دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سلامتی کونسل میں پکار، اندرونِ خانہ خاموشی
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں پاکستان کی جانب سے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ محض ایک سفارتی قدم نہیں، بلکہ یہ اس تلخ حقیقت کا اعتراف بھی ہے کہ دہشت گردی آج بھی پاکستان کی سلامتی، معیشت اور سماجی ہم آہنگی کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے دہشت گردی سے عالمی امن کو لاحق خطرات پر اپنے خطاب میں واضح کیا کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور کالعدم بی ایل اے نے دوبارہ منظم ہو کر سر اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق یہ گروہ افغان سرزمین سے تقریباً مکمل استثنیٰ کے ساتھ کارروائیاں کرتے ہوئے پاکستان کے اندر سنگین اور سفاک دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار ہیں۔اسی تناظر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایسے میں سلامتی کونسل سے بی ایل اے کو عالمی پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ نہ صرف منطقی بلکہ ناگزیر معلوم ہوتا ہے۔ تاہم، اس درخواست کے دور رس سفارتی اور سیاسی نتائج بھی ہوں گے۔ خاص طور پر سلامتی کونسل کے مستقل اراکین، بالخصوص امریکہ، کا کردار ایک بار پھر کڑی آزمائش میں ہوگا۔ یہ سوال پوری شدت سے موجود ہے کہ آیا عالمی طاقتیں پاکستان کے مؤقف کی حمایت کریں گی یا حسبِ روایت سیاسی مفادات انسانی جانوں پر سبقت لے جائیں گے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ اصل سوال محض نیویارک کے ایوانوں تک محدود نہیں۔ اصل امتحان اسلام آباد، لاہور،کوئٹہ، پشاور اور کراچی کی گلیوں میں ہے۔ یہ ایک تلخ اور تکلیف دہ تضاد ہے کہ پاکستان عالمی فورمز پر ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے کر ان کے خلاف آواز تو بلند کر رہا ہے، مگر ملک کے اندر انہی تنظیموں کے ہمدرد، سہولت کار اور بیانیہ ساز کھلے عام سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ وہ میڈیا ٹاک شوز میں بیٹھ کر ریاستِ پاکستان کی سلامتی پر سوال اٹھاتے ہیں، اخبارات اور سوشل میڈیا پر بیانات کے ذریعے دہشت گردی کے بیانیے کو جواز فراہم کرتے ہیں، اور اکثر انہیں کسی سنجیدہ قانونی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ چند مذہبی جماعتیں اور نام نہاد مذہبی پیشوا آج بھی ٹی ٹی پی کو خوارج تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ ان کا مؤقف یہ ہے کہ چونکہ ان کے نزدیک پاکستان ایک اسلامی ریاست نہیں، اس لیے پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کو خوارج قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ دلیل نہ صرف دینی تعلیمات کی من مانی اور خطرناک تشریح ہے بلکہ ریاستی رٹ، قومی سلامتی اور معاشرتی استحکام کے لیے بھی زہرِ قاتل ثابت ہو رہی ہے۔ اسی طرح بعض سیاسی جماعتیں بھی کھلے عام ان تنظیموں کو دہشت گرد ماننے سے انکار کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاقِ رائے شدید نقصان کا شکار ہے۔
یہاں یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ریاست واقعی اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کے حامیوں اور سہولت کاروں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے سے قاصر ہے؟ یا پھر یہ کمزوری دراصل ابہام، مصلحت پسندی اور دوہرے معیارات کا شاخسانہ ہے؟ اگر ریاست اقوامِ متحدہ میں جا کر بی ایل اے پر پابندی کا مطالبہ کر سکتی ہے، تو پھر اپنے ہی ملک میں ان تنظیموں کے حامی بیانیے کو برداشت کرنا کس منطق کے تحت جائز ہے؟
یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض بندوق اور بارود سے نہیں جیتی جا سکتی۔ یہ جنگ بیانیے کی بھی ہے، قانون کی بھی، اور اخلاقی جرات کی بھی۔ جب تک ریاست واضح، دوٹوک اور غیر مبہم فیصلہ نہیں کرے گی کہ دہشت گردی کی کسی بھی شکل میں حمایت ناقابلِ قبول ہے، چاہے وہ مذہب کے نام پر ہو، قوم پرستی کے نام پر یا سیاست کے پردے میں، تب تک عالمی سطح پر کی جانے والی تمام کوششیں ادھوری رہیں گی۔ دنیا بھی اسی وقت پاکستان کے مؤقف کو سنجیدگی سے لے گی جب وہ ملک کے اندر عملی اقدامات کی صورت میں نظر آئے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان ایک جامع، مربوط اور غیر مبہم حکمتِ عملی اختیار کرے۔ ایک طرف عالمی فورمز پر ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہوں کے خلاف بھرپور سفارت کاری کی جائے، اور دوسری طرف ملک کے اندر ان کے حامیوں، سہولت کاروں اور بیانیہ پھیلانے والوں کے خلاف بلا امتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ میڈیا ریگولیشن، سوشل میڈیا مانیٹرنگ، اور دہشت گردی کی حمایت پر مبنی مواد کے خلاف مؤثر قوانین کا نفاذ ناگزیر ہو چکا ہے۔ مذہبی اور سیاسی قیادت کو بھی یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے لیے کسی قسم کی نرمی یا ابہام قابلِ قبول نہیں۔
آخرکار، یہ جنگ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔ اگر اب بھی کنفیوژن، مصلحت اور دوہرے رویوں کو ترجیح دی گئی تو نہ سلامتی کونسل کی قراردادیں ہمیں بچا سکیں گی اور نہ ہی عالمی ہمدردیاں۔ ریاست کو مضبوط، واضح اور یکسو ہونا ہوگا، کیونکہ دہشت گردی کسی بھی شکل میں، کسی بھی جواز کے ساتھ ناقابلِ برداشت ہے۔
واپس کریں