دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بسنت، دہشتگردی اور ریاستی ترجیحات
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
پاکستان اس وقت ایک واضح داخلی سلامتی کے بحران سے گزر رہا ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی محض سکیورٹی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک مسلسل جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ آئے روز ریاستی اداروں کے اہلکار شہید ہو رہے ہیں، چیک پوسٹیں اور سرکاری و غیر سرکاری املاک و عام شہری نشانہ بن رہے ہیں، جسکی بدولت شہری خوف کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ سب کسی سرحدی جھڑپ کا نتیجہ نہیں بلکہ ملک کے اندر جاری دشمن ممالک کی حمایت یافتہ دہشتگردی کی ایک جنگ ہے۔
ایسے حالات میں ریاست اور بالخصوص صوبائی حکومتوں کے طرزِ عمل کو محض انتظامی فیصلوں کی بجائے سیاسی بیانیے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بسنت کے انعقاد کی تیاری ایک سادہ ثقافتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ علامت اس سوال کی کہ کیا ریاست کے تمام حصے ایک ہی حقیقت میں جی رہے ہیں یا نہیں۔
بسنت کا مسئلہ اس کے مذہبی یا غیر مذہبی ہونے سے کہیں آگے جا چکا ہے۔ یہ تہوار ماضی میں جان لیوا ثابت ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے خود ریاست نے اسے ممنوع قرار دیا تھا۔ عدالتی فیصلے، سرکاری رپورٹس اور پولیس ریکارڈ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بسنت کے دوران قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع معمول رہا ہے۔ اس پس منظر میں بسنت کو دوبارہ “ریگولیٹ” کرنے کا تصور بھی کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ریاست پہلے ہی سکیورٹی کے شدید دباؤ میں ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ لاہور کو خوشی منانے کا حق حاصل ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ریاست کس وقت کیا پیغام دے رہی ہے۔ جب ایک طرف خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے اضلاع میں جنازے اٹھ رہے ہوں اور دوسری طرف لاہور میں جشن بسنت کے لئے چھتیں مہنگے کرایوں پر دی جا رہی ہوں، تو یہ تضاد خود ایک سیاسی بیان بن جاتا ہے، خواہ نیت کچھ بھی ہو۔
یہ تضاد اس لیے بھی حساس ہے کہ پاکستان میں بین الصوبائی احساسِ محرومی ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ چھوٹے صوبوں میں یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ پنجاب کو نہ صرف وسائل بلکہ ریاستی توجہ بھی زیادہ میسر ہے۔ ایسے میں لاہور میں بسنت جیسے متنازع اور غیر ضروری جشن کا انعقاد اس تاثر کو مزید تقویت دے سکتا ہے، جس کے اثرات محض سیاسی نہیں بلکہ قومی سلامتی سے جڑے ہو سکتے ہیں۔
ایک اور قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ بسنت اب عوامی تہوار کم اور اشرافیہ کی تفریح زیادہ بن چکا ہے۔ عام شہری سڑکوں پر خونی ڈور سے بچنے کے لیے حفاظتی تار لگانے پر مجبور ہے، چالان کی صورت میں جرمانے بھگت رہا ہے، جبکہ مخصوص طبقہ لاکھوں روپے دے کر عمارتوں کی چھتیں اور ہوٹلنگ کر رہا ہے۔ اس عدم توازن میں ریاستی عمل داری کا تصور بھی متاثر ہوتا ہے، کیونکہ قانون کی سختی کمزور پر اور نرمی طاقتور پر لاگو ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
سیاسی قیادت کے لیے اصل امتحان ایسے ہی مواقع پر ہوتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ اس وقت ایک ایسے منصب پر فائز ہیں جہاں ان کے فیصلے محض صوبائی نہیں بلکہ قومی سطح پر دیکھے جاتے ہیں۔ بسنت کے انعقاد یا التواء کا فیصلہ بھی اسی تناظر میں لیا جائے گا۔ اگر یہ پروگرام ملتوی کیا جاتا ہے تو یہ کمزوری نہیں بلکہ سیاسی بلوغت اور قومی شعور کی علامت ہوگا۔
یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ بسنت کا التواء کسی ثقافت کے خلاف اقدام نہیں ہوگا، بلکہ ایک وقتی اور حالات کے مطابق فیصلہ ہوگا۔ دنیا کی بڑی جمہوریتوں میں بھی جب قومی سلامتی یا اجتماعی صدمے کی کیفیت ہوتی ہے تو تفریحی سرگرمیاں خود بخود پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ یہ عمل قوموں کو کمزور نہیں بلکہ متحد کرتا ہے۔
ریاست کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو یہ احساس دلائے کہ ان کی جان، دکھ اور قربانی کی قدر یکساں ہے۔ چاہے وہ لاہور میں ہوں یا لورالائی میں یا پھر جنوبی وزیرستان۔ اگر یہ احساس کمزور پڑ جائے تو مسئلہ صرف ناراضی کا نہیں رہتا بلکہ اعتماد کے ٹوٹنے کا بن جاتا ہے، اور اعتماد کے بغیر کوئی ریاست مضبوط نہیں رہ سکتی۔
آخر میں سوال بسنت کا نہیں، بلکہ ریاستی ترجیحات کا ہے۔ کیا ہم ایک ایسے ملک کی تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں جہاں ایک حصہ خون میں ڈوبا ہو اور دوسرا رنگوں میں؟ یا ہم ایک ایسی قوم بننا چاہتے ہیں جو مشکل وقت میں تفریح کو نہیں، یکجہتی کو ترجیح دے؟
یہ فیصلہ آج نہیں تو کل کرنا ہی ہوگا۔ بہتر یہی ہے کہ اسے وقت پر، ہوشمندی سے اور قومی مفاد میں کیا جائے۔
خیبرپختونخوا اور بلوچستان لہولہان، مسلح افواج و پولیس کے جوان شہید ہورہے ہیں جبکہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں (خونی کھیل) بسنت کے نام پر جشن کی تیاریاں؟
قومی یکجہتی کا تقاضا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ بسنت پروگرام فوری ملتوی کریں۔
واپس کریں