افضل گورو شہید ، تختہ دار سے تاریخ کے افق تک، مزاحمت کی ایک لازوال داستان

(تحریر: نجیب الغفور خان، جموں و کشمیر لبریشن سیل)9 فروری کو شہید محمد افضل گورو اور 11 فروری کو شہید محمد مقبول بٹ کا یومِ شہادت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے ۔فروری کا مہینہ تحریکِ آزادیِ جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایک منفرد اور گہرے کرب کا حامل ہے، یہ وہ مہینہ ہے جب وادی کے دو عظیم سپوتوں، شہیدِ عزیمت محمد افضل گورو اور شہیدِ وطن محمد مقبول بٹ کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ 9 فروری کو افضل گورو اور 11 فروری کو مقبول بٹ کا یومِ شہادت دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری اس عزم کے ساتھ مناتے ہیں کہ ان شہداء نے تہاڑ جیل کے تاریک زندانوں میں تختہ دار کو چوم کر آزادی کے جن چراغوں کو اپنے لہو سے روشن کیا تھا، انہیں کبھی بجھنے نہیں دیا جائے گا۔ 30 جون 1969 کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے سوپور میں پیدا ہونے والے محمد افضل گورو ایک غیر معمولی ذہین اور ہونہار طالب علم تھے جن کی زندگی علم، فن اور فلسفہِ مزاحمت سے عبارت تھی۔ افضل گورو کی سوچ میں پہلی بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب 1990 میں سری نگر کے علاقے چھانہ پورہ میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں خواتین کی عصمت دری کا المناک واقعہ پیش آیا۔ اس وقت میڈیکل کالج کے تھرڈ ایئر میں زیرِ تعلیم افضل گورو کو اس دردناک واقعے نے ہلا کر رکھ دیا اور وہ تعلیم چھوڑ کر تحریک کا حصہ بن گئے، اگرچہ علم کی پیاس انہیں دوبارہ دہلی یونیورسٹی لے گئی جہاں انہوں نے ایم اے اکنامکس کیا اور بینک آف امریکہ میں ملازمت اختیار کی، مگر بھارتی قابض فورسز کے ظلم و جبر نے ان کو عملی طور پر تحریک آزادی کشمیر سے وابستہ کر دیا۔
تحریکِ آزادی کے اس سفر میں افضل گورو کا نقشِ قدم درحقیقت اسی راہِ عزیمت کا تسلسل تھا جس کی بنیاد شہدائے کشمیر نے رکھی تھی۔ افضل گورو اور مقبول بٹ کے درمیان تہاڑ جیل کا مشترکہ زندان اور میتوں کی عدم حوالگی کا ظلم یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت ان کے جسدِ خاکی سے آج بھی خوفزدہ ہے، مگر وہ یہ بھول گیا ہے کہ یہ شہداء مٹی میں دفن ہو کر بھی کشمیریوں کی رگوں میں دوڑتے لہو کی صورت آج بھی زندہ ہیں۔
افضل گورو کو 13 دسمبر 2001 کے بھارتی پارلیمنٹ حملے کے الزامات کے تحت 15 دسمبر کو سوپور جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا، جس کے بعد دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر ایس اے آر گیلانی اور دیگر ساتھیوں کو بھی پابندِ سلاسل کر دیا گیا۔ دسمبر 2002 میں ذیلی عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی، جس پر بعد ازاں ہائیکورٹ نے پروفیسر گیلانی کو بری کیا اور سپریم کورٹ نے شوکت گورو کی سزا کو قید میں بدلا، مگر افضل گورو کے لیے سزائے موت کا حکم برقرار رکھا گیا۔ یہ بھارتی عدلیہ کی تاریخ کا سب سے سیاہ باب ہے جس میں سپریم کورٹ نے اعتراف کیا کہ براہِ راست الزامات ثابت نہ ہونے کے باوجود محض "بھارتی عوام کے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے" انہیں موت کی سزا دی جا رہی ہے۔ سزا کے لئے ابتدائی طور پر 20 اکتوبر 2006 کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، لیکن ان کی اہلیہ کی جانب سے صدرِ بھارت کو دی گئی رحم کی اپیل کے باعث یہ معاملہ طویل عرصہ زیرِ التوا رہا۔ بالآخر 2012 میں آخری اپیل مسترد ہونے کے بعد، 9 فروری 2013 کی صبح انہیں نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں 11 سال، ایک ماہ اور 25 دن کی قید کے بعد انتہائی خفیہ طریقے سے شہید کر کے جیل کے احاطے میں ہی دفن کردیا گیا۔
افضل گورو کی شہادت نے تحریکِ آزادی میں نہ صرف نیا جوش پیدا کیا ہے بلکہ بھارت کے نام نہاد جمہوری اور عدالتی نظام کو بھی عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔ تہاڑ جیل کے سابق پی آر او سنیل گپتا کی گواہی کہ افضل گورو پھانسی کے وقت نہایت مطمئن تھے، اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کسی جرم کی نہیں بلکہ کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی سزا پا رہے تھے۔ بھارت جو دنیا کے سامنے جمہوریت کا چیمپیئن بنتا ہے، درحقیقت وہاں کا عدالتی نظام انتہا پسند ہندوتوا سوچ کا یرغمال بن چکا ہے جہاں پی ایچ ڈی اسکالرز اور اعلیٰ تعلیم یافتہ کشمیری نوجوانوں کو "عدالتی قتل" کے ذریعے ختم کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کے غیر منصفانہ اقدامات سے تحریک آزادی میں نیا جوش اور ولولہ پیدا ہوتا ہے اور کشمیریوں کا یہ یقین پختہ ہو جاتا ہے کہ حقِ خودارادیت ان کا پیدائشی حق ہے جسے بھارت کے انتہا پسندانہ فیصلے نہیں چھین سکتے۔
افضل گورو اور مقبول بٹ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک سوچ اور بیداریِ نو کا عنوان تھے، جنہوں نے 09 اور 11 فروری 1984 کو تہاڑ جیل میں ہی تختہ دار پر چڑھ کر کشمیریوں کو یہ پیغام دیا کہ غلامی کی زندگی سے آزادی کی موت ہزار درجہ بہتر ہے۔ انہوں نے تحریکِ آزادی کو سیاسی اور نظریاتی شعور عطا کیا اور اپنی شہادت سے یہ ثابت کر دیا کہ جس نظریے کو خون مل جائے، اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ افضل گورو اور مقبول بٹ کی قربانی نے کشمیری نوجوانوں کے دلوں میں وہ چنگاری روشن کی جو آج ایک شعلہ بن کر غاصب بھارت کے ایوانوں کو لرزا رہی ہے۔
تحریکِ آزادیِ جموں و کشمیر کے لیے مقبول بٹ، افضل گورو اور دیگر لاکھوں شہداء کی قربانیاں ایک ایسی مشعلِ راہ ہیں جو ہر آنے والی نسل کو منزل کی طرف گامزن رکھتی ہیں۔
جموں وکشمیر لبریشن سیل نے ہر سال کی طرح امسال بھی محمد افضل گورو اور دیگر شہداء کے حوالے سے خصوصی پروگرامات ترتیب دئیے ہیں، جبکہ مسئلہ جموں کشمیر کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی میں اضافے کی غرض سے ریلیوں، لیکچرز، طلباء آگاہی مہم اور ای-لابنگ کمپین سمیت مختلف کوششیں کی جا رہی ہیں۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں ہر کشمیری نوجوان ایک سفیر کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے نوجوانوں کو چاہیے کہ سوشل میڈیا کے محاذ پر بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کریں اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فورسز کے مظالم کو دنیا کے ہر فورم تک پہنچائیں۔ کشمیریوں خصوصاً نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ جموں و کشمیر لبریشن سیل کے سوشل میڈیا پیجز کو فالو کرتے ہوئے ٹویٹر، فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعے عالمی برادری تک اپنی آواز پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ آج اس اہم دن کشمیری عوام یہ عزم کرتے ہیں کہ افضل گورو اور مقبول بٹ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، بھارت کو ایک نہ ایک دن کشمیریوں سے کیے گئے وعدے پورے کرنے ہوں گے اور انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دینا ہوگا، جس کے لیے لاکھوں کشمیری آج بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔
واپس کریں