
بخدمت جناب چیف صاحب!!!
جناب عالی!!!
مودبانہ گزارش ہے کہ فدوی شروع دن سے فوج کا انتہائی تابع فرمان (73سالہ) بچہ ہے۔ فدوی نے آرمی چیف ضیا الحق صاحب کے کہنے پر کرکٹ سے اپنی ریٹائرمنٹ واپس لی تھی۔ پھر جنرل حمید گل صاحب کی سرپرستی میں سیاست کا آغاز کیا تھا۔ ویڈیو ریکارڈ سے تصدیق کی جا سکتی ہے کہ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے ریفرنڈم میں صف اول کا سپاہی اور چیف پولنگ ایجنٹ رہا ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے علاوہ جنرل پاشا، جنرل ظہیر الاسلام میری غیر مشروط تابعداری اور برخوداری کی گواہی دے سکتے ہیں۔
جناب عالی!
انتہائی عاجزانہ گزارش ہے کہ فدوی نے سیاست دانوں کے خلاف تندوتیز لہجہ اور بھڑکیں بھی جنرل فیض اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی فرمائش پر مارنا شروع کیں تھیں۔ ساری بیوروکریس اور میڈیا سے قسم دے کر تصدیق کی جا سکتی ہے کہ میں نے وزیر اعظم بننے کے بعد جنرل فیض اور جنرل باجوہ کی تابعداری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ آپ اُس دور کے اخبار کے کارٹونز سے لے کر سہیل وڑائج کی کتاب کے ٹائٹل سے بھی اندازہ کر سکتے ہیں۔ کہ میں نے اُس وقت کے آرمی چیف کی تابع فرمانی میں ہر طرح کی رسوائی کو بھی تمغہ امتیاز سمجھا تھا۔
حضور والا! بعد میں جو کچھ بھی ہوا، اُس میں بھی حقیقتا اصل غلطی فدوی کی نہیں ہے۔ فدوی حسبِ سابق جنرل فیض کے اشاروں پر ہی ناچ رہا تھا۔ فدوی کا قصورصرف اتنا سا ہے کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ کس موقعہ پر جنرل فیض نے ادارے کی پالیسی کو چھوڑ کر اپنی ذاتی منشا پر فدوی سے کام لینا شروع کر دیا تھا۔ اگر حقیقت میں ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچا جائے تو یہ بھی فدوی کی غیر مشروط بلکہ آنکھیں بند کر کے تابعداری کرنے کا ہی ثبوت ہے۔
جنابِ عالی! دست بدستہ گزارش ہے کہ اب فدوی کی آنکھیں کھل چکی ہیں۔ جنرل فیض کے خلاف کورٹ مارشل کی کاروائی شروع ہونے کے بعد فدوی کو اپنی غلطیوں کی شدت اور سنگینی کا احساس ہو چکا ہے۔
التماس ہے کہ پالیسیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے فدوی کو ایک موقعہ دیا جائے۔ آپ فدوی کو روئے زمین کی سب سے تابع فرمان مخلوق پائیں گے۔ تمام اہل یوتھ پھر سے ففتھ جنریشن وار فئیر کی سپاہ ہونگے۔ غـزہ میں حـماس کی فتح سے لے کر چین کے سکستھ جنریشن لڑاکا جہاز کو "مار خور" کے کارنامے باور کرانے کے لیے دن رات ایک کر دیں گے۔ آپ کے مخالفین کو دن رات گالیاں دیں گے۔ آپ کے لیے بھی "شکریہ" اور "جانے کی باتیں جانے دو" والے بینر ہر گلی اور سڑک پر آویزاں کریں گے۔
تھوڑے لکھے کو زیادہ جانیں۔۔ صرف ایک بار معافی چانس اور چانس کا سوال ہے۔
بقول شاعر ۔۔۔
میری عاجزی کو قبول کر ۔۔۔
میری زندگی کا سوال ہے۔
کسی دردمند کے کام آ،
کِسی ڈوُبتے کو اُچھال دے،
یہ نِگاہِ مست کی مستِیاں،
کسی بدنصیب پہ ڈال دے.
ہوتیراجُنوں مجھے پھر”عطا“، مجھے"اڈیالہ" سے نِکال دے!!!
عــــــــــــرضــــے نیاز مند
قیدی نمبر 804
واپس کریں