محمد ریاض ایڈووکیٹ
صوبہ پنجاب میں سرکاری اساتذہ کا حالیہ احتجاج محض تنخواہوں یا مراعات کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ریاست اور تعلیمی نظام کے درمیان اعتماد کے رشتے کا امتحان بن چکا ہے۔ ایک طرف اساتذہ اپنے مطالبات کے حق میں سڑکوں پر ہیں، دوسری طرف طلبہ کلاس رومز میں اپنے اساتذہ کے منتظر۔ حکومت مذاکرات کی یقین دہانی کرا رہی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے قوم کے معمار کو احتجاج پر مجبور کر دیا؟
پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب تعلیمی لحاظ سے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ لاکھوں طلبہ سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں اور انہی اداروں سے مستقبل کی قیادت تیار ہوتی ہے۔ استاد محض نصاب پڑھانے والا نہیں بلکہ کردار سازی، سماجی شعور اور اخلاقی رہنمائی کا علمبردار ہوتا ہے۔ جب یہی طبقہ بے یقینی اور عدم تحفظ کا شکار ہو جائے تو اس کے اثرات صرف ملازمین تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا تعلیمی ڈھانچہ متاثر ہوتا ہے۔
حالیہ احتجاج کی بڑی وجوہات میں سروس اسٹرکچر، مستقل تقرری اور پنشن اصلاحات شامل ہیں۔ ہزاروں اساتذہ برسوں سے کنٹریکٹ یا عارضی بنیادوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ وہ مستقل ملازمت کے معیار پر پورا اترتے ہیں، مگر انہیں ریگولرائز نہیں کیا جا رہا۔ مستقل تقرری نہ ہونے کے باعث ترقی، پنشن اور دیگر مراعات کے حصول میں مشکلات پیش آتی ہیں، جو ان کے پیشہ ورانہ اعتماد کو مجروح کرتی ہیں۔
پنشن اصلاحات کا معاملہ بھی حساس ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مالی دباؤ اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث اصلاحات ناگزیر ہیں، مگر اساتذہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کا مستقبل غیر محفوظ ہو جائے گا۔ سرکاری ملازمت کی کشش ہی ریٹائرمنٹ کے بعد مالی تحفظ تھا۔ اگر پنشن اور لیو اینکیشمنٹ جیسے فوائد کمزور کر دیے جائیں تو نوجوان نسل تدریس کے پیشے کی طرف کیوں راغب ہوگی؟ اگر قابل اور ذہین افراد اس شعبے سے دور ہو گئے تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو ہوگا۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ بھی اپنے تعلیمی معیار کے مطابق اسکیل اور الاؤنسز کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی ڈگری رکھنے والے اساتذہ کا کہنا ہے کہ نجی شعبے میں قابلیت کی قدر کی جاتی ہے تو سرکاری نظام میں کیوں نہیں؟ اگر تعلیمی قابلیت کا اعتراف نہ کیا جائے تو معیارِ تعلیم متاثر ہونا فطری ہے۔ تعلیم صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ استاد کے علمی وقار سے جڑی ہوتی ہے۔
اس بحران میں اعتماد کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ اساتذہ تنظیموں کے مطابق مذاکرات میں زبانی یقین دہانیاں تو ملتی ہیں، مگر تحریری نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوتے۔ نتیجتاً وعدے عملی شکل اختیار نہیں کر پاتے اور بے یقینی برقرار رہتی ہے۔ اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ فیصلوں کو شفاف انداز میں تحریری صورت دی جائے تاکہ ابہام ختم ہو۔
دوسری جانب حکومتِ پنجاب کا مؤقف بھی مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بجٹ خسارہ، معاشی دباؤ اور محدود وسائل حقیقت ہیں۔ سرکاری خزانے پر تنخواہوں اور پنشن کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اصلاحات کا بوجھ یکطرفہ طور پر اساتذہ پر ڈال دینا دانشمندانہ ہوگا؟ کیا ایسا متوازن ماڈل ممکن نہیں جس میں مالی نظم و ضبط بھی برقرار رہے اور اساتذہ کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے؟
احتجاج کے اثرات براہِ راست تعلیمی سرگرمیوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں کلاسیں متاثر ہیں، والدین پریشان اور طلبہ کی تعلیمی رفتار سست پڑ رہی ہے۔ اگر یہ صورتحال طول پکڑتی ہے تو امتحانی نظام اور نتائج پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب استاد ذہنی دباؤ کا شکار ہو تو وہ پوری یکسوئی سے تدریس نہیں کر سکتا۔ مطمئن استاد ہی معیاری تعلیم کی ضمانت ہے۔
یہ معاملہ دراصل قومی ترجیحات کا عکاس ہے۔ اگر تعلیم کو واقعی اولین ترجیح سمجھا جائے تو اس شعبے میں کام کرنے والوں کو بھی اسی درجے کی اہمیت دینی ہوگی۔ ترقی یافتہ ممالک میں اساتذہ کو باعزت اور محفوظ طبقہ سمجھا جاتا ہے اور پالیسی سازی میں ان کی رائے شامل کی جاتی ہے۔ ہمیں بھی تعلیم کو صرف بجٹ کی مد نہیں بلکہ قومی سرمایہ کاری سمجھنا ہوگا۔
اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی دائرہ اختیار میں آ چکی ہے، اس لیے ذمہ داری بھی صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ جامع اور منصفانہ پالیسیاں ترتیب دیں۔ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں اگر استاد مطمئن نہ ہو تو تعلیمی اصلاحات کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔
بالآخر یہ سمجھنا ہوگا کہ استاد محض سرکاری ملازم نہیں بلکہ قوم کا معمار ہے۔ اگر معمار غیر محفوظ ہوگا تو عمارت مضبوط کیسے ہوگی؟ پنجاب میں جاری یہ احتجاج ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تعلیمی پالیسی انسانی وقار، پیشہ ورانہ احترام اور سماجی انصاف سے جڑی ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور اساتذہ ایک دوسرے کو فریق نہیں بلکہ شراکت دار سمجھیں۔ مکالمہ، شفافیت اور باہمی اعتماد ہی اس بحران کا پائیدار حل ہے۔ کیونکہ جب تک استاد مطمئن نہیں ہوگا، تعلیمی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔
واپس کریں