امریکی افواج کے انخلا کے دوران تقریباً 3 لاکھ جدید امریکی ہتھیار افغانستان میں موجود تھے

افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال ہونے کا انکشاف۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد چھوڑا گیا جدید اسلحہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہا ہے، جو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بی ایل اے کے دہشت گرد امریکی ساختہ رائفلز، مشین گنز اور سنائپر ہتھیار استعمال کر رہے ہیں، جس کے باعث دہشت گرد حملوں کی نوعیت اور شدت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ اسلحہ نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک کے لیے سنگین سکیورٹی خطرہ بن چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ ہتھیار ابتدا میں سابق افغان فوج کی صلاحیت بڑھانے کے لیے فراہم کیے گئے تھے، تاہم امریکی افواج کے انخلا کے وقت یہ اسلحہ بڑی مقدار میں افغانستان میں چھوڑ دیا گیا۔ افغانستان کی تعمیر نو سے متعلق امریکی ادارے سگار کے سابق سربراہ جان سوپکو کے مطابق انخلا کے وقت تقریباً تین لاکھ جدید امریکی ہتھیار افغانستان میں موجود تھے۔ سی این این کے مطابق ان ہتھیاروں تک دہشت گرد تنظیموں کی رسائی نے دہشت گرد حملوں کو زیادہ منظم، مہلک اور تکنیکی طور پر پیچیدہ بنا دیا ہے، جسے چین، ایران اور پاکستان کے لیے خصوصی خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اگست 2025ء میں امریکہ نے بی ایل اے کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔پاکستانی سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں سے برآمد ہونے والے امریکی مہر لگے ہتھیار سی این این کے نمائندوں کو دکھائے، اور جنوبی وزیرستان و بلوچستان میں ہونے والے متعدد حملوں میں یہی جدید امریکی اسلحہ استعمال ہوا۔ سی این این کی طرف سے کیا جانے والا یہ کوئی نیا انکشاف نہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بھی متعدد رپورٹس سامنے آ چکی ہیں جن میں واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان میں سب سے بڑا دہشت گرد نیٹ ورک تحریک طالبان ہے، جسے طالبان حکومت کی سرپرستی حاصل ہے، اور یہی نیٹ ورک پاکستان میں دہشت گردی کے لیے امریکہ کا چھوڑا گیا اسلحہ استعمال کر رہا ہے۔
افغانستان کی تعمیر نو سے متعلق امریکی ادارے سگار کے سابق سربراہ جان سوپکو کے مطابق امریکی افواج کے انخلا کے دوران تقریباً 3 لاکھ جدید امریکی ہتھیار افغانستان میں موجود تھے۔
سی این این کے مطابق ان ہتھیاروں تک دہشت گرد تنظیموں کی رسائی نے دہشت گرد حملوں کی نوعیت اور شدت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال چین، ایران اور پاکستان کیلئے خصوصی طور پر خطرناک سمجھی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گرد امریکی ساختہ جدید رائفلز، مشین گنز اور اسنائپر ہتھیار استعمال کر رہے ہیں، دہشت گردوں کے زیر استعمال ہتھیاروں میں M-4، M-16، M-249 مشین گنز،Remington اسنائپر رائفلز اور نائٹ وژن ڈیوائسز شامل ہیں۔
واپس کریں