دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
شنواری نوجوان کا قاتل کون ہے؟طاہر سواتی
No image لنڈی کوتل کے ایک نوجوان، کیپٹن عباس شنواری، تیراہ میں ایک چیک پوسٹ پر حملے کے دوران شہید ہو گئے ہیں۔وہ ایک غریب دکاندار کے بیٹے تھے۔ ان کی نمازِ جنازہ میں کور کمانڈر پشاور اور وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے مشترکہ طور پر شرکت کی۔
اب کوئی اس عمرانڈو آفریدی سے پوچھے کہ اس شنواری نوجوان کا قاتل کون ہے؟
اگر اب بھی ان کے قاتلوں کے خلاف آپریشن نہیں کرنا تو پھر کیا کرنا ہے؟
کل عاصمہ شیرازی کے پروگرام میں شیر افضل مروت نے ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا۔ مروت نے لائیو شو میں بتایا کہ:
“جب توشہ خانہ ٹو میں جس ہار پر کیس چل رہا تھا، اس کے بارے میں میں نے بطور وکیل عمران خان سے کہا کہ ہار واپس کر کے جان چھڑا لیتے ہیں۔ انہوں نے اتفاق کیا اور مجھے بشریٰ بی بی کے پاس بھیجا۔ بشریٰ بی بی نے بتایا کہ ہار عمران خان کی ایک رشتہ دار لے گئی تھی اور وہ اسی کے پاس ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ہار علیمہ خان کے پاس ہے، اور عمران خان کو بھی اس کا علم ہے۔”
اسی پروگرام میں مشال یوسفزئی نے تصدیق کی کہ:
“میں بشریٰ بی بی کی ترجمان تھی۔ میں کنفرم کر سکتی ہوں کہ ہار بشریٰ بی بی کے پاس نہیں ہے۔ لیکن وہ خاموش ہیں۔”
اب سمجھ آئی کہ یہ گھوسٹ سسٹرز ہر شام اڈیالہ میں تماشہ کیوں لگائے بیٹھی ہوتی ہیں۔
ویسے اکرام اللہ نیازی کی اولاد میں سے کوئی رزقِ حلال کھانے والا بھی ہے؟
سی این این نے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد چھوڑا گیا جدید امریکی اسلحہ اب پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
یہ اسلحہ سابق افغان فوج کی صلاحیت بڑھانے کے لیے دیا گیا تھا، مگر انخلا کے وقت تقریباً تین لاکھ امریکی ہتھیار افغانستان میں چھوڑ دیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق یہ اسلحہ پاکستان کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی خطرہ بن چکا ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں، خصوصاً ٹی ٹی پی اور بی ایل اے، امریکی ساختہ M-4، M-16، M-249 مشین گنز، اسنائپر رائفلز اور نائٹ وژن ڈیوائسز استعمال کر رہی ہیں، جس کے باعث حملوں کی شدت اور مہلک نوعیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
سی این این کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں سے برآمد ہونے والے امریکی مہر شدہ ہتھیار بھی میڈیا کو دکھائے ہیں۔ ان ہتھیاروں کی دستیابی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکی ہے، خاص طور پر جنوبی وزیرستان اور بلوچستان میں۔
ایران — تازہ صورتحال:
بدھ کے روز ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات منسوخ کر دیے گئے تھے۔
بنیادی طور پر ایران کا مطالبہ تھا کہ بات چیت صرف جوہری معاملے تک محدود ہو، عمان میں ہو، اور کسی تیسرے ملک کو شامل نہ کیا جائے، جبکہ امریکا بیلسٹک میزائلوں، خطے میں ایرانی پراکسیز اور دیگر اضافی امور پر بھی گفتگو کرنا چاہتا تھا۔
بعد ازاں صدر ٹرمپ سے میڈیا نے سوال کیا کہ کیا اب سپریم لیڈر کو گھبرانے کی ضرورت ہے؟
اس پر ٹرمپ کا جواب تھا:
“گھبرانے کی نہیں، بہت زیادہ گھبرانے کی ضرورت ہے۔”
تاہم بعد میں کم از کم نو عرب اور مسلم ممالک کے رہنماؤں نے صدر ٹرمپ سے درخواست کی کہ مذاکرات منسوخ نہ کیے جائیں اور ایران کا مؤقف سنا جائے۔ ان سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جمعے کو عمان میں ہونے والے ایران کے جوہری مذاکرات دوبارہ بحال ہو گئے ہیں، اور اب ایرانی وزیرِ خارجہ جمعے کے روز امریکی نمائندوں سے بات چیت کریں گے۔
دوسری جانب جرمنی میں اسپانگڈاہلم ایئر بیس نے مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھتی ہوئی نقل و حرکت کے پیشِ نظر بلا تعطل 24/7 آپریشن شروع کر دیا ہے۔
واپس کریں