی یا سیاسی تعلقات بحال کرنے کی بات کرتے ہیں تو ایسے مواقع پر واہگہ بارڈر کی جانب مارچ، ہڑتالیں اور احتجاجی مظاہرے منظم کیے جاتے ہیں۔ مگر جب افغان طالبان کھلے عام بھارتی قیادت سے روابط استوار کرتے ہیں تو یہی عناصر یہ کہہ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ ہر ریاست کو اپنے مفادات کے مطابق تعلقات قائم کرنے کا حق حاصل ہے۔ اگر یہ اصول افغانستان کے لیے درست ہے تو پاکستان کے لیے کیوں نہیں؟
اسی طرح امریکہ مخالف نعروں اور ریلیوں کے ذریعے عوامی جذبات بھڑکانا بھی ان حلقوں کا مستقل وطیرہ ہے۔ آئے روز امریکہ مردہ باد کے نعرے لگائے جاتے ہیں، مگر جیسے ہی امریکی، یورپی حکمرانوں یا اداروں کی جانب سے دعوت نامے موصول ہوتے ہیں، یہی لوگ امریکہ، یورپ پہنچ کر سوشل میڈیا پر اپنی تشہیر کرتے نظر آتے ہیں اور ان دوروں کو دینِ اسلام کی خدمت سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل فکری تضاد اور دوغلے پن کی واضح مثال ہے۔ افغانستان، ایران اور سعودی عرب کے ضرورت سے زیادہ حامیوں سے بس اتنا عرض ہے کہ جس بے باکی سے آپ پاکستان کے خلاف گفتگو کر لیتے ہیں، کبھی افغانستان، ایران یا سعودی عرب میں جا کر، یا وہاں کے شہریوں سے پوچھ کر دیکھ لیجیے کہ کیا انہیں بھی اپنے وطن کے خلاف اسی طرح کھل کر بات کرنے کی اجازت ہے؟
آج کی دنیا نعروں یا جذبات پر نہیں بلکہ ریاستی مفادات پر چلتی ہے۔ ہر ملک، خواہ وہ افغانستان ہو، ایران یا سعودی عرب، اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے اور تعلقات طے کرتا ہے۔ عملی سیاست میں زیادہ اہمیت معاشی، سفارتی اور سکیورٹی مفادات کو دی جاتی ہے۔
اگر مسلم اُمہ ایک مؤثر سیاسی حقیقت ہوتی تو کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ مسائل کب کے حل ہو چکے ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید عالمی نظام میں ہر ریاست سب سے پہلے اپنے مفاد کو ترجیح دیتی ہے۔
ہمارے ہاں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو پاکستان کی ہر مشکل پر مملکت کے وجود کو کوسنے لگتا ہے اور بھارت کی ہر کامیابی کا بے جا چرچا کرتا ہے۔ تنقید ضرور ہونی چاہیے، مگر ایک آزاد مملکت جیسی نعمت کو نظرانداز کر کے احساسِ کمتری کو فروغ دینا درست طرزِ عمل نہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مسلکی، نظریاتی اور خارجی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر حقیقت پسندانہ سوچ اپنائیں۔ پاکستان کسی جماعت، مسلک یا بیرونی نظریے سے بڑا ہے۔ اگر ہم نے پاکستانیت کو اپنی اولین شناخت نہ بنایا تو نہ ریاست بچے گی، نہ نظریات اور نہ ہی قومی مفادات۔ اس لیے وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک نکتے پر متفق ہوں ۔۔۔ پاکستانیت ہی ہماری بقا ہے۔
واپس کریں