
جذباتی تقریروں،نعروں،جلسوں، کانفرنسوں،قرادادوں،بینر اور جھنڈے لٹکانے،دھوپ میں ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے اور یوم یکجہتی کشمیر کے نام سرکاری تعطیل کرنے سے اگر مقبوضہ کشمیر جسے پاکستان اپنی شہ رگ اور کبھی اپنی روح قرار دیتا ہے نے آذاد ہو جانا ہوتا تو اب تک مقبوضہ کشمیر بھارت کے شکنجے سے آذاد ہو چکا ہوتا کیونکہ یہ مشق گزشتہ77 برسوں سے جاری ہے۔
امر واقع ہے، کشمیریوں کے وکیل ہونے کے دعویدار پاکستان نے کبھی بھی کسی عالمی فورم پر پاکستان کے زیر انتظام آذاد کشمیرکی لیڈر شپ کو پیش نہیں کیا کہ جہاں مدعی خود بھی جج کے سامنے پیش ہو کر اپنا مدعا اور تکلیف بیان کر سکے،کبھی ایسا بھی نہیں ہوا کہ بیرون ممالک سے پاکستان کا دورہ کرنے والی اہم،بااثر اور عالمی شخصیات کے سامنے آذاد کشمیر کی سیاسی قیادت یا لیڈر شپ کو بٹھایا جا سکے تا کہ کشمیر کا مسعلہ عالمی سطح پر اجاگر ہو سکے،(حالانکہ گویا کشمیر پالیسی مرتب کرنے والوں کی ترجیح ہی نہیں کہ کشمیر ایشو کو زیادہ اہمیت دی جائے۔
آج کل صدر ٹرمپ ہمارے بڑوں کا ماما بنا ہوا ہے،ان تعریفیں کرتا ہے اورانہیں اپنا ہیرو قرار دیتا ہے، جبکہ نریندر مودی پر تنقید کرنے کا کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، ایسے میں کیا ہی مناسب ہو کہ اس اپنے مامے کو کہا جائے کہ جیسے اس نے بدمعاشی کرتے ہوئے امریکہ کے”قومی مفاد“ میں وینزویلا کے صدر اور اس کی بیوی کو ان ہی کے ملک سے اٹھایا اور امریکہ میں لا کر قید کر دیا اور دنیا میں کسی نے چوں بھی نہیں کی،اسی طرح یہ امریکی ماما اپنے پاکستانی ہیروز کے لیئے بھی کوئی ایسا ہی قدم اٹھائے کہ مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری ممکن ہو سکے جو اقوم متحدہ کی قرارداوں میں بھی تسلیم شدہ ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے ہمارے بھائی، پاکستان سے بہت زیادہ توقعات لگا بیٹھے تھے،وقت کے ساتھ ساتھ ان پر یہ ثابت ہوتا چلا گیا کہ یہاں یعنی اسلام کے قلعے میں تو ان کے نام پر باقاعدہ دکانداری اور بزنس چل رہا ہے،کشمیر جہاد کے نام پر اسلام آباد میں کوٹھیاں،گاڑیاں بنائی گئیں اور حریت کانفرنس کے راہنماوں کی اولادیں امریکہ،برطانیہ اور پورپ جا کر سیٹل ہو گئیں اور مقبوضہ کشمیر کی آذادی صرف 5 فروری کی سرکاری تعطیل اور کانفرنسوں میں دب کر رہ گئی اور جو تھوڑی بہت آذادی کی کسر رہ گئی تھی اسے باجوہ اور عمران خان کے دور میں امریکہ میں جا کر کشمیر کی بھارت سے سودا بازی کر کے پورا کر دیا گیا تھا۔
پاکستان کے جھنڈے میں دفن ہونے،پاکستان کے نام پر مر مٹنے اور قید و بند کی صعوبتیں کاٹنے والے کشمیروں کا اب مایوس ہونا اور اپنے لیئے ایک خودمختار ریاست کا مطالبہ بنتا ہے اور ایسا مطالبہ ہونا بھی چاہیئے۔اب اگر کوئی کشمیریوں کو اس مطالبہ پر احسان فراموش یا غداری وغیرہ کا طعنہ دے تو وہ خود اس صدی کا سب سے بڑا بے شرم اور ضمیر فروش ہو گا۔
واپس کریں