دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مقبول بٹ ہم تیرے مجرم ہیں ۔تحریر آصف اشرف
No image سحر کا اک نیا منظر دکھانے آیا ہوں۔ یہ رات کٹ کے رہے گی بتانے آیا ہوں۔
جو ہم سے روٹھ چکے ہیں وہ خواب سے منظر۔ تمہاری آنکھ میں پھر سے بسانے آیا ہوں۔
وقت بہت تیزی سے اپنے اختتام تک پہنچنے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے آج سے 41برس قبل دلی کی تہاڑ جیل میں جس مرد حر کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا گیا تھا برسوں قبل لگایا اس کا نعرہ یہ وطن ہمارا ہے اس کی حفاظت ہم کریں گئے اس پر حکومت ہم کریں گئے آج سارے کشمیر میں گونجتے اس کے مقدس لہو کی لاج رکھوائے ایک نئے انقلاب کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ منقسم ریاست جموں کشمیر کی ترہگام وادی میں غریب کاشتکار غلام قادر بٹ کے ہاں جنم لینے والا مقبول بٹ بکھرے جموں کشمیر کی یکجہتی اور حریت کا باعث بنے گا یہ کسی کو معلوم نہیں تھا۔
تب کی یہ کہانی ہے جب سارے مصلحتوں اور مفادات کا شکار ہو کر سری نگر اور مظفر آباد کے لولے لنگھڑے اقتدار کی دوڑ میں لگے ہوئے تھے یہ بات بھلا دی گئی تھی کہ ڈیڑھ سو سال قبل سر کٹوا کر اور زندہ کھالیں کھنچوا کر شمس خان سدھن، سبز علی خان، ملی خان، راجولی خان اور انکے ساتھیوں نے کس مقدس مشن کا آغاز کیا تھا۔کیپٹن حسین خان،کرنل حسن مرزا کیپٹن بابر، خان آف منگ، میر ہدایت کا سفر کیا تھا؟ انہی سوچوں نے مقبول بٹ کو ایک انوکھی اور منفرد راہ کا مسافر بنا دیا۔ اس کی حیثیت موتیوں کی مالا میں گوہر ہیرے کی سی ٹھہری، وہ اکیلا نہیں تھا اسے حق پرستوں کا کارواں ملا۔ استور کے پیدائشی قائد تحریک امان صاحب،میرپور کا فرزند عبدالخالق انصاری پونچھ کا وقارسردار رشیدحسرت باغ کی آبرو سردار اکرم مظفر آباد کی شان میر ہدایت مہاجرین کی جانیں میجر(ر) امان، میر عبدالمنان ڈاکٹر فاروق حیدر،ڈاکٹر غلام احمد جراح میر عبدالقیوم، جی ایم میر، اکرام جسوال جیسے کئی ایک تھے سب کے جذبے جواں سب کی نیتیں کھری لیکن وسائل کی کمی رابطوں کا فقدان منزل کے حصول میں رکاوٹ تھا۔ پاک بھارت سرحد جموں سوچیت گڑھ کی مٹی کو حلف بنا کر ایک نئے عزم سے میدان میں کودنے کا فیصلہ ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب نیلسن منڈیلاچہ گویرا فیڈرل کاسترو کا کردار سبق دے رہا تھا کہ آزادی لہو مانگتی ہے جب مرنے کا ڈھنگ آئے گا تب جینا سیکھو گے۔ مقبول بٹ اس کارواں کا امام بنا اس نے خود میدان کا رزار میں اترنے کا فیصلہ کیا اس راہ میں گلگت کا سپوت اورنگزیب قربان کر کے جدوجہد کی ابتداء کی تو ساتھ وحدت کشمیر کا درس بھی دیا۔ اشرف قریشی اور ہاشم قریشی جیسے دیوانوں نے مقبول بٹ کے حکم پر بھارتی طیارہ گنگا ہائی جیک کیا پہلی بار دنیا برسوں بعد کشمیر سے آشنا ہوئی۔ذوالفقار علی بھٹو نے پیشکش کی کہ مقبول بٹ پیپلز پارٹی میں آ جائے آزاد کشمیر کا وزیر اعظم بنا دیا جائے گا۔ مگر مقبول بٹ نے بھٹو سے ملاقات میں یہ پیشکش ٹھکرا دی مسلم کانفرنس کے سپریم ہیڈ چلائے کہ یہ کاروائی ان کے گروہ المجاہد سے منسوب کر دو۔ مقبول بٹ انکاری ہو گئے دنیا کو پہلی بار پتہ چلا کہ کشمیریوں کے پاس بھی ایسی بھی کوئی قیادت ہے جو رکنا بکنا جھکنا نہیں چاہتی۔
مقبول بٹ بھارتی سورماؤں کے ہاتھوں گرفتار ہوا لیکن جیل توڑ کر بھاگ نکلا۔ ننگے پاؤں برف پر چل کر جب آزاد کشمیر پہنچاتو بھارت کا جاسوس کہہ کر زندان میں ڈال دیا گیا یہاں کے قید خانوں میں اس سے کیا سلوک ہوا قلم لکھنے سے قاصر ہے وہ یہی کہتا رہا میں پاکستان یا ہند کا ایجنٹ نہیں اپنے وطن کا سپاہی ہوں کہیں سابق وزیر اعلیٰ شیخ ثانی فاروق عبدللہ دہلی ایما پر سری نگر کے کٹھ پتلی اسمبلی میں قائد ایوان بنے رہے تو سید علی گیلانی اسی کھٹہ پتلی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بن کر جمہوری قدریں مضبوط کرتے رہے ادھر بھی نام اور چہرے بدلتے رہے حاکمیت وزارت امور کشمیر کی ہی رہی سری نگر میں مولوی فاروق نے اندرا گاندھی کا استقبال کیا تو مولوی فاروق اور شیخ ثانی فاروق عبدللہ" ڈبل فاروق اتحاد" بھی بنا لیکن آخر گیارہ فروری کو مقبول بٹ پھانسی چڑھا دیا گیا پھانسی گھاٹ پر بھی وہ ایسے ہی مسکراتا اور للکارتا رہا جیسے کل صدام للکارا کسی کی طرح نہ اسے چارپائی پر ڈال کر پھانسی گھاٹ لایا گیا نہ کہیں اس نے معافی نہیں مانگی البتہ یہ ضرور کہا مجھے معلوم ہے کہ مجھے انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن مجھے یقین کامل ہے کہ یہ منحوس خونی لکیر ضرور مٹے گی اور میرے وطن تو ضرور آزاد ہو گا۔
تیرے امکاں میں اگر ہے لا کوئی میرا جواب
اے بساط جبر ہستی لے اٹھا جاتا ہوں میں
مقبول بٹ کی پھانسی کے چار سال بعد اسکی راہوں پر ایک نیا سفر شروع ہو چلا اس کی جوانی کے دوست امان صاحب اس نئی جنگ میں قائد تحریک ٹھہرے۔وہی مقبول بٹ کا فلسفہ جنگ وہی نعرہ وہی بندوق وہی عزائم،غلا م نبی بٹ، اشفاق مجید وانی حمید شیخ یٰسین ملک جاوید میر اعجاز ڈار بلال صدیقی ڈاکٹر عبدالاحد گرو ارشد کول جاوید جہانگیر ہمایوں آزاد عبدالقادر راتھر ایس ایم افضل ملک انور عبدالاحد وازہ ناظم الدین بابر،امام دین، رشید حسرت، ڈاکٹر فاروق حیدر، راجہ مظفر،نام الگ الگ چہرے مختلف لیکن کردار ایک فکر ایک عزم ایک دیکھتے ہی دیکھتے سہہ رنگ علم تلے سارا کشمیر مقبول بٹ کا روپ دھار گیا۔
مقبول بٹ کی پامردگی شجاعت و قربانی قوم کشمیر کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہے گی۔ مقبول بٹ نے اکیلے جدوجہد شروع کی لیکن جلد ساری قوم نے اس راہ پر چل کر تاریخ ساز عوامی انقلاب بپا کیا۔ شہادتیں آزادی پسندوں کو شہید ہونے کا درس دیتی ہیں۔ شہادت تحریک کوجنم لیتی ہے۔ مقبول بٹ کی شہادت نے اسے تاریخ کے صفحات میں دائمی حیات دی۔ وہ سوچ بن کر قوم کے اجتماعی شعور کی آبیاری کر رہا ہے۔ مقبول بٹ کی روح آج بھی سامراجی قوتوں اور ان کے ایجنٹوں کے حساب پر خوف کے سائے کی طرح منڈلا رہی ہے۔ جس سے پیچھا چھڑانا ناممکن ہو چکا۔ مقبول بٹ مزاحمت اور بغاوت کا ثبوت اور استعارہ ہے۔تو تحریک آزادی کشمیر کی روح بھی زندگی جیسی قیمتی متاع قربان کر کے اس نے نسلوں کو درس دیا کہ آزادی اصل متاع ہے۔ اس نے زندگی مادر وطن کی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل اور خوشحالی کے لیے وقف کی۔ آزادی کا علمبردار مقبول بٹ اتنا ہی مقبول عام اور عالمگیر ہوتا جار ہا ہے جتنا اس کو گمنام اور محدود کرنے کی سازشیں کی جاتی رہیں۔ وہ غیرت مند جس نے غلامی میں آنکھیں کھولیں، سامراجی مظالم دیکھے تو درد پر آہیں بھرنے اور خون کے آنسو بہانے کے بجائے کچھ اور کرنے کا عہد کیا۔خود تکلیف میں مبتلا ہو کر اوروں کو آرام دینے والوں کی تعداد دنیا میں کم رہی۔ مقبول بٹ کا تاج ٹھکرا کر تختہ دار پر لٹک جانا منفرد بات ہے۔ عہدوں کو اس نے اہمیت نہ دی۔ کیونکہ وہ اپنے لیے نہیں قوم کے لیے جینا چاہتا تھا۔ جب پاکستان یکجہتی کشمیر کے نام پر جلسے جلوس کر رہا تھا اور 11فروری یوم مقبول کے حیثیت مٹانے 05فروری کی کال دی گئی۔عملی اظہار یکجہتی کرنے تیرے دن 11فروری 1990کو لیاقت حسین اعوان، فرخ رضا قریشی، سجا دانجم کی صورت تجھ سے وفا نبھا کر چکوٹھی میں خونی لکیر پاؤں تلے روند کر اپنی جانوں کی قربانی کے ساتھ تیری حقیقی پیروکاری ثابت کی کہیں وہ ادریس خان کی صورت درگاہ حضرت بل کو مقبولی غسل دے گیا بے وطن الطاف شاہ تھا کہیں اس کا نام اپنوں کی گولیوں سے راجہ سجاد، خانی زمان، فرید احمد، اشتیاق احمد، مشتاق راٹھور، خلیل الرحمان ٹھہرے کہیں وہ گونجا کہیں للکارا کہیں جھپٹا کہیں مارا آخر وہ خود امر ہو گیا تو کہیں چاہنے والوں کو بھی امر کر گیا آج 41سال گزرنے کے بعد اس کا چہرہ میرے سامنے ہے اس کے دائیں شہدائے اول اور مجاہدین اول سردار شمس خان سدھن، سبز علی خان، ملی خان، راجولی خان اور انکے ساتھی ہیں بائیں طرف گیارہ فروری 90،92،93 کے شہداء خاص کر 5اگست سے جبراً نافذ کرفیو کے دوران 6ماہ کے شہدا اور اس کے پیچھے اندازاََ پانچ لاکھ شہداء کا ایک سمندر ہے۔ مقبول بٹ کا اپنے نام لیواؤں سے سوال ہے کہ میں تمہیں کہہ آیا تھا کہ اس جنگ کو ہر محلے ہر گلی، ہر مکتب، ہر خطے میں پھیلا دو لیکن یہ کیا تم سری نگر اور آزاد کشمیر تک محدود ہو؟ ہو بھی آزاد کشمیر کے چار ہزار مربہ میل علاقے میں کوئی منظم تنظیم نہیں۔ کسی کا وجود ایک شہر میں ہے تو دوسرے میں وجود تک نہیں۔کبھی لداخ راجوری، جموں، ڈوڈہ، پونچھ گلگت، بلتستان، غذر، گانچھے استور میں تمہاری سرگرمیاں نہیں نظر آتی ہیں نما ئندگی کے د عو یداروتم میں سے کوئی خوش قسمت ہی ہو گا جس کے اپنے محلے والے اس کے ساتھ ہوں مقبول بٹ نے کہا تھا کہ”میں گہرا مذہبی آدمی نہیں لیکن یہ سمجھتا ہوں کہ مذہب انسان کی زندگی میں ”بنیادی“کردار ادا کرتا ہے“ لیکن تم میں اکثریت لادین بن چکی ہے اور دعویٰ سیکولر ہونے کا کررہے ہو تمہارے دعوے مقبول بٹ کی پیروی کاری کے ہو رہے ہیں۔ تم سے گلگت بلتستان الگ کیا جا رہا ہے۔ تم وحدت کشمیر کے دعویدار ہونے کے باوجود اس علیحدگی کو رکوانے عمل کی دنیا میں کچھ نہیں کر پا رہے۔ دنیا میں یہ ہوتے ہر سال گیارہ فروری کو یہاں بھی سڑکوں پر ہوتا ہوں ہر مذہب، ہر فرقہ میرے گیت گاتا ہے تم نے41سالوں میں کیا کیا؟ میرے گیت گانے والو عراق اور شام کا منظرنہیں دیکھتے ہو۔ افغانستان کا میدان نہیں دیکھا شیعہ سنی سب مسلمان کہلانے کے باوجود گن گن کر مارے گئے؟ تم سارے خودمختار وطن کے دعوے کرتے ہو لیکن ایک قومی انقلابی پارٹی نہیں بنا سکے صرف اس لیے کہ ایک سے ہٹ کر باقی سب کو عہدے چھوڑنے پڑھیں گے اور دعوی مقبول بٹ کے جانشین ہونے کا ہے کیا تمہیں دشمن نہ اس طرح مارے گا؟ تقسیم کشمیر کا شور مچانے والو۔ کشمیر تو 47 ء سے تقسیم ہے اس کی یکجہتی کے لیے تم نے کیا کیا؟ میرے چاہنے والو کبھی گریبان میں جھانک کر دیکھا ہے کہ تم کتنے منظم ہو؟ کہاں تک مقابلہ کراؤ گے؟ میں نے دیکھا مقبول بٹ کہہ رہا ہے چلا چلا کر نعرے لگانے والو، بہترین دلیل کی تقریر کرنے والو۔ تم سے تو اچھا جموں کا وید بھسین اور کے۔ ڈی سیٹھی (کرشن دیو سیٹھی) تھا۔ جو غیر مذہب ہونے کے باوجود جموں کی سر زمین کو تقسیم کشمیر کے خلاف سامنے لا چکے؟ گزشتہ ایک سال تہاڑ جیل دہلی میں مقبول بٹ کی قید کے دوران موجود رہنے والے جیل کے آفیسر کا BBCپر دیا جانے والا انٹر ویو قابل غور ہے۔ جس میں اس آفیسر نے کہا کہ وہ مقبول بٹ کے زیر مطالعہ قرآن مقدس، جاء نماز سمیت سامان جن میں کتابیں بھی شامل تھیں کسی رشتہ دار یا عام لوگوں کے حوالے اس لیے نہ کر پایا کہ اس سے اور اشتعال پھیلتا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ مذہب کو بنیاد ماننے والا نہ تھا تو پھر قرآن کا وہ کیونکر مطالعہ کر رہا تھا؟؟ اس صبح بھی اس نے عام دنوں کی طرح یکسوئی سے نماز کیوں پڑھی۔ بھگت سنگھ کی طرح پھانسی گھاٹ پر چڑتے ہوئے سوشلسٹ انقلاب کا نعرہ کیوں نہ لگایا۔ اگر اس کی موت کا سبب خود مختار ملک مانگنے کے بجائے روشن خیالی تھی تو پھر کیونکر یوسف تاریگامی کو بھارت پھانسی نہیں دے رہا۔ سوشل میڈیا پر جنگ آزادی لڑنے والے اور خود کو مقبول بٹ کا پیروکار کہنے والے نوجوان برہان وانی کو کیونکر مقبول بٹ کا متبادل مسئلہ کشمیر کاایک وکیل پیش کر رہا ہے۔ مقبول بٹ کے دن پر کیونکر میڈیا میں بلیک آؤٹ کیا جاتا ہے۔ یہ ملک ہمارا ہے، اس کی حفاظت ہم کریں گے، اس پر حکومت ہم کریں گے۔ اس مدعے کا کیا مقصد تھا اگر وہ مسلح جدوجہد کا مخالف تھا تو گنگا، کیوں ہائی جیک کیا۔۔میں نے دیکھا کہ میرے قائد کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں وہ روتے ہوئے کہتے ہیں میں نے کسی بھی غدار اور ایجنٹ نہیں کہا (ماسوائے انکے جو کھل کر آزادی کی مخالفت کرتے تھے) میں نے نفرتوں کے بجائے محبت کی کہانی ہر ایک کو سنائی تم کیسے ہوایک دوسرے کو ایجنٹ غدار منافق کہہ رہے ہو تم میں اتنی ہمت نہیں دیکھی کہ میرا نام بھی لیا ہو اور کھل کر تقسیم کشمیر روکنے اپنا کردار ادا نہیں کیا۔جب 5اگست 2019 کو بھارت نے ایک سخت گیر فیصلہ کیا تو تیرے نام لیواؤں کی اکثریت مصلحت اور خاموشی میں چلی گئی۔ فروری کی شروعات ہوئیں تو اسلام آباد نے کھل کر یہ تو کہا کہ آزاد کشمیر کو پاکستان میں ضم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں لیکن جب شمالی کشمیر (GB) کی آئینی حیثیت کا سوال کیا گیا تو عجیب سی خاموشی دکھلائی گئی۔ جو اصل میں کچھ اور پیغام تھا لیکن تیرے نام لیوا اس پر بھی چپ ہیں انہیں محکمہ موسمیات کی طرف سے GB کو پاکستان کا حصہ کہنے اور دکھانے اور کشمیر کو الگ الگ دکھانے کا موقف بھی مردہ ضمیر جگانے پر مجبور نہ کر سکا۔ مقبول بٹ آج بھی عالم، ارواح سے پیغام دے رہا ہے۔ میرے نعرے لگاتے ہو اوراسلام آباد سے وظیفے بھی لیتے ہو بہت اصول والو! افسوس کہ میرے عمل سے تم نے سبق نہیں سیکھا۔ دہلی اور اسلام آباد سے وظیفے بھی لیے جا رہے ہو اور ہاؤس رینٹ بھی۔ کہیں کہیں انا پرستی بھی اتنی جتنی دشمنی بھی نہیں بنتی۔ بیرونی ممالک اندرون پاکستان اور اندرون ہندوستان سفر کے لیے ہوائی ٹکٹ بھی لیے جاتے ہیں سفری اخراجات کی وصولی بھی انہی سے بنک بیلنس بھی بڑھائے گئے محل مارکیٹں اور گاڑیاں بھی خریدی جا رہی ہیں غیر نظریاتی لو گوں کو سیاسی پناہ دلوانے معمولی مفادات کے عوض تیرے کارواں کا سپاہی بنا کر اقوام عالم کے آگے پیش کیا جاتا ہے اور تجھ سے وفا ایسی کہ بے وفائی کو بھی مات دے دی۔ تو سیدھا سادہ بلکہ عام سا Freedom Fighter تھا۔مقبول بٹ تیرے نام سے آج تحریک آزاد ی کشمیر کی پہچان ہے۔ تیری اولاد، موروثیت پر اس تحریک کی قیادت کرنے بھی انکاری ہے۔ تیرا لخت جگر برطانیہ میں دیہاڑی داری کر رہا ہے۔ تیری قوم پرستی کا یہ عالم ہے کہ 41سال گزرنے کے باوجود تہاڑ جیل دہلی میں غیر مسلم قیدی 11فروری کو تجھے خراج عقیدت پیش کرنے موم بتیاں جلا تے ہیں تو مسلمان قیدی، جنت میں بالا خانے میں جگہ ملنے دُعاہیہ تقاریر کرتے ہیں کہ تیری یہ عظمت آزادی کشمیر چاہنے والا غیر مسلم کشمیری بھی تجھے اپنا قومی ہیرو قرار دیتا ہے۔ مقبول بٹ تو سیدھا سادھا ایک آزاد ملک اور خود مختار حکومت کی مانگ کرنے والا Nationalist تھا۔ جیسے آج امریکہ کیخلاف لڑنے والے طالبان،Nationalistہیں، یا پھر ماضی میں مقبوبٹ کا روپ، چہ گویرا فیڈرل کاسترو نیلسن منڈیلہ،عمر مختار ملا عمر، امام خمینی،کرنل قذافی کا تھا۔ تیر ی عظمت کی دلیل یہ ہے کہ نیشنلزم کو غلاظت کہنے والے تجھے خراج عقیدت پیش کیے بغیرنہیں رہ سکتے۔وہ بھی کیسے تیرے پیروکار ہو چلے؟؟؟ تو ایسا انقلابی تھا جو اپنے مادر وطن پر قابض تمام غیر ملکیوں کو نکال کر انصاف پر مبنی خوشحال معاشرہ قائم کرنا چاہتا تھا کیا یہ تجھ سے منافقت نہیں تو نے جب یہ کہا کہ مذہب انسانی زندگی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے تو ہم تجھے لیڈر ماننے کے بعد مذہب کو زاتی فعل قرار دیتے ہیں میرے خدا مجھے دوستوں سے بچا
دشمن سے میں خود نبٹ لوں گا۔
آج کے دن احتساب کر کے مقبول بٹ کی تقلید کا عہد کرنا چاہیے جس کی صرف ایک صورت ہے کہ گریبان میں جھانکا جائے کہ کیا ہم بھی مقبول بٹ کی طرح، پختہ عقیدے والے مسلمان بھی ہیں کہ نہیں؟ اور کہیں شعوری یا غیر شعوری کسی قابض کے آلہ کار تو نہیں۔ اس حیثیت کے ساتھ مسلسل جدوجہد کی جائے۔مقبول بٹ تیرے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا اعزاز ہو گا کہ پھانسی چڑھتے کشمیر کی آزادی کا جو نعرہ تو نے لگایا تھا وہ آج لاہور اور اسلام آباد سے لے کر سارے بھارت میں کشمیر کے حق میں لگایا جارہا ہے۔ جو خلوص سے مسلسل جدوجہد کرے گا وہ نہ کارکنوں کے سامنے ذلیل ہو گا نہ پس منظر میں جائے گا بلکہ وہ عارف شاہد کی طرح باوقار موت پا کر سرِ دار ٹھرے مقبول بٹ تیرے لئے شفیق سلیمی کا یہ شعر ہی شائد سب کچھ کا احاطہ کیے ہے،۔
اے میرے دوست مجھے دیکھ میں ہارا تو نہیں بچ
میرا سر بھی تو پڑا ہے میری دستار کے ساتھ
واپس کریں