پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا قیام۔ پنجاب میں جدت کے سفر کا نیا باب
محمد ریاض ایڈووکیٹ
پاکستان کو عموماً ایک زرعی ملک قرار دیا جاتا ہے، مگر یہ سوال کم ہی اٹھایا گیا کہ کیا ہم نے کبھی اس زرعی شناخت کے تقاضے پورے کیے؟ زراعت صرف فصل اگانے کا نام نہیں، بلکہ بیج، کھاد، زرعی ادویات، پانی، مٹی، خوراک اور بالآخر انسانی صحت کا ایک مکمل سائنسی سلسلہ ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس سلسلے کا سب سے کمزور پہلو معیار کی جانچ اور سائنسی نگرانی رہا ہے۔ پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (PAFDA) کا قیام اسی کمزوری کو دور کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، جو اگر درست سمت میں جاری رہی تو ریاستی نظام میں ایک بنیادی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے پاکستان کی پہلی پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا افتتاح محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ ریاست اب خوراک، زراعت اور ادویات کو روایتی انداز میں نہیں بلکہ جدید سائنس، ڈیٹا اور عالمی معیار کے مطابق ریگولیٹ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ افتتاح کے موقع پر جدید لیبارٹریز کا معائنہ، تکنیکی بریفنگ اور دستاویزی فلم کی نمائش دراصل اس ادارے کے پس منظر اور طویل جدوجہد کو اجاگر کرتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ خوراک اور زرعی ادویات کی نگرانی کے لیے ایسے ادارے کا قیام ناگزیر ہو چکا تھا۔ ان کا کراچی میں بیس سال قبل قائم ہونے والی لیبارٹری اور دوست ملک کی گرانٹ کے ضائع ہونے کا ذکر ہمارے اجتماعی ادارہ جاتی رویّوں پر ایک سخت مگر ضروری تبصرہ ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان میں مسئلہ وسائل یا نیت کی کمی نہیں بلکہ تسلسل، احتساب اور ادارہ جاتی سنجیدگی کا فقدان رہا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی گفتگو اس پورے منصوبے کو عوامی خدمت اور ریاستی اصلاحات کے بیانیے سے جوڑتی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود عالمی معیار کی ٹیسٹنگ لیب نہ ہونا لمحہ فکریہ تھا، ایک تلخ مگر سچی حقیقت ہے۔ برسوں تک کسان غیر معیاری کھاد اور زرعی زہروں کے باعث نقصان اٹھاتا رہا، صارف ملاوٹ شدہ اور مضر صحت خوراک استعمال کرتا رہا، جبکہ برآمد کنندہ عالمی منڈیوں میں معیار پر پورا نہ اترنے کے باعث بار بار مسترد ہوتا رہا۔
پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا قیام پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی ایکٹ 2016 کے تحت عمل میں آیا، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ کوئی وقتی یا جذباتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا ادارہ جاتی منصوبہ ہے۔ 2018 میں لاہور میں اسٹیٹ آف دی آرٹ مرکزی لیبارٹری کا آغاز، 2024 میں لیبارٹری انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (LIMS) کی تکمیل، 2025 میں تکنیکی عملے کی بھرتی و تربیت اور 2026 تک پنجاب کے بڑے اضلاع میں لیبارٹری نیٹ ورک کا فعال ہونا ایک واضح اور مرحلہ وار روڈ میپ کی عکاسی کرتا ہے۔
عالمی معیار کی ٹیسٹنگ سہولیات:
پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی صوبہ بھر میں خوراک، ادویات اور زرعی اجناس کے تحفظ اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے جدید ترین لیبارٹریز پر مشتمل ایک جامع نیٹ ورک چلائے گی۔ ان لیبارٹریز میں عالمی معیار کے جدید تجزیاتی آلات نصب کئے گئے ہیں اور یہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ سائنسدانوں اور تربیت یافتہ تکنیکی ماہرین خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ ہر لیبارٹری میں بین الاقوامی معیار کے مطابق سخت کوالٹی مینجمنٹ سسٹم نافذ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ہر ٹیسٹ کے نتائج نہ صرف درست بلکہ قابلِ اعتماد بھی ہوں گے۔ معمول کی کوالٹی چیکنگ سے لے کر پیچیدہ فرانزک تجزیوں تک، یہ لیبارٹری نیٹ ورک PAFDA کے ریگولیٹری کردار کی سائنسی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر کام کرے گا اور سخت جانچ اور تصدیق کے عمل کے ذریعے عوامی صحت کے مؤثر تحفظ کو یقینی بنائے گا۔ PAFDA کا وژن تجزیے اور معیار کی تصدیق میں“سینٹر آف ایکسی لینس”بننا ہے، جبکہ اس کا مشن عوامی صحت کا تحفظ، زرعی و صنعتی پیداوار میں اضافہ اور عالمی تجارت کو ممکن بنانا ہے۔ اعتماد، معیار اور جدت کو ادارے کی بنیادی اقدار قرار دینا دراصل اس خواہش کا اظہار ہے کہ یہ اتھارٹی روایتی سرکاری محکموں کے بجائے ایک جدید سائنسی ادارے کے طور پر کام کرے۔
اعداد و شمار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو چھ خصوصی لیبارٹریز، دو سو سے زائد تکنیکی ماہرین، روزانہ ایک ہزار سے زائد ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت اور 99.2 فیصد تجزیاتی درستگی ایک متاثر کن تصویر پیش کرتے ہیں۔ مگر اس تصویر کے پیچھے اصل طاقت وہ انفراسٹرکچر اور مشینری ہے جو عالمی معیار کے مطابق نصب کی گئی ہے۔
زراعتی ٹیسٹنگ لیبارٹری:
کسانوں، زرعی ماہرین اور پالیسی سازوں کے لیے ایک بنیادی سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہاں کھادوں کی غذائی ترکیب، خالصیت اور ملاوٹ کی جانچ، زرعی زہروں کے فعال اجزاء کی تصدیق، پانی کے معیار کی جانچ، مٹی اور پودوں کی صحت کا تجزیہ، بیجوں کی صحت اور اگاؤ، بایو پیسٹی سائیڈز اور بایو فرٹیلائزرز کے معیار کی جانچ شامل ہے۔ اس کے علاوہ خوراک، پانی اور زرعی اجزاء میں زرعی زہروں کی باقیات (Pesticide Residues) کی جانچ نہ صرف عوامی صحت بلکہ برآمدات کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
اس لیبارٹری میں LC-MS/MS (Triple Quadrupole)، Inductively Coupled Plasma–Mass Spectrometry، Atomic Absorption Spectrophotometer، Pyrolysis GC-MS، جدید GC، LC اور HPLC سسٹمز، اور Illumina MiSeq جیسے نیکسٹ جنریشن سیکوینسنگ پلیٹ فارمز موجود ہیں۔ یہ مشینری اس قابل بناتی ہے کہ زرعی اجزاء کی انتہائی باریک سطح پر جانچ کی جا سکے، جو عالمی معیار کے عین مطابق ہے۔
ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری:
عوامی صحت کے تحفظ میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان میں جعلی، غیر معیاری اور کم اثر رکھنے والی ادویات ایک سنگین مگر کم نظر آنے والا بحران ہیں۔ اس لیبارٹری میں ادویات، ویکسین، کاسمیٹکس، ہربل مصنوعات، میڈیکل ڈیوائسز اور نیوٹراسیوٹیکلز کے معیار، افادیت اور حفاظت کی جانچ کی جاتی ہے۔ ادویات میں ملاوٹ، باقیاتی سالوینٹس، مائیکروبیل آلودگی، شیلف لائف اور جعلی مصنوعات کی شناخت اس کے دائرہ کار میں شامل ہے۔
یہاں مائیکرو بایولوجیکل سیفٹی کیبنٹس، اینڈوٹاکسن ٹیسٹنگ سسٹمز، ڈیزولوشن اور ڈس انٹیگریشن ٹیسٹرز، UV-Visible اسپیکٹروفوٹومیٹرز، FTIR اسپیکٹروسکوپی اور PCR تھرمل سائیکلز جیسے جدید آلات نصب ہیں، جو پاکستان میں ادویات کے معیار کو بہتر بنانے میں سنگِ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔
فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری:
فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری PAFDA کا سب سے حساس اور عوامی سطح پر سب سے زیادہ اثر رکھنے والا شعبہ ہے، کیونکہ یہ براہِ راست 11 کروڑ سے زائد افراد کی روزمرہ خوراک سے متعلق ہے۔ یہاں خوراک میں کیمیائی آلودگی، زرعی زہروں کی باقیات، بھاری دھاتیں، غیر قانونی رنگ، فلیورز اور پریزرویٹوز کی جانچ کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جراثیمی آلودگی، غذائی اجزاء کی درست لیبلنگ، ملاوٹ، فوڈ فراڈ اور مصنوعات کی اصل حیثیت (Authenticity) کی تصدیق بھی کی جاتی ہے۔
HPLC، UHPLC، GC-MS/MS، LC-MS، ICP-OES، GC-QTOF MS/MS اور PCR جیسی جدید ٹیکنالوجیز خوراک کے ہر پہلو کو سائنسی بنیادوں پر جانچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ وہ سہولیات ہیں جو ترقی یافتہ ممالک میں فوڈ سیفٹی کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں۔
PAFDA میں لیبارٹری انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (LIMS) کا نفاذ ایک انقلابی قدم ہے، جو سیمپلز کی مکمل ٹریس ایبلٹی، چین آف کسٹڈی، شفاف رپورٹس اور ڈیجیٹل ریکارڈ کو یقینی بناتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ڈیجیٹل انقلاب اور میرٹ پر عدم سمجھوتے کا اعلان اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک امتحان ہے۔ریاستی سنجیدگی، سائنسی سوچ اور عوامی مفاد کو ترجیح دینے کے دعوؤں کا۔ اگر ہم اس امتحان میں کامیاب ہو گئے تو یہ ادارہ واقعی خطے میں سینٹر آف ایکسی لینس بن جائے گا، اور اگر ناکام ہوئے تو یہ بھی ایک اور اچھا خواب بن کر تاریخ کی فائلوں میں دفن ہو جائے گا۔
تاہم، اصل سوال اب بھی باقی ہے: کیا یہ ادارہ واقعی خودمختار، غیر سیاسی اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر چل سکے گا؟ پاکستان کی تاریخ ایسے اداروں سے بھری پڑی ہے جو بڑے خواب لے کر آئے مگر وقت کے ساتھ بیوروکریسی، سیاسی دباؤ اور عدم تسلسل کا شکار ہو گئے۔ اگر PAFDA کو مستقل فنڈنگ، عالمی اداروں سے شراکت داری، اور نتائج پر مبنی احتسابی نظام فراہم کیا گیا تو یہ ادارہ نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔
واپس کریں