دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
شیخوپورہ کی خونی سڑکیں
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
شیخوپورہ۔سرگودھا روڈ، جسے عوام نے خوف، کرب اور مسلسل جانی نقصانات کے باعث ”خونی روڈ“ کا نام دیا، آج بھی اسی طرح انسانی جانوں کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ یہ سڑک محض ایک ٹریفک راستہ نہیں رہی، بلکہ روزانہ سینکڑوں شہریوں کے لیے موت اور زندگی کا امتحان بن چکی ہے۔ تنگ، خستہ حال اور بے ہنگم ٹریفک کی حامل یہ سڑک آئے روز قیمتی انسانی جانیں نگل رہی ہے، مگر افسوس کہ اربابِ اختیار کی توجہ اب تک محض بیانات اور وعدوں تک محدود ہے۔ گزشتہ سال میری کزن اسی خونی سڑک پر ایک حادثے میں جان کی بازی ہار گئیں۔ یہ سانحہ محض ایک فرد کا نہیں تھا، بلکہ اس نظام کی ناکامی کا ثبوت تھا جو شہریوں کی جانوں کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔
شیخوپورہ کی دیگر اہم شاہراہیں، جن میں شیخوپورہ۔لاہور، شیخوپورہ۔گوجرانوالہ اور شیخوپورہ۔فیصل آباد روڈ شامل ہیں، برسوں پہلے ڈبل ہو چکی ہیں۔ ان سڑکوں کی توسیع سے نہ صرف ٹریفک کا بہاؤ بہتر ہوا بلکہ حادثات میں نمایاں کمی بھی آئی۔ اس کے برعکس شیخوپورہ۔سرگودھا اور شیخوپورہ۔حافظ آباد روڈ آج بھی تنگ، خستہ اور خطرناک حالت میں ہیں۔ یہ امتیازی سلوک آخر کب تک جاری رہے گا؟ کیا ان علاقوں کے شہریوں کی جانیں کم قیمتی ہیں؟
شیخوپورہ۔سرگودھا روڈ پر آبادی میں تیز رفتار اضافہ، صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کا پھیلاؤ، اور خصوصاً ماچھیکے میں قائم پٹرولیم مصنوعات کے بڑے بڑے ڈپوؤں کی بدولت ٹریفک کے دباؤ کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ روزانہ درجنوں کنٹینرز، سولہ سے بائیس ویلر ٹرالرز، ٹرک، بسیں اور ڈمپرز اسی تنگ سڑک سے گزرتے ہیں، جو موٹر سائیکل سواروں، رکشوں اور پیدل چلنے والوں کے لیے کھلا خطرہ ہیں۔ یہ کوئی عام دیہی سڑک نہیں، بلکہ ہزاروں خاندانوں کی روزمرہ زندگی کی واحد شہ رگ ہے۔
شیخوپورہ، غازی مینارہ، ماچھیکے، فاروق آباد، خانقاہ ڈوگراں، چھیپا والی، سیکھیکی، ٹھٹھہ مٹمل، لکسیاں، چوکی بھاگٹ، چک 81، چک 88 اور سرگودھا سے منسلک علاقوں کے لوگ روزانہ اسی سڑک پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ اگرچہ موٹروے موجود ہے، مگر یہ سڑک ان شہریوں کے لیے متبادل نہیں، کیونکہ روزمرہ ضروریات، کاروبار، تعلیم اور علاج کے لیے یہی واحد راستہ ہے۔ ہر حادثہ ایک خاندان کو اجاڑ دیتا ہے، اور ہر گزرتا دن حکومتی غفلت کو مزید سنگین بناتا جا رہا ہے۔
سرکاری و غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سڑک پر سینکڑوں حادثات رونما ہو چکے ہیں اور ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ہر بڑے حادثے کے بعد میڈیا پر شور اٹھتا ہے، سیاسی نمائندے مذمتی بیانات اور وعدے کرتے ہیں، مگر چند دن بعد سب کچھ فراموش کر دیا جاتا ہے۔ یہ محض بدانتظامی نہیں بلکہ انسانی حقوق کی کھلی پامالی ہے۔ سیاسی جماعتوں اور منتخب نمائندوں نے ہر دورِ حکومت میں اس سڑک کو ڈبل کرنے کے وعدے کیے، مگر عملی اقدامات کبھی دیکھنے میں نہیں آئے۔ وقتی مرمت، چند اسپیڈ بریکرز یا ٹریفک بورڈز لگا کر عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سڑک آج بھی سنگل لین میں موت بانٹ رہی ہے۔ وعدوں کی سیاست نے عوام کو سوائے قبروں کے کچھ نہیں دیا۔
بالکل اسی طرح شیخوپورہ۔حافظ آباد روڈ کی حالت بھی نہایت افسوسناک ہے۔ جنڈیالہ شیر خان، باغ چوک، جھبراں منڈی، کیلے، اجنیاوالہ، کسوکے، بھون کلاں اور حافظ آباد کے شہری ہر روز ایک خطرناک سفر پر مجبور ہیں۔ یہاں ہر موڑ حادثے کی دعوت دیتا ہے اور ہر دن خوف کے سائے میں گزرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کتنی جانوں کے ضیاع کے بعد یہ مسئلہ سنجیدگی سے حل کیا جائے گا؟
دو رویہ سڑکوں کی تعمیر محض انفراسٹرکچر کا منصوبہ نہیں، بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ اس سے نہ صرف حادثات میں کمی آئے گی بلکہ تجارتی سرگرمیوں کو فروغ، سفر کے وقت میں کمی اور پورے خطے کی معاشی ترقی ممکن ہو سکے گی۔ اگر آج بھی یہ فیصلہ نہ کیا گیا تو یہ ایک ناقابلِ معافی کوتاہی ہوگی، جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
ان علاقوں کی عوام میں احساسِ محرومی خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ لوگ بجا طور پر سوال کر رہے ہیں کہ کیا وہ ٹیکس ادا نہیں کرتے؟ کیا ان کی زندگیاں خوف میں گزارنے کے لیے ہیں؟ کیا یہ علاقے ریاست کے لیے غیر اہم ہیں؟شیخوپورہ۔سرگودھا روڈ محض ایک سڑک نہیں، یہ خونی روڈ ہے۔ اسے فوری طور پر محفوظ بنانا، اسے ڈبل کرنا اور جدید تقاضوں کے مطابق تعمیر کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ بصورتِ دیگر تاریخ اس غفلت کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔
شیخوپورہ۔سرگودھا اور شیخوپورہ۔حافظ آباد روڈ سے منسلک علاقوں کی عوام حکامِ بالا، بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے پُرزور اپیل کرتی ہے کہ فوری طور پر ان سڑکوں کو ڈبل کرنے کا عملی اعلان اور کام کا آغاز کیا جائے۔ یہ صرف عوام کی سہولت نہیں، بلکہ ان کا بنیادی حق اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔ اب صبر کی حد ختم ہو چکی ہے، اور وقت آ گیا ہے کہ وعدوں سے آگے بڑھ کر عمل کیا جائے۔
واپس کریں