دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور انکی سیاست
No image (تحریر:ذوالفقار راجہ ایڈووکیٹ ایڈووکیٹ سابق صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میرپور )
بیرسٹر سلطان محمود سال1955 میں اسوقت کے نامور سیاستدان چوہدری نور حسین صاحب کے گھر پیدا ہوئے۔ چوہدری نور حسین کی تعلیم واجبی سی تھی لیکن عقل و دانش اور ھمارے سماج کی روائتی سیاست کی ایٹھ اپر کی پالیسیوں سے وہ کئی پڑھے لکھے سیاستدانوں پر سبقت کا ہنر بخوبی جانتے تھے۔ انکی دانشمندی کا یہ فیصلہ بھی بڑا کمال کا تھا کہ وہ ایک نامور سیاستدان ہونے کے باوجود اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھنے کیلئے بھانپ چکے تھے کہ مستقبل میں سیاست میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے تعلیم کا ہونا ناگزیر ہے۔ یوں انہوں نے اپنے بیٹے سلطان محمود کو اعلی تعلیم کے حصول کی خاطر برطانیہ بھیج دیا۔ جہاں سلطان محمود صاحب نے لیڈز یونیورسٹی سے بارایٹ لا کی ڈگری حاصل کی اور 1985 میں واپس وطن ا کر عملی سیاست کا آغاز اپنے والد محترم چوہدری نور حسین صاحب کی پارٹی۔ آذاد مسلم کانفرنس سے کیا۔ ممبر اسمبلی منتخب ہوئے لیکن اس دوران انہیں ادراک ہوا کہ مظفرآباد کے ایوانوں میں اقتدار کا منبع تو اسلام آباد و راولپنڈی سے ہی نکلتا ہے۔ اسکے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور ریاستی پارٹی لبریشن لیگ میں شامل ہو گئے کہ شاید میں کے۔ ایچ۔ خورشید صاحب کا سیاسی جانشین بنکر کر ہی تحریک آذادی جموں کشمیر میں اپنا مقدور بھر حصہ ڈال سکوں۔ لیکن کوئ بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر پائے۔ آخر کار پاکستان کی مقتدرہ کی مشاورت سے پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔ یوں وہ سال 1996 میں وہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہو گئے۔ ھمارے اور انکے مابین پر نظریاتی بنیادوں ھمیشہ اختلاف ہی رہا ہے نہ ھم نے کبھی انہیں ووٹ دیا اور نہ ہی انکی کھل کر انتخابات میں مخالفت کی کیونکہ تحریکی سیاست میں پاکستان کی طرف سے اپنے من پسند نمائندے منتخب کرنے والے انتخابات کی کوئی اہمیت ہی نہیں رہی ہے۔ بہرحال میں بیرسٹر سلطان محمود صاحب کیساتھ میرے دیرینہ سیاسی و مقامی سیاست کے حوالہ سے تعلقات کی وجہ کی بنیاد پر چند واقعات کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ سب سے پہلے یہ کہ وہ سیاست میں رواداری۔ صبر و برداشت کا پیکر تھے۔ سیاسی مخالفین سے بھی دشمنوں جیسا سلوک کرنا انکا وطیرہ نہیں تھا۔ چند واقعات جنکے عینی شاہد یا تو بیرسٹر صاحب تھے یا پھر دیگر چند لوگ جو بقید حیات ہیں۔
1 جب بیرسٹر سلطان محمود صاحب آذاد مسلم کانفرنس کے صدر تھے تو مسلم کانفرنس نے سال 1987میں دھاندلی و پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے ملی بھگت کر کے بلدیہ میرپور کا چیرمین اور ضلع کونسل میرپور کا چیرمین جبری مسلط کرنے کی گھناؤنی سازش کی تو ھماری مضبوط ترین طلبا تنظیم این۔ ایس۔ ایف۔ بیرسٹر صاحب کی اتحادی تھی۔ ھم نے ملکر بڑا احتجاج کیا جس پر مسلم کانفرنس کی حکومت نے انتظامیہ کے ذریعے سے بیرسٹر صاحب اور ھم پر وحشیانہ تشدد کروایا۔ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ مسلم کانفرنس کیخلاف جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کا میرپور میں اتحاد ھمیشہ قائم رہا۔ سال 1996 کے انتخابات میں بیرسٹر سلطان محمود صاحب کے مدمقابل میرپور سے سابق چیف جسٹس عبد المجید ملک صاحب بھی تھے جن نے نظریاتی طور پر انہیں سپورٹ کیا لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ بیرسٹر صاحب نے وزیراعظم منتخب ہونے کیبعد اپنے ووٹرز کے علاقوں میں تعمیراتی کام شروع کروا دیئے و بجلی کے نئے ٹرانسفارمرز بھی لگوانے شروع کر دیئے جبکہ جن علاقوں میں ملک مجید صاحب کو سپورٹ کیا گیا تھا انہیں مکمل نظر انداز کیا گیا۔ یوں ایک روز بیرسٹر صاحب بحثیت وزیراعظم کاکڑہ ٹاؤن میں کسی پروگرام میں شرکت کیلئے جا رہے تھے تو ھم نے سیکٹر ایف ون کوٹلی روڈ پر سینکڑوں کی تعداد میں عوام اکٹھے کر کے بھرپور مظاہرہ کیا آدھا گھنٹہ تک انکا راستہ روکے رکھا اور حکومت کیخلاف شدید نعرہ بازی ہوئی۔ بیرسٹر صاحب نے بدوں کوئ حاکمانہ حکم جاری کرنے کے اسی وقت متعلقہ حکام کو ھمارے مطالبات حل کرنے کا حکم صادر کیا۔ نہ لاٹھی چارج نہ ہی آنسو گیس۔ اور نہ ہی کوئ مقدمہ مظاہرین کیخلاف قائم کیا گیا۔ تقریبا 12 یا 14 سال قبل وہ بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر گئے تھے۔ واپس آئے تو انہوں نے چوہدری ایوب صاحب ایڈمنسٹریٹر کو کہا کہ ذوالفقار راجہ ایڈووکیٹ کو بلائیں میں رات تقریبا 8 بجے پی۔ ڈبلیو۔ ڈی ریسٹ میرپور میں چلا گیا۔ اسوقت انکے پاس نور میموریل ہسپتال کے مالک ڈاکٹر اکرم صاحب مرحوم بیٹھے ہوئے تھے بیرسٹر صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو کہا کہ آپ سے آپکے معاملات میں تفصیلا بات ہو چکی ہے آپ جائیں میں نے ذوالفقار صاحب سے کچھ سیاسی باتیں شیئر کرنی ہیں وہ چلے گئے اب میں اور بیرسٹر سلطان محمود صاحب کمرے میں دو ہی موجود تھے۔ بیرسٹر صاحب نے شروعات کی کہ میں پچھلے ہفتے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں اپنے ایک قریبی دوست جس کا دوبئی میں کاروبار ہے کی دعوت پر اسکے بیٹے کی شادی میں شریک ہونا چاہتا تھا میں نے ویزا اپلائی کیا ویزا ہو گیا۔ جس روز میں نے روانہ ہونا تھا اس سے ایک روز قبل پاکستان انٹیلیجنس کا ایک میجر آیا اور اس نے کہا کہ آپ نے نہ ہی کسی سیاسی تقریب میں جانا ہے اور نہ ہی وہاں سے کوئی سیاسی بیان جاری کرنا ہے۔ بیرسٹر صاحب نے مجھے بتلایا کہ جب میں بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں گیا تو وہاں عمر عبدللہ وزیراعلی تھے انہوں نے مجھے اپنے ہیلی کاپٹر پر بیٹھا کر پورے سرینگر کا دورہ کروایا۔ شہدا کے قبرستان میں بھی لیکر گئے۔ بیرسٹر صاحب نے مجھے بتلایا کہ پراپیگنڈا کیا جا رہا ھیکہ سات لاکھ بھارتی فوج مقبوضہ جموں کشمیر میں موجود ہے میں نے شاذ و نادر ہی کوئ فوجی کسی بھی ایریا میں دیکھا ہو۔ دوسرا وہاں پر سیرو سیاحت کے حوالہ سے میں نے جو ریاستی ترقی دیکھی ہے میں دنیا سو سے زیادہ ممالک دیکھ چکا ہوں میں نے ایسی ترقی و خوبصورتی کسی ملک میں نہیں دیکھی ہے۔ بیرسٹر صاحب نے مجھے بتلایا کہ میں نے وہاں کے حالات کا سو فیصد سچائ کے مطابق واپس آ کر یہاں کے میڈیا کو بتلایا دوسرے روز جونہی اخبارات میں میری خبر شائع ہوئی تو وہی میجر صاحب شام کو میرے گھر ا گئے اور مجھے کہنے لگے کہ بیرسٹر صاحب آپ نے تو ھمارے پچھلی نصف صدی کے بیانیہ کو مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستانی ریاست نے پچاس سال اس پراپیگنڈا میں لگائے ہیں کہ شیخ عبدللہ خاندان جموں کشمیر و پاکستان کا غدار ہے جبکہ بیرسٹر صاحب آپ نے بیان دیا ھیکہ آج بھی مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام نیشنل کانفرنس کے ہی ساتھ ہیں۔ اس بیان کی تردید کریں۔ یوں مجھے دوسرے روز اس بیان کی تردید کرنا پڑی۔ جبکہ انہوں نے تمام تر گفتگو کو ختم کرتے ہوئے مجھے کہا کہ دراصل پاکستان کی ایجنسیاں نہیں چاہتی ہیں کہ کنٹرول لائن کا خاتمہ ہو کیونکہ اگر بھی آر پار کے ریاستی عوام کا ملاپ ہوا تو آذاد جموں کشمیر کے عوام بخوبی سمجھ جائیں گے منقسم جموں کشمیر میں ترقی کس جانب ہوئی ہے بیرسٹر صاحب وفات پا چکے ہیں خدا انکی اگلی منزلیں آسان فرمائے۔بیرسٹر سلطان محمود سال1959 میں اسوقت کے نامور سیاستدان چوہدری نور حسین صاحب کے گھر پیدا ہوئے۔ چوہدری نور حسین کی تعلیم واجبی سی تھی لیکن عقل و دانش اور ھمارے سماج کی روائتی سیاست کی ایٹھ اپر کی پالیسیوں سے وہ کئی پڑھے لکھے سیاستدانوں پر سبقت کا ہنر بخوبی جانتے تھے۔ انکی دانشمندی کا یہ فیصلہ بھی بڑا کمال کا تھا کہ وہ ایک نامور سیاستدان ہونے کے باوجود اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھنے کیلئے بھانپ چکے تھے کہ مستقبل میں سیاست میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے تعلیم کا ہونا ناگزیر ہے۔ یوں انہوں نے اپنے بیٹے سلطان محمود کو اعلی تعلیم کے حصول کی خاطر برطانیہ بھیج دیا۔ جہاں سلطان محمود صاحب نے لیڈز یونیورسٹی سے بارایٹ لا کی ڈگری حاصل کی اور 1985 میں واپس وطن ا کر عملی سیاست کا آغاز اپنے والد محترم چوہدری نور حسین صاحب کی پارٹی۔ آذاد مسلم کانفرنس۔ سے کیا۔ ممبر اسمبلی منتخب ہوئے لیکن اس دوران انہیں ادراک ہوا کہ مظفرآباد کے ایوانوں میں اقتدار کا منبع تو اسلام آباد و راولپنڈی سے ہی نکلتا ہے۔ اسکے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور ریاستی پارٹی لبریشن لیگ میں شامل ہو گئے کہ شاید میں کے۔ ایچ۔ خورشید صاحب کا سیاسی جانشین بنکر کر ہی تحریک آذادی جموں کشمیر میں اپنا مقدور بھر حصہ ڈال سکوں۔ لیکن کوئ بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر پائے۔ آخر کار پاکستان کی مقتدرہ کی مشاورت سے پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔ یوں وہ سال 1996 میں وہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہو گئے۔ ھمارے اور انکے مابین پر نظریاتی بنیادوں ھمیشہ اختلاف ہی رہا ہے نہ ھم نے کبھی انہیں ووٹ دیا اور نہ ہی انکی کھل کر انتخابات میں مخالفت کی کیونکہ تحریکی سیاست میں پاکستان کی طرف سے اپنے من پسند نمائندے منتخب کرنے والے انتخابات کی کوئ اہمیت ہی نہیں رہی ہے۔ بہرحال میں بیرسٹر سلطان محمود صاحب کیساتھ میرے دیرینہ سیاسی و مقامی سیاست کے حوالہ سے تعلقات کی وجہ کی بنیاد پر چند واقعات کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ سب سے پہلے یہ کہ وہ سیاست میں رواداری۔ صبر و برداشت کا پیکر تھے۔ سیاسی مخالفین سے بھی دشمنوں جیسا سلوک کرنا انکا وطیرہ نہیں تھا۔ چند واقعات جنکے عینی شاہد یا تو بیرسٹر صاحب تھے یا پھر دیگر چند لوگ جو بقید حیات ہیں۔
1 جب بیرسٹر سلطان محمود صاحب آذاد مسلم کانفرنس کے صدر تھے تو مسلم کانفرنس نے سال 1987میں دھاندلی و پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے ملی بھگت کر کے بلدیہ میرپور کا چیرمین اور ضلع کونسل میرپور کا چیرمین جبری مسلط کرنے کی گھناؤنی سازش کی تو ھماری مضبوط ترین طلبا تنظیم این۔ ایس۔ ایف۔ بیرسٹر صاحب کی اتحادی تھی۔ ھم نے ملکر بڑا احتجاج کیا جس پر مسلم کانفرنس کی حکومت نے انتظامیہ کے ذریعے سے بیرسٹر صاحب اور ھم پر وحشیانہ تشدد کروایا۔ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ مسلم کانفرنس کیخلاف جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کا میرپور میں اتحاد ھمیشہ قائم رہا۔ سال 1996 کے انتخابات میں بیرسٹر سلطان محمود صاحب کے مدمقابل میرپور سے سابق چیف جسٹس عبد المجید ملک صاحب بھی تھے جن نے نظریاتی طور پر انہیں سپورٹ کیا لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ بیرسٹر صاحب نے وزیراعظم منتخب ہونے کیےبعد اپنے ووٹرز کے علاقوں میں تعمیراتی کام شروع کروا دیئے و بجلی کے نئے ٹرانسفارمرز بھی لگوانے شروع کر دیئے جبکہ جن علاقوں میں ملک مجید صاحب کو سپورٹ کیا گیا تھا انہیں مکمل نظر انداز کیا گیا۔ یوں ایک روز بیرسٹر صاحب بحثیت وزیراعظم کاکڑہ ٹاؤن میں کسی پروگرام میں شرکت کیلئے جا رہے تھے تو ھم نے سیکٹر ایف ون کوٹلی روڈ پر سینکڑوں کی تعداد میں عوام اکٹھے کر کے بھرپور مظاہرہ کیا آدھا گھنٹہ تک انکا راستہ روکے رکھا اور حکومت کیخلاف شدید نعرہ بازی ہوئی۔ بیرسٹر صاحب نے بدوں کوئ حاکمانہ حکم جاری کرنے کے اسی وقت متعلقہ حکام کو ھمارے مطالبات حل کرنے کا حکم صادر کیا۔ نہ لاٹھی چارج نہ ہی آنسو گیس۔ اور نہ ہی کوئ مقدمہ مظاہرین کیخلاف قائم کیا گیا۔ تقریبا 12 یا 14 سال قبل وہ بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر گئے تھے۔ واپس آئے تو انہوں نے چوہدری ایوب صاحب ایڈمنسٹریٹر صاحب کو کہا کہ ذوالفقار احمد ایڈووکیٹ کو بلائیں میں رات تقریبا 8 بجے پی۔ ڈبلیو۔ ڈی ریسٹ میرپور میں چلا گیا۔ اسوقت انکے پاس نور میموریل ہسپتال کے مالک ڈاکٹر اکرم صاحب مرحوم بیٹھے ہوئے تھے بیرسٹر صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو کہا کہ آپ سے آپکے معاملات میں تفصیلا بات ہو چکی ہے آپ جائیں میں نے ذوالفقار صاحب سے کچھ سیاسی باتیں شیئر کرنی ہیں وہ چلے گئے اب میں اور بیرسٹر سلطان محمود صاحب کمرے میں دو ہی موجود تھے۔ بیرسٹر صاحب نے شروعات کی کہ میں پچھلے ہفتے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں اپنے ایک قریبی دوست جس کا دوبئی میں کاروبار ہے کی دعوت پر اسکے بیٹے کی شادی میں شریک ہونا چاہتا تھا میں نے ویزا اپلائی کیا ویزا ہو گیا۔ جس روز میں نے روانہ ہونا تھا اس سے ایک روز قبل پاکستان انٹیلیجنس کا ایک میجر آیا اور اس نے کہا کہ آپ نے نہ ہی کسی سیاسی تقریب میں جانا ہے اور نہ ہی وہاں سے کوئی سیاسی بیان جاری کرنا ہے۔ بیرسٹر صاحب نے مجھے بتلایا کہ جب میں بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں گیا تو وہاں عمر عبدللہ وزیراعلی تھے انہوں نے مجھے اپنے ہیلی کاپٹر پر بیٹھا کر پورے سرینگر کا دورہ کروایا۔ شہدا کے قبرستان میں بھی لیکر گئے۔ بیرسٹر صاحب نے مجھے بتلایا کہ پراپیگنڈا کیا جا رہا ھیکہ سات لاکھ بھارتی فوج مقبوضہ جموں کشمیر میں موجود ہے میں نے شاذ و نادر ہی کوئی فوجی کسی بھی ایریا میں دیکھا ہو۔ دوسرا وہاں پر سیرو سیاحت کے حوالہ سے میں نے جو ریاستی ترقی دیکھی ہے میں دنیا سو سے زیادہ ممالک دیکھ چکا ہوں میں نے ایسی ترقی و خوبصورتی کسی ملک میں نہیں دیکھی ہے۔ بیرسٹر صاحب نے مجھے بتلایا کہ میں نے وہاں کے حالات کا سو فیصد سچائ کے مطابق واپس آ کر یہاں کے میڈیا کو بتلایا دوسرے روز جونہی اخبارات میں میری خبر شائع ہوئی تو وہی میجر صاحب شام کو میرے گھر ا گئے اور مجھے کہنے لگے کہ بیرسٹر صاحب آپ نے تو ھمارے پچھلی نصف صدی کے بیانیہ کو مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستانی ریاست نے پچاس سال اس پراپیگنڈا میں لگائے ہیں کہ شیخ عبدللہ خاندان جموں کشمیر و پاکستان کا غدار ہے جبکہ بیرسٹر صاحب آپ نے بیان دیا ھیکہ آج بھی مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام نیشنل کانفرنس کے ہی ساتھ ہیں۔ اس بیان کی تردید کریں۔ یوں مجھے دوسرے روز اس بیان کی تردید کرنا پڑی۔ جبکہ انہوں نے تمام تر گفتگو کو ختم کرتے ہوئے مجھے کیا کہ دراصل پاکستان کی ایجنسیاں نہیں چاہتی ہیں کے کنٹرول لائن کا خاتمہ ہو کیونکہ اگر کبھی آر پار کے ریاستی عوام کا ملاپ ہوا تو آذاد جموں کشمیر کے عوام بخوبی سمجھ جائیں گے منقسم جموں کشمیر میں ترقی کا جانب ہوئی ہے بیرسٹر صاحب وفات پا چکے ہیں خدا انکی اگلی منزلیں آسان فرمائے۔میری بیٹی سال 2019 میںڈیا اچانک فوت ہو گئ بیرسٹر سلطان محمود صاحب بیرون ملک دورہ پر تھے ایک روز وہ تعزیت کیلئے میرے گھر تشریف لائے۔ میں اسوقت چند روز قبل 5 اگست 2019 کے بھارتی آرڈیننس کیخلاف تشکیل پانے والے قوم پرستوں و ترقی پسند سوچ کی حامل پارٹیوں کے اتحاد پیپلز نیشنل الائنس کا چیرمین تھا۔ بیرسٹر صاحب جو اس الائنس کی نسبت بخوبی علم تھا۔ یوں انہوں نے مجھے کہا کہ ذوالفقار صاحب اپکے پاس کونسی گیدڑ سنگھی ہے کہ آپ راولاکوٹ میں جہاں ہر سو لیڈرز کی قطاریں لگی ہوئی ہیں وہاں 14 پارٹیوں کے چیرمین بن گئے ہیں۔ دو سال قبل جب بیرسٹر صاحب نے ایک متنازع آرڈیننس جاری کیا تو میں نے دوسرے روز ہی ان سے فون پر بات کی کہ اگر آپ اس آرڈیننس پر دستخط نہ کرتے تو ہیرو ٹھہرائے جاتے لیکن بیرسٹر سلطان محمود صاحب مجھے کوئ مطمن کرنے والا خاطر خواہ جواب نہ دے پائے البتہ اگرچہ بیرسٹر صاحب سے ھمارا ھمیشہ سیاسی۔ نظریاتی۔ قومی آذادی کے حوالہ سے شدید اختلاف رہا ہے۔ کیونکہ قیوم خان اور سکندر حیات خان انتہا پسند سیاست تھے۔ وہ نظریہ خودمختار جموں کشمیر کیلئے جدوجہد کرنے والے کارکنان پر مقدمات درج کرواتے تھے۔ تشدد کرواتے تھے مقدمات قائم کرتے تھے اور بعد ازاں پاکستان کی مقتدرہ کو باور کرواتے تھے کہ یہ پاکستان مخالف جتھے ہیں جنہیں ھم نے کرش کرنا ہے ورنہ یہ پاکستان مخالف تنظیمیں بھارت کی ایما پر آذاد جموں کشمیر میں پاکستانی مفادات کو شدید نقصان پہنچائیں گی۔ جبکہ بیرسٹر سلطان محمود نے بہترین حکمت عملی۔ معتدل۔ مہذب۔ بدوں کسی پر الزام تراشی کی اور نہ انتقام کا نشانہ بنائے سیاست کی اچھی روایات
ڈالی ہیں۔ البتہ وہ ھمیشہ دنیا بھر میں جموں کشمیر کا بیانیہ پاکستان کی مرضی و منشا سے ہی بیان کرتے رہےہیں۔ ریاست جموں کشمیر کی قومی آذادی کا جو حقیقی و درست موقف ہے وہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر کبھی بھی پیش نہیں کیا ہے۔کیونکہ وہ انکی روائتی سیاست کی مجبوریاں تھیں۔
واپس کریں