دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
یوم یک جہتی کشمیر :سردار ساجد محمود
No image ہر سال پانچ فروری کو 1990 سے پاکستان بھر اور آزادکشمیر مین تسلسل کے ساتھ یومِ یکجہتیٔ کشمیر منایا جانا محض ایک رسمی یا علامتی عمل نہیں بلکہ یہ پاکستان اور آزادکشمیر کے عوام اور حکومتون کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ گہری وابستگی، اخلاقی و سفارتی حمایت اور سیاسی عزم کا اظہار ہے۔ یہ یکجہتی کسی ایک دن یا مخصوص حالات کی پیداوار نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تاریخی، تہذیبی، مذہبی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی رشتوں کا تسلسل ہے جو ریاستِ جموں و کشمیر اور موجودہ پاکستان کے علاقوں، بالخصوص پنجاب اور خیبرپختونخوا، کے درمیان ہمیشہ سے قائم رہے ہیں۔
تقسیمِ برصغیر سے قبل کشمیر اور ملحقہ مسلم اکثریتی علاقوں کے درمیان قریبی روابط موجود تھے۔ تجارتی قافلوں کی آمدورفت، زرعی اور دستکاری مصنوعات کا تبادلہ، مذہبی و تعلیمی مراکز سے وابستگی اور ثقافتی میل جول نے ان علاقوں کو ایک دوسرے سے مضبوطی سے جوڑے رکھا۔ کشمیری شالیں، قالین اور دستکاریاں پنجاب کی منڈیوں میں بے حد مقبول تھیں جبکہ پنجاب اور سرحد سے اناج، کپڑا اور دیگر ضروریاتِ زندگی کشمیر پہنچتی تھیں۔ اسی طرح صوفیانہ روایات، اولیائے کرام کے مزارات، مدارس اور دینی تحریکوں نے مذہبی و تہذیبی ہم آہنگی کو فروغ دیا اور ایک مشترکہ مسلم شناخت کو تقویت بخشی۔
ڈوگرہ راج کے دوران کشمیری مسلمانوں کو شدید سیاسی، معاشی اور مذہبی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ جاگیردارانہ نظام، ٹیکسون کی بھرمار، مذہبی آزادیوں پر قدغن اور سیاسی حقوق کی عدم فراہمی نے کشمیری عوام کو بغاوت پر مجبور کیا۔ 13 جولای 1931ء کے المناک سانحہ کے تسلسل میں ڈوگرہ مہاراجہ کے مظالم کے خلاف اٹھنے والی تحریک کشمیر کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن باب ہے۔ اس تحریک میں برصغیر کے مسلم سیاسی اور سماجی حلقوں نے بھرپور کردار ادا کیا۔ کشمیر کمیٹی نے علامہ محمد اقبال اور دیگر اکابرین کی قیادت مین منظم انداز میں کشمیریوں کے مسائل کو اجاگر کیا، جبکہ احرارِ اسلام کی تحریک نے جلسوں، جلوسوں اور عوامی رابطہ مہیم کے ذریعے مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ عملی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ اس دور کے مسلم اخبارات نے ڈوگرہ مظالم کو بے نقاب کیا، عوامی رائے کو ہموار کیا اور کشمیر کے مسئلے کو برصغیر کی مسلم سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔
تحریکِ پاکستان کے دوران بھی جموں و کشمیر کے عوام نے مسلمانوں کی علیحدہ ریاست کے قیام کی جدوجہد کی بھرپور تائید کی۔ 23 مارچ کو منٹو پارک لاہور میں منعقد ہونے والے تاریخی جلسہ میں مولانا غلام حیدر جنڈالوی کی قیادت میں جموں و کشمیر کے نمائندوں کی شرکت اور قرارداد پاکستان کی بھرپور تائید اس امر کا واضح ثبوت تھی کہ کشمیری عوام اپنا سیاسی مستقبل برصغیر کے مسلمانوں کے ساتھ وابستہ دیکھتے تھے۔ یہ حمایت محض علامتی نہ تھی بلکہ ایک شعوری سیاسی فیصلہ تھا جو بعد ازاں تاریخ کے دھارے کا رخ متعین کرنے میں معاون ثابت ہوا اور یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ قیام پاکستان سے قبل سردار محمد ابراہیم خان کی سربراہی مین آل جمون وکشمیر مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل کے اجلاس میں قرار داد الحاق پاکستان منظور کی گئی ۔
قیام پاکستان کے موقع پر جموں کے مسلمانوں نے بے مثال قربانیاں دیں۔ پاکستان سے لازوال محبت کی پاداش میں منظم تشدد، قتلِ عام، جبری بے دخلی اور ہجرت نے لاکھوں انسانوں کو متاثر کیا۔ یہ قربانیاں نہ صرف کشمیر کی جدوجہدِ آزادی کی المناک داستان ہیں بلکہ پاکستان اور کشمیر کے درمیان قدرتی اور نہ ختم ہونے والے رشتے کی گہرائی کو بھی اجاگر کرتی ہیں، کیونکہ یہ قربانیان مشترکہ مفادات، فکری، دینی، تہذیبی اور سیاسی شناخت کے تحفظ کا مظہر ہین۔
1988–90 میں مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کے خلاف شروع ہونے والی مسلح تحریک دراصل دہائیوں پر محیط سیاسی محرومی، حقِ خودارادیت سے انکار، انتخابی دھاندلی اور ریاستی جبر کا نتیجہ تھی۔ بھارتی مظالم کی انتہا، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، اجتماعی سزائیں اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیون نے کشمیری عوام کو ایک نئی مزاحمتی جدوجہد پر مجبور کیا۔
اسی پس منظر میں پاکستان میں یومِ یکجہتیٔ کشمیر کو 1990 سے سرکاری سطح پر منانے کا آغاز کیا گیا تاکہ دنیا کو یہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ کشمیری عوام اپنی جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں۔ یہ دن پاکستان کے عوام، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی اور میڈیا کو ایک مشترکہ مؤقف پر متحد کرتا ہے، جس کا محور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت ہے۔
یومِ یکجہتیٔ کشمیر دراصل پاکستان اور کشمیر کے عوام کے درمیان صدیوں پر محیط رشتوں کی تجدید کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تجارتی، ثقافتی، مذہبی اور سیاسی روابط نے ہمیں ایک دوسرے سے جوڑے رکھا ہے۔ کشمیر اور پاکستان کے باہمی تعلق اور جڑت کے ضمن مین معروف کشمیری دانشور میر عبدالعزیز نے اپنے مضمون مین کشمیری زبان کے محاورہ نم تہ مز کو استعمال کیا ہے جسکا مطلب ہے کہ انگلیون کے ناخن اور گوشت کا تعلق ۔ بالکل اسی طرح پاکستان اور کشمیر بھی ناخن اور گوشت کی طرح اپس مین جڑے ہوے ہین جنہیں جدا نہیں کیا جا سکتا ۔ اس حقیقت کا اظہار قایداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دے کر کیا ۔ سابق صدر پاکستان جنرل ایوب خان نے پاکستان کی لایف لاین قرار دے کر کیا اور قاید عوام ذوالفقار علی بھٹو نے سلامتی کونسل مین تقریر کرتے ہوے گوشت پوست کا حصہ اور ایک ہزار سال تک کشمیر کے لیے جنگ لڑنے کا اعلان کرتے ہوے کیا۔
مقبوضہ جمون و کشمیر کےعوام کی قربانیاں اور ان کی مسلسل جدوجہد اس امر کی متقاضی ہے کہ ہم اپنی اخلاقی، انسانی، تحریکی اور سیاسی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے جائز حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتے رہیں، کیونکہ یہی یومِ یکجہتیٔ کشمیر کا اصل پیغام اور مقصد ہے۔
واپس کریں