
ہر دس گز کے فاصلے پر لگے سیکورٹی کیمروں والی سیف سٹی اسلام آباد، ترلائی کی ایک امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا ہوا جس میں 31 افراد شہید اور 150 سے زائد زخمی ہوئے ہیں،یاد رہے اسلام آباد کچہری (جی الیون سیکٹر میں ضلعی جوڈیشل کمپلیکس کے باہر) میں حالیہ خودکش حملہ 11 نومبر 2025 کو ہوا تھا، جس میں خودکش بمبار نے کچہری کے مرکزی گیٹ کے قریب ایک پولیس موبائل/گاڑی کے پاس دھماکہ کیا تھا۔ اس واقعے میں 12 افراد شہید ہوئے اور 27 سے 36 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔یہ اسلام آباد میں حالیہ برسوں کا سب سے بڑا دہشت گردی کا حملہ تھا۔ بعد میں (فروری 2026 میں) اسلام آباد کے دیگر مقامات پر بھی حملوں کی اطلاعات آئیں، جس کے تناظر میں وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی تھی۔ ہنگامی طور شہر میں داخل ہونے والی تمام گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگائے گئے،کالے شیشے اتارے گئے اور ہر مشکوک شخض اور گاڑی کی تلاشی لینے لا سلسلہ شروع کر دیا گیا لیکن جو نتیجہ نکلا آج ہم سب کے سامنے ہے۔نہ کوئی استعفیٰ پہلے سامنے آیا تھا اور نہ اب کوئی اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کی اخلاقی جرات کرے گا۔ گھسے پٹے اور روایتی قسم کے مذمتی بیانات جاری ہوں گے اور دشمن کو تڑیاں لگائی جائیں گی اور پھر کسی اگلے دہشت گردی کے حملے کا انتطار کیا جائے گا۔گاجر مولی کی طرح کٹتے انسانوں کا یہ دیس ہے۔نہ مرنے والے کو پتہ ہے کہ اسے کیوں مارا گیا اور نہ مارنے والے کو پتہ ہے وہ کیوں مار رہا ہے۔
ہارڈ اسٹیٹ کہاں ہے؟کیا اس کا کام صرف پی ٹی آئی کے کارکنوں کا قلع قمع کرنا ہی رہ گیا ہے؟
واپس کریں