
دو دن قبل اسلامآباد کے کھنہ پل کے علاقے ترلائی میں مسجد خدیجہ الکبریٰ میں جب نماز جمعہ کے دوران پہلی رکعت پڑھ کر نمازی سجدے میں گئے تو زوردار دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں 31 نمازی شہید اور ڈیڑھ سو کے قریب زخمی ہوگئے۔
خودکش حملہآور کوئی کافر نہیں بلکہ ایک سچا اور پکا مسلمان تھا۔ 26 سالہ اس نوجوان کا نام یاسر خان ولد بہادر خان اور پتا شیرو جنگی، چارسدہ روڈ، محلہ عباس کالونی، پشاور بتایا جاتا ہے۔ اس کی ابتدائی فکری تربیت اپنے علاقے کے جید علما نے کی اور پھر یہ اعلیٰ پیشہورانہ تربیت کے لیے افغانستان چلا گیا، جہاں عسکری تربیت کے ساتھ ساتھ اس کے نظریاتی سوچ میں مزید پختگی آئی اور وہ روئے زمین کو شیعیوں کے ناپاک وجود سے پاک کرنے کے مشن پر نکلا۔ موبائل کی جیو ٹریسنگ سے پتہ چلتا ہے کہ موصوف 27 جون سے اکتوبر تک باجوڑ میں مقیم رہا اور پھر اپنے مشن کے سلسلے میں حکیمآباد نوشہرہ آگیا۔
اس کے بہنوئی عثمان کو کراچی سے گرفتار کیا گیا، اس کے بھائی بلال اور ناصر پشاور سے گرفتار ہوچکے ہیں۔ اس کی والدہ کو اسلامآباد کے پوش سیکٹر کے گھر سے گرفتار کیا گیا ہے۔
جب انٹلیجنس معلومات کی بنیاد پر اس کے ماسٹر مائنڈ کی تلاش میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حکیمآباد نوشہرہ میں سرچ آپریشن شروع کیا تو اس کے ساتھیوں نے انٹیلیجنس اور پولیس ٹیم پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پولیس کے سب انسپکٹر اعجاز خان شہید ہوگئے، جبکہ اےایسآئی شیر خان، کانسٹیبل حضرت علی اور انٹیلیجنس کا ایک اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ مقابلے میں ایک دہشتگرد مارا گیا، جبکہ افغانی ماسٹر مائنڈ زندہ گرفتار ہوچکا ہے۔
ایک بار پھر بتاتے چلیں کہ یہ نہ پہلا واقعہ ہے اور نہ آخری۔ ستر کی دہائی میں پاکستان کے تعلیمی اداروں اور مدارس میں اس ذہنیت کی آبیاری کی گئی۔ ماسٹر مائنڈ امریکی، دولت سعودی اور عملی جامہ ہمارے مہربانوں نے پہنایا، تاکہ سوویت یونین کا راستہ روکا جاسکے۔ روس چلا گیا، پھر امریکہ آیا، وہ بھی رفوچکر ہوا۔ آخر ہماری اسٹیبلشمنٹ بھی ان ناکام تجربات کے بعد توبہتائب ہوگئی۔ لیکن وہ سوچ ہمارے مدارس میں آج بھی موجود ہے اور زوروشور سے پڑھائی جاتی ہے۔ اگر کوئی اسے تبدیل کرنے کی بات کرے تو اسے دین اسلام کے خلاف کفار کی سازش سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ فضلالرحمان کی قیادت میں سارے مولوی اس کے خلاف کمربستہ ہوجاتے ہیں۔ یہودونصاریٰ تو پیسہ اور اسلحہ دے سکتے ہیں، لیکن اس دہشت گردی کی افرادی قوت تو ہمارے مدارس اور دینی طبقہ مہیا کررہے ہیں۔ آج تک کوئی کافر مسلمانوں کے خلاف خودکش حملے میں ملوث نہیں پایا گیا۔
یہ سر تن سے جدا کرنے والے، زندہ انسان کو جلانے والے، مخالف عبادتگاہوں اور قبروں کو مسمار کرنے والے، جہاد کے نام پر دنیا کو تباہ کرنے والے خودکش، داعش، طالبان، لبیک، القاعدہ، حماس اور دیگر سینکڑوں جہادی تنظیمیں سب مسلمان ہی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی کافر نہیں۔
بلکہ یہودونصاریٰ کی برکت ہے کہ آج انتہاپسند دیوبندی اور شیعہ مولوی باہم شیروشکر ہیں۔ دیوبندی عام بریلویوں کو مشرک اور بدعتی مانتے ہیں، لیکن ان میں تحریک لبیک کی طرح کوئی شدتپسند پیدا ہوجائے تو پھر پاکستان کیا، افغان طالبان کو بھی ان کے ساتھ ہمدردی پیدا ہوجاتی ہے۔ جھنگ اور کراچی میں مظلوم سنی اور شیعہ مسلمانوں کا خون بہانے والے سپاہ صحابہ اور سپاہ محمد کی تنظیموں نے کس کُوکھ سے جنم لیا تھا؟
کل یاسر نامی نوجوان جب اپنی زندگی داؤ پر لگا کر خودکش حملہ کررہا تھا تو اس کے ذہن میں پختہ ایمان کس نے بٹھایا کہ مرنے کے بعد میں جنت میں جاؤں گا اور یہ سارے جہنم میں جائیں گے؟ سوشل میڈیا پر ایک دیوبندی دانشور آج ایرانی مولویوں کی حمایت میں بڑھ چڑھ کر چہچہا رہے ہیں۔ آج سے کوئی سات سال قبل اس حضرت نے مجھے شیعوں کے خلاف بھرپور مہم چلانے کے لیے ایک مشترکہ پیج چلانے کی آفر کی تھی۔
یہ منافقت اور انتہاپسندی دونوں جانب کی مولویوں میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ ٹیٹیپی کے چالیس ہزار دہشتگردوں کو عمران، فیض اور باجوہ نے دوبارہ لاکر آباد کیا، لیکن شیعیوں کا سب سے بڑا انقلابی راجہ ناصر عباس آج بھی عمرانی فتنے کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
اور نیازی کے انقلابیوں کی منافقت دیکھیں،
جب دیکھا کہ بسنت کے نتیجے میں 8 فروری کااحتجاج پسمنظر میں چلا گیا، تو یہ کبھی تیراہ کے دربدر بچوں، کبھی بلوچستان میں بیایلاے کے حملوں کا چورن لاکر بسنت کو کینسل کرانے کے لیے مہم چلاتے رہے۔ لیکن کل جب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس واقعے کے بعد بسنت پر ہونے والی تمام تقریبات منسوخ کردیں (لیبرٹی چوک پر ہونے والا شو بھی منسوخ کردیا گیا)، اسی تحریک انصاف نے اعلان کیا کہ "ہمارا 8 فروری کا احتجاج حسب معمول جاری رہے گا"۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ حملہ تو فتنہ عمرانی کی سہولت کاری کے لیے کیا گیا تھا۔ کل اگر پیٹیآئی اپنا شو جاری رکھتی ہے تو کم از کم راجہ ناصر عباس کو تو اس موقع پر اس تحریک کو الوداع کہنا چاہیے، لیکن عمران کا یا رہو اور منافق نہ ہو، یہ ہونا ممکن نہیں۔
واپس کریں