مہمان کالم
ظلم یہ ہے کہ "جیفری ایپسٹن" کو صرف ایک "پیڈوفائل نیٹ ورک" چلانے والے کے طور پر باور کرایا جا رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری اور بھیانک ہے۔ یہ کوئی "جنسی جرائم کا اڈہ" نہیں تھا، بلکہ یہ تو سوشلائزیشن اور نیٹ ورکنگ کا ایک ایسا مرکز تھا، جہاں عالمی سطح کی ڈیلز ہوتی تھیں۔
اس نیٹ ورک کے بند کمروں میں ملکوں کی تقدیر کے فیصلے کیے جاتے تھے۔ یہاں بیٹھ کر طے کیا جاتا تھا کہ:
دنیا کی معاشی پالیسیاں کیا ہوں گی؟
کون سا ملک "اکنامک ٹائیگر" بنے گا اور کس کے وسائل کو غریب رکھ کر لوٹا جائے گا؟
کس کے ردِعمل کو "دہشت گردی" کا نام دینا ہے اور کس کی کھلی دہشت گردی کو "سیلف ڈیفنس" کہہ کر نظر انداز کرنا ہے؟
وغیرہ وغیرہ
اس شیطانی نیٹ ورک میں "پیڈوفیلیا" اور بچوں کی بَلی چڑھانا، تشدد جیسے قبیح اعمال تو در اصل "غیر مشروط وفاداری" کا اعلان ہیں۔ چونکہ مغرب میں یہ افعال سنگین قانونی اور سماجی جرم سمجھے جاتے ہیں، اس لیے انہیں سرانجام دے کر "عالمی لیڈرز" یہ ثابت کرتے ہیں۔ وہ "نیٹ ورک" کی خدمت کے لیے کسی بھی اخلاقی، سماجی یا قانونی بندش کو توڑنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ افعال دراصل اس گروہ میں شامل ہونے کی ایک "قیمت" ہے۔
یار رہے کہ عین "یہی طریقہ کار ہمارے ہاں بھی رائج ہے"، لیکن یہاں وفاداری ثابت کرنے کے لیے "توہینِ رسالت اور توہینِ قرآن" جیسے انتہائی خطرناک افعال کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ پھر ان کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے شیطانی نیٹ ورک سے اپنی غیر مشروط وفاداری کا اعلان کیا جاتا ہے۔
بلاسفہمی کے 99 فیصد کیسز اور ان مجرمان کے "محافظوں" کے تانے بانے اسی شیطانی گروہ سے ملتے ہیں۔
اگر آپ عالمی سطح پر "نوم چونسکی" اور "سٹیفن ہاکنگ" جیسے ناموں کو ایپسٹن کے ساتھ دیکھ کر حیران ہوئے ہیں، تو یاد رکھیں کہ اگر کبھی پاکستان میں موجود اس نیٹ ورک کے "مقامی چہرے" بے نقاب ہو جائیں، تو عوام کے اعصاب جواب دے جائیں گے۔
اس سچائی کو سمجھنا کوئی بہت زیادہ مشکل نہیں ہے۔
عدالتوں سے بلاسفہمی کے کسی بھی کیس کی فائل نکلوا کر خود پڑھ سکتے ہیں۔
مجرمان کی ڈیجیٹل ڈیوائسز کی فارنزک رپورٹس کا خود جائزہ لے سکتے ہیں۔
اگر کیس کی کاروائی خود سمجھنے میں دشواری ہو تو کسی جاننے والے وکیل سے رجوع کرلیں۔
یہ مطالعہ آپ پر وہ حقائق ظاہر کر دے گا جو عام آنکھ سے اوجھل ہیں۔
"جیفری ایپسٹن" اس سسٹم کی باوثوق ذرائع سے سامنے آنی والی صرف ایک جھلک ہے۔ اس کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔
اب یہ آپ منحصر ہے کہ اتنے واضع ثبوت سامنے آنے پر اس کی حقیقت سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، یا اس "شیطانی نیٹ ورک" / "عالمی استیبلشمنٹ" / "خفیہ حکومت" کو سازشی تھیوری کہہ کر مطمعن ہو جاتے ہیں۔
واپس کریں