دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
”پہلے کرنے کے کام“
No image فلائی اوورز اورانڈرپاس ضرور بنائیں،ناجائز تجاوزات کا خاتمہ اچھی بات ہے،ٹریفک قوانین پر پابندی کروانا بھی درست اقدام ہے لیکن پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کے لیئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا،تاجروں کے لیئے آسانیاں پیدا کرنا،مہنگائی کم کرنا،سستا اور فوری انصاف فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ بیرونی قرضوں میں ڈوبے ہوئے اس ملک پر سے قرضہ کتنا کم ہوا،دہشت گردی کتنی کم ہوئی،ملک میں کتنی بیرونی اور اندورنی سرمایہ کاری ہوئی،ڈالر کا ریٹ کتنا کم ہوا اور کتنے فیصد عوام غربت کی لکیر سے نکالے گئے ہیں؟
سیاسی مخالفین پر الزام تراشی یا الزام برائے الزام کے جواب دینے سے زیادہ سرکاری اور حکومتی پریس کانفرنسوں میں یہ سب بتانا ضروری ہے تا کہ معلوم ہو سکے کہ نصف مدت سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد ون پیج والی اس مضبوط حکومت کی کارکردگی کیا رہی ہے؟
مذکورہ مسائل اور حقائق کے بارے میں نہ تو کوئی حکومتی نمائندہ زبان کھولتا ہے اور نہ ہی کوئی حکومت کا حمائتی دانشور اور نہ ہی کوئی حکومتی یاصحافی یا یوٹیوبر۔
امر واقع یہ ہے کہ موجودہ حکومت آج بھی عالمی سود خود آئی ایم ایف کے قرضوں سہارے چل رہی ہے، آئی ایم ایف کے بار بار کہنے کے باوجود حکومتی شاہ خرچیوں میں کسی قسم کی کمی دیکھنے میں نہیں آئی اوربیرونی قرضوں میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب عوام پر ڈائرکٹ اور ان ڈائرکٹ ٹیکس پر ٹیکس لگائے جا رہے ہیں اور ریلیف کسی قسم کا نہیں۔جیسے کے آغاز میں عرض کیا کہ آپ فلائی اوورز اور انڈر پاس ضرور بنائیں لیکن عوام کو ان کی بنیادی سہولیات میں آسانی تو مہیا کریں۔کم از کم پٹرول، روز مرہ کی کھانے پینے اشیاء اور بجلی و گیس کے بلوں میں تو کمی کریں۔
ناچیز پہلے بھی عرض کر چکا ہے کہ اگر عمران خان کا ووٹ بینک توڑنا ہے تو اس کا واحد حل عوام کو ریلیف دینا ہو گا،نوجوانوں کو(جن کی اکثریت سیاسی طور پر پی ٹی آئی سے تعلق رکھتی ہے) روزگار اور مہنگائی کو کم سے کم کرنا ہو گا۔ فلائی اوورز اورانڈرپاس بنانے سے پاکستان تحریک انصاف کے ووٹ بینک پر کسی قسم کا اثر نہیں پڑنے والا۔
آخر میں عرض کرتا چلوں کہ موجودہ حکومت سابق پی ڈی ایم(اتحادی حکومت)کا تسلسل ہے اس لیئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ موجودہ مسائل سابق یعنی حکومت عمرانیہ کے پیدا کردہ ہیں اور وہی ان کی ذمہ دار ہے۔
اس لیئے اس وقت جن کی حکومت ہے،انہیں ہی آئندہ الیکشن میں انہی نوجوان ووٹروں کو فیس کرنا پڑے گا جو الیکشن میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
اس تناظر میں پہلے کون سے کام کرنے چاہیں،موجودہ حکمرانوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔
واپس کریں