محمد ریاض ایڈووکیٹ
شہروں کی اصل پہچان اب صرف ان کی آبادی، سڑکوں یا عمارتوں سے نہیں ہوتی بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہاں شہریوں کو کس قدر صاف، متوازن اور خوشگوار ماحول میسر ہے۔ جدید شہری ترقی میں سبزہ، پارکس، درخت اور کھلے مقامات کسی اضافی سہولت نہیں بلکہ بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔ اسی تناظر میں پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) جیسے ادارے کسی بھی شہر کے حسن اور ماحولیاتی توازن کے حقیقی نگہبان ہوتے ہیں۔
سرگودھا، جو زرعی حوالے سے پہلے ہی ایک نمایاں شہر ہے، حالیہ عرصے میں شہری خوبصورتی اور ماحولیاتی بہتری کے میدان میں بھی نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے محض منصوبے نہیں بلکہ ایک واضح وژن، مضبوط قیادت اور مسلسل محنت کارفرما ہے۔ جنوری 2025 میں جب چوہدری محمد ارشد نے بطور ڈائریکٹر جنرل پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی سرگودھا کی ذمہ داری سنبھالی تو انہوں نے ابتدا ہی سے اس امر کو ترجیح دی کہ شہر کو محدود وسائل میں زیادہ سے زیادہ سبز، منظم اور خوبصورت بنایا جائے۔
چوہدری محمد ارشد کی سب سے نمایاں خوبی ان کا فیلڈ میں متحرک ہونا اور عملی نگرانی ہے۔ وہ محض دفتر تک محدود نہیں رہے بلکہ پارکس، گرین بیلٹس، چوراہوں اور شجرکاری منصوبوں کا خود معائنہ کرتے رہے، متعلقہ عملے کو بروقت ہدایات دیں اور کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ قلیل مدت میں پی ایچ اے سرگودھا کی کارکردگی واضح طور پر نظر آنے لگی۔
جنوری 2025 سے اب تک شہر کے مختلف علاقوں میں متعدد پارکس کی بحالی اور تزئین و آرائش مکمل کی جا چکی ہے، جن میں انجینئر علی شہید پارک، ظفر کالونی پارک، جناح پارک سی بلاک، اقبال کالونی پارک، 32 بلاک پارک، سبھروال پارک، علی پارک، کمشنر کالونی پارک، سرگودھا پارک 31 بلاک، عثمان پارک، ٹاہلی چوک پارک، گوشۂ نور پارک اور 23 بلاک پارک شامل ہیں۔ اسی طرح بوٹینیکل گارڈن کے عقب میں واقع لان کو بھی ایک منظم اور خوبصورت عوامی مقام میں تبدیل کیا گیا۔
ان تمام پارکس میں نہ صرف گھاس، پھول اور درخت لگائے گئے بلکہ واکنگ ٹریکس، جدید لائٹنگ، آبپاشی کے بہتر نظام اور مجموعی صفائی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ ان اقدامات کا مقصد محض ظاہری خوبصورتی نہیں بلکہ شہریوں کو صحت مند سرگرمیوں کے لیے محفوظ اور معیاری ماحول فراہم کرنا تھا۔
شہر کے اہم چوراہوں اور سڑکوں کی تزئین و آرائش بھی پی ایچ اے سرگودھا کی نمایاں کامیابیوں میں شامل ہے۔ جھل چکیاں چوک، آزادی چوک، وارث شاہ چوک اور ڈیری روڈ پر واقع پکسل چوک کو جدید اور دلکش انداز میں سنوارا گیا، جبکہ شہر کی علامتی شناخت کے طور پر مارخور یادگار کی تنصیب ایک منفرد اور بامقصد قدم ثابت ہوئی، جس نے شہری حسن کو ایک نئی جہت دی۔
ماحولیاتی بہتری کے حوالے سے چوہدری محمد ارشد کی قیادت میں شجرکاری کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ "پاکستان کے لئے شجرکاری" مہم کے تحت شہر بھر کے پارکس، گرین بیلٹس، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر ہزاروں پودے اور درخت لگائے گئے۔ خاص طور پر ریلوے لائن گرین بیلٹ (78 پل سے طارق آباد پھاٹک تک)، نہر روڈ کے ساتھ 9 نمبر چونگی پر گرین بیلٹ، اور نواز شریف فلائی اوور کے نیچے گرین بیلٹ جیسے منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ غیر استعمال شدہ یا نظر انداز شدہ مقامات کو بھی خوبصورت اور مفید بنایا جا سکتا ہے۔
اینٹی سموگ ایکشن پلان کے تحت پودوں پر پانی کا چھڑکاؤ، سبز علاقوں کی مسلسل دیکھ بھال اور شجرکاری جیسے اقدامات کیے گئے، جو فضائی آلودگی میں کمی اور شہری صحت کے تحفظ میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
عوامی شمولیت اور ماحولیاتی شعور کے فروغ کے لیے فلورا فیسٹیول 2025 کا انعقاد بھی ایک قابلِ ستائش اقدام رہا۔ اس فیسٹیول نے نہ صرف پھولوں اور باغبانی کی اہمیت کو اجاگر کیا بلکہ شہریوں کو مثبت اور فیملی تفریح بھی فراہم کی۔
مزید برآں، پی ایچ اے سرگودھا نے شہری نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے بھی عملی اقدامات کیے۔ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر جرمانے اور تالہ بندی جیسے فیصلے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ادارہ صرف خوبصورتی تک محدود نہیں بلکہ قانون کی عملداری پر بھی یقین رکھتا ہے۔
فی الوقت یوسف پارک، وائی بلاک پارک، نرسریوں کی بہتری و اپ گریڈیشن، اور مزید گرین بیلٹس جیسے منصوبے زیرِ تکمیل ہیں، جو آنے والے وقت میں سرگودھا کو ایک مکمل ماحولیاتی ماڈل شہر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
اگر مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو چوہدری محمد ارشد کی قیادت میں پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی سرگودھا نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وژن، دیانت داری اور مسلسل محنت کے ذریعے شہری ماحول کو بدلا جا سکتا ہے۔ یہ ایک خاموش مگر مؤثر سبز انقلاب ہے، جو سرگودھا کے شہریوں کے لیے بہتر زندگی اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ ماحول کی ضمانت بن رہا ہے۔ سرگودھا کی خوبصورتی اور سبزہ کاری بڑھانے کے لیے مشینری کی جدیدیت، افرادی قوت کی توسیع اور مالی وسائل کی فراہمی ضروری ہے۔ زمین کی تیاری، پانی اور روشنی کے نظام کے لیے جدید آلات فراہم کیے جائیں، تربیت یافتہ عملہ بڑھایا جائے، اور نئے پارکس و گرین بیلٹس قائم کیے جائیں۔ شہری سہولیات جیسے واکنگ ٹریک، بیٹھکیں اور پانی کے انتظامات بہتر کیے جائیں۔ اس سے شہر کی سرسبزی، ماحولیاتی بہتری اور معیارِ زندگی میں اضافہ ہوگا اور سرگودھا کی خوبصورتی لاہور کے برابر یا اس سے آگے پہنچ سکتی ہے۔
واپس کریں