دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اگر معاشرہ واقعی بدلنا ہے تو ۔۔۔
No image انسان کو غلام بنانے کا سب سے سستا اور مؤثر طریقہ ہتھکڑی نہیں بلکہ بھوک ہے۔ جب عوام کی ساری توانائی دو وقت کی روٹی، بجلی کے بل، علاج کے خرچ اور بچوں کی فیس میں جل رہی ہو تو وہ اقتدار کے ایوانوں کی طرف دیکھنے کی ہمت کھو دیتی ہے۔ طاقت ور طبقہ اچھی طرح جانتا ہے کہ تھکا ہوا آدمی بغاوت نہیں کرتا، وہ صرف سوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اقتدار اپنی سب سے محفوظ پناہ گاہ بناتا ہے۔ جب ذہن مسلسل بقا کی جنگ میں الجھا رہے تو شعور کی سیاسی جہت مفلوج ہو جاتی ہے اور اجتماعی ارادہ تحلیل ہو کر انفرادی خوف میں بدل جاتا ہے۔ یہ محض معاشی مسئلہ نہیں بلکہ نفسیاتی حکمت عملی ہے جس کے ذریعے سوال کی جرأت کو روٹی کی ضرورت کے نیچے دفن کر دیا جاتا ہے۔ ریاستی ڈھانچے کی بقا اس امر سے مشروط کر دی جاتی ہے کہ شہری اپنی محرومی کو تقدیر سمجھ لے اور احتساب کو بغاوت۔ طاقت کا اصل کھیل وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں بلکہ توجہ کی منظم تقسیم ہے تاکہ عوام کی نظر افق پر نہیں بلکہ اپنے قدموں کے نیچے گرے سکوں پر رہے۔ اگر لوگ روزی، بل، علاج، قرض، یا نوکری کے پیچھے دوڑتے رہیں تو وہ حق کی بات نہیں کریں گے، نہ نظام بدلنے کی ہمت کریں گے۔ انہیں اتنا مصروف کر دو کہ وہ صرف زندہ رہنے کو کامیابی سمجھیں، پھر انہیں سوال کرنے کی فرصت ہی نہ ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ بھوک سے کمزور قومیں نعروں سے نہیں جاگتیں، وہ صرف مزید وعدوں پر یقین کر لیتی ہیں۔ جب شہری کا سب سے بڑا خواب صرف مہینے کا خرچ پورا کرنا ہو تو وہ کرپشن، نااہلی یا سازشوں پر بحث کرنے کے بجائے خاموشی خرید لیتا ہے۔ طاقت ور طبقے کے لیے سب سے بڑا خطرہ تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر خودمختار فرد ہے کیونکہ وہ سوال کرتا ہے، دلیل مانگتا ہے اور جواب طلبی کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ اس کے برعکس معاشی دباؤ میں جکڑا ہوا فرد اپنے حقوق سے پہلے اپنی ضرورت دیکھتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں آزادی کی جنگ زندہ رہنے کی جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ جب بقا کا خوف اجتماعی شعور پر غالب آ جائے تو مزاحمت کی توانائی تحلیل ہو کر اطاعت کی نفسیات میں ڈھل جاتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ طاقت ور کیا کر رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم کس حد تک اپنی کمزوریوں کو پہچان کر انہیں طاقت میں بدلنے کے لیے تیار ہیں۔ اگر معاشرہ واقعی بدلنا ہے تو لوگوں کو صرف جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ معاشی استحکام، معیاری تعلیم اور فکری آزادی سے مضبوط کرنا ہوگا۔منقول
واپس کریں