دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جاپانی نسل ختم ہونے لگی: 90 لاکھ گھر خالی ضیاء چترالی
No image اب تک کا عالمی بیانیہ یہ تھا کہ “آبادی کا بڑھنا سب سے بڑا مسئلہ ہے” لیکن اب کہتے ہیں کہ آبادی کا گھٹ جانا اس سے بھی بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ بڑھتی آبادی اب عالمی سطح پر مسائل میں نہیں، وسائل میں شمار ہونے لگی ہے۔ دنیا کی بہت سی اقوام کم ترین شرح پیدائش کے مسئلے سے دوچار ہیں۔ جن میں ایشین ٹائیگر جاپان بھی ہے۔ جاپان آج دنیا کے سب سے بڑے آبادیاتی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب جاپان تیز رفتار صنعتی ترقی، مضبوط خاندانی نظام اور بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے جانا جاتا تھا۔ لیکن اب صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے، آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے، لوگ بوڑھے ہو رہے ہیں اور نوجوان شہر کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔
تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جاپان کی کل آبادی، بشمول غیر ملکیوں کے، تقریباً 123.8 ملین تک پہنچ چکی ہے، جو پچھلے سال سے 0.44 فیصد کم ہے۔
یہ گراوٹ مسلسل 14 سال سے جاری ہے۔ پچھلے سال صرف 686,061 بچے پیدا ہوئے، جو 1899ء کے بعد سب سے کم ترین تعداد ہے اور پہلی بار شرح ولادت 700,000 سے نیچے آئی۔ بچوں کی شرحِ پیدائش (fertility rate) صرف 1.15 ہے، یہ اُس سطح سے کہیں نیچے ہے جو آبادی کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے، جوکہ تقریباً 2.1 بچے فی خاتون ہوتی ہے۔ جاپان میں شادیاں کم ہو رہی ہیں۔
جاپان کے شہریوں میں تقریباً 30فیصد افراد 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے ہیں، یعنی ایک بہت بڑی عمر رسیدہ آبادی ہے۔ یہ معمر افراد چونکہ کما نہیں سکتے، اس لیے انہیں معاشی بوجھ سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ کام کرنے والی عمر کی آبادی گھٹ رہی ہے، جو معیشت، پینشن سسٹم اور صحت کی خدمات پر بہت بڑا بوجھ ہے۔
آبادی کم ہونے کا سب سے بڑا ثبوت “Akiya” نامی خالی مکانات کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ تقریباً 9 ملین (90 لاکھ) گھر جاپان میں خالی پڑے ہیں، یعنی ہر سات میں سے ایک گھر بھوت عمارت بنا ہوا ہے۔ یہ خالی مکانات نہ صرف دیہی علاقوں میں بلکہ ٹوکیو اور کیوٹو جیسے بڑے شہروں میں بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ سرکاری سروے کے مطابق خالی مکانات جاپان کے کل رہائشی مکانات کا لگ بھگ 13.8 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔
دیہی علاقوں میں، یہ رجحان بہت زیادہ ہے، جہاں پہلے آبادی مستحکم تھی، اب تقریبا ہر دوسرا گاؤں خالی یا سنسان ہوتا جا رہا ہے۔ نوجوان لوگ بہتر روزگار اور تعلیم کے لئے شہروں کا رخ کرتے ہیں، جس سے گاؤں بوڑھے افراد اور خالی مکانات تک محدود رہ جاتے ہیں۔ خالی مکانات کی قیمت بھی زمین ہوچکی ہے، یا تو مفت مل جاتے ہیں یا بہت ہی کم قیمت پر۔ کچھ قصبوں میں صرف مرمت کرنے کی شرط پر لوگوں کو مفت میں گھر دیئے جاتے ہیں۔ چونکہ مرمت اور دیکھ بھال کے اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں، اس لیے بھی کوئی لینے کو تیار نہیں ہوتا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان جاری رہا تو آبادی 2070ء تک تقریباً 87 ملین تک گر سکتی ہے۔ ہر تیسری عمارت خالی ہو سکتی ہے۔ یہ ان چیلنجز میں سے ہے جو جاپان کے مستقبل کو معاشی، معاشرتی اور حکومتی پالیسی کے لحاظ سے بدل رہے ہیں۔ جاپان کی آبادی صرف کم نہیں ہو رہی، بلکہ اس کا ڈھانچہ ہی تبدیل ہو رہا ہے۔ پیدائش کی کمی، معمر آبادی، خالی مکانات اور نوجوانوں کا شہروں میں جمع ہونا اس بحران کے واضح اشارے ہیں۔ اگر اس سمت میں مؤثر پالیسی نہ بنائی گئی تو جاپان کو مزدور قوت، تخلیقی آبادی اور معاشی تیزی کے لیے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
واپس کریں