محمد ریاض ایڈووکیٹ
سیاسی و انتظامی تاریخ میں چند شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن پر اختلاف بھی ہوتا ہے، تنقید بھی، مگر جب کارکردگی بولتی ہے تو ناقدین کو بھی اپنے لہجے نرم کرنا پڑتے ہیں۔ محسن نقوی انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ جہاں بھی تعینات ہوئے، محض عہدہ سنبھالنے تک محدود نہیں رہے بلکہ اپنی موجودگی کو نتیجہ خیز بنانے کی کوشش کی۔ چاہے پنجاب کے نگران وزیرِ اعلیٰ کا منصب ہو، وفاقی وزارتِ داخلہ ہو یا پھر پاکستان کرکٹ بورڈ کی چیئرمین شپ، ہر جگہ ایک مشترک پہلو نمایاں نظر آتا ہے: فیصلہ سازی میں جرات، ادارہ جاتی وقار کی بحالی اور نتائج پر توجہ۔
جب محسن نقوی کو چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ مقرر کیا گیا تو تنقید کا ایک طوفان کھڑا ہو گیا۔یاد رہے پاکستان میں کرکٹ بورڈ کی سربراہی ہمیشہ سے سیاسی مباحث کا موضوع رہی ہے۔ ماضی میں بھی یہ اعتراض اٹھتا رہا کہ تقرریاں فنی مہارتوں کی بنیاد کی بجائے سیاسی وابستگیوں پر ہوتی ہیں۔ اسی پس منظر میں محسن نقوی کی تعیناتی کو بھی“سیاسی تقرر”قرار دیا گیا۔ مگر وقت ہمیشہ سب سے بڑا منصف ہوتا ہے۔ چند ہی ماہ میں واضح ہو گیا کہ محسن نقوی محض ایک نام نہیں بلکہ ایک بہترین منتظم ہیں اور وہ بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ سوچ رکھنے والے منتظم۔
پی سی بی کے انتظامی ڈھانچے میں سب سے نمایاں تبدیلی مالی نظم و ضبط کے میدان میں نظر آئی۔ رواں مالی سال کا اٹھارہ ارب روپے کا بجٹ محض ایک عدد نہیں بلکہ سمت کا تعین تھا۔ اس بجٹ کو صرف بین الاقوامی یا نمائشی ایونٹس تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اس کا بڑا حصہ گراس روٹس کرکٹ، ڈومیسٹک اسٹرکچر، ویمن کرکٹ اور اسٹیڈیمز کی بہتری کے لیے مختص کیا گیا۔
پاکستان سپر لیگ کے حوالے سے بھی ایک نئی سوچ سامنے آئی۔ جذباتی نعروں یا وقتی فیصلوں کی بجائے اسے ایک پائیدار بزنس ماڈل کے طور پر دیکھا گیا۔ کمرشل اثاثوں کی آزادانہ ویلیوایشن، نئی فرنچائزز کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنا اور فرنچائزز کو ترقیاتی کاموں پر مراعات دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لیگ کو محض کرکٹ ٹورنامنٹ نہیں بلکہ ایک معاشی منصوبہ سمجھا گیا۔
تاہم محسن نقوی کی پہچان صرف مالی اصلاحات تک محدود نہیں۔ اصل نمایاں پہلو وہ جرات مندانہ فیصلے ہیں جنہوں نے پاکستان کرکٹ کو ایک کمزور نفسیاتی پوزیشن سے نکالنے کی کوشش کی۔ سیانے کہتے ہیں کہ محبت اور جنگ میں بروقت فیصلہ سازی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ وگرنہ لڑائی کے بعد یاد آنے والے مکے کو اپنے منہ پر مارنے کی ہدایات ملتی ہیں۔
چیمپئینز ٹرافی 2025 کے موقع پر یہ مؤقف واضح کیا گیا کہ مستقبل میں یا تو دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے ملک میں کھیلیں گی یا پھر نیوٹرل وینیو اختیار کیا جائے گا۔اسی تسلسل میں بھارت کے ساتھ ورلڈ کپ ٹی ٹونٹی 2026 کے میچز کے حوالے سے اپنایا گیا دو ٹوک مؤقف بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ برسوں سے ایک غیر اعلانیہ عدم توازن موجود تھا۔ بھارت پاکستان نہیں آتا، مگر پاکستان ہر بار بھارت جا کر کھیلتا رہا۔ اس پالیسی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ پاکستان اب مستقبل کے ایونٹس میں“کمپرومائز کرنے والا فریق”دکھائی نہیں دیتا۔یاد رہے ادارہ جاتی خودداری بھی کسی کامیابی سے کم نہیں ہوتی۔
بنگلہ دیش کے خلاف آئی سی سی (حقیقتا بی سی سی آئی) کی زیادتی پر بنگلہ دیش کا بھرپور ساتھ دیکر محسن نقوی نے ماضی میں حسینہ واجد اور بھارتی ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کے برخلاف زہریلے پروپیگنڈا کی بدولت بنگالیوں کی پاکستان بارے پائی جانے والی نفرت کو محبت میں بدل دیا ہے۔ بنگلہ دیش میں بھارت کے خلاف بڑھتا ہوا عوامی ردعمل ہو یا کرکٹ بورڈ کی سطح پر پاکستان سے قربت یہ سب اسی خوددار پالیسی کا نتیجہ ہے۔ بین الاقوامی کھیلوں کی سیاست میں عزت اور وقار کا تعلق صرف میدان کی کارکردگی سے نہیں بلکہ انتظامی جرات سے بھی ہوتا ہے۔ بروقت اور واضح فیصلہ سازی ہی اداروں کو مضبوط بناتی ہے۔
یقیناً محسن نقوی پر سیاسی الزامات لگتے رہیں گے، مگر اب ایک حقیقت ریکارڈ کا حصہ ہے کہ کارکردگی نے بیانیے کو چیلنج کیا ہے۔ بطور نگران وزیر اعلیٰ پنجاب، بطور وزیر داخلہ اور بطور چیئرمین پی سی بی انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ انتظامی صلاحیت محض سیاسی وابستگی کی محتاج نہیں ہوتی۔ نتائج ہی اصل معیار ہوتے ہیں۔قومیں صرف جذباتی نعروں سے نہیں بنتیں بلکہ فیصلوں سے بنتی ہیں۔ بعض فیصلے وقتی طور پر غیر مقبول ہوتے ہیں، تنقید کا باعث بنتے ہیں، مگر تاریخ میں سرخرو ٹھہرتے ہیں۔ محسن نقوی نے شور بھی سنا، دباؤ بھی برداشت کیا، مگر اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے بجائے ادارہ جاتی مضبوطی کو ترجیح دی۔ یہی طرزِ عمل کسی بھی قیادت کا اصل امتحان ہوتا ہے۔
آج اگر پاکستان کرکٹ بورڈ ایک نسبتاً خوداعتماد اور منظم ادارے کے طور پر سامنے آ رہا ہے تو اس میں موجودہ قیادت کی پالیسیوں کا کردار ضرور زیرِ بحث آئے گا۔سیاسی وابستگی یا بغض رکھے بغیر یہ بات کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہ ہوگی کہ محسن نقوی نے بطور کرکٹ بورڈ چیئرمین پاکستانی سبز ہلالی پرچم کو سربلند ہی کیا ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر کارکردگی اپنی جگہ ایک حقیقت ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے یہ سوال بار بار ذہن میں ابھرتا ہے۔ محسن نقوی، ایک دل کتنی بار جیتو گے؟
واپس کریں