دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
وادی تیراہ کے بارے میں چند باتیں جان لیں۔طاہر سواتی
No image یہ ایک بلند و بالا، خوبصورت پہاڑی علاقہ ہے جہاں شدید برفباری ہوتی ہے، جس کی وجہ سے زیادہ بلندی پر رہنے والوں کی اکثریت سردیاں گزارنے کے لیے پشاور، کوہاٹ اور ہنگو کے میدانی علاقوں کی طرف نقل مکانی کرتی ہے۔برٹش راج سے یہ سلسلہ جاری ہے ۔
پوست اور افیون اس کی بنیادی فصلیں ہیں۔
یہ اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے دہشت گردوں کی آماجگاہ رہی ہے، کیونکہ یہ افغانستان کی سرحد پر واقع ہے۔
یہ اتنا دشوار گزار علاقہ ہے کہ پچھلے برس جب یہاں دہشت گردوں نے چند فوجی جوانوں کو شہید کیا تو ان کی لاشیں خچروں پر لاد کر نیچے لائی گئیں۔
ایک سال کے دوران مقامی قبائل اور ٹی ٹی پی کے درمیان تقریباً 56 جرگے ہو چکے ہیں۔ بالآخر جب دہشت گردوں نے رضاکارانہ طور پر علاقہ چھوڑنے سے انکار کیا تو جرگے نے خود اس علاقے میں آپریشن کی درخواست کی۔ یہ جرگہ پشاور میں چیف سیکرٹری کی قیادت میں ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنر اور آئی جی ایف سی بھی شامل تھے۔
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے 26 دسمبر کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں لکھا ہے کہ 28 اکتوبر 2025 کو ڈپٹی کمشنر نے اپنے مراسلے میں بتایا تھا کہ باغِ تیراہ کے مقامی جرگے نے رضاکارانہ طور پر علاقے کو عارضی مدت کے لیے خالی کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
صوبائی حکومت نے ڈپٹی کمشنر کے اس مراسلے کی بنیادی پر اس نوٹیفکیشن میں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور دیگر محکموں کو بے گھر افراد کے لیے سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں، اور اس سارے عمل کے لیے چار ارب روپے کی رقم بھی مختص کی۔
یہ سب کچھ کرنے کے بعد سہیل آفریدی پنجاب اور سندھ کے دورے پر نکل گئے۔
اس نے ایک تیر سے کئی شکار کھیلنے کی کوشش کی گئی۔
میڈیا کی ساری کوریج آپ نے متر گشت کی جانب مبذول کروا دی، تاکہ آپریشن کی طرف کسی کا دھیان نہ جائے،
اور یوں سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
لیکن ایک طرف برفباری اور دوسری طرف دہشت گردوں کی دھمکیوں نے سارا پلان خراب کر دیا۔
اچانک شدید برفباری شروع ہو گئی، اور صوبائی حکومت کے انتظامات نہ ہونے کے برابر تھے، جس کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے شدید مشکلات کا شکار ہو گئے۔
ادھر جب دہشت گردوں کو معلوم ہوا کہ اب صوبائی حکومت کچھ کارروائی کر رہی ہے تو انہوں نے دھمکی دی کہ آپ کا حشر بھی اے این پی والوں جیسا کریں گے۔
اب متاثرین اور ٹی ٹی پی دونوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے سہیل آفریدی اور اس کے تمام ترجمان شور مچا رہے ہیں ۔
یہ ہے ساری کہانی۔
ادھر نورین نیازی نے پچھلے ہفتے ایک انٹرویو میں 8 مئی کی پاک بھارت جنگ کو ڈرامہ قرار دیا،
اور کل وہ اپنے کارکنان کو ہدایات دے رہی تھیں کہ:
“آپ نے کے پی کے بند کرنا ہے، تربیلا ڈیم کی بجلی بند کرنی ہے، چھوٹا موٹا کام نہیں، بڑا کام کرنا ہے۔”
دنیا کے کسی بھی جمہوری نظام میں ریاستی نظام کو نقصان پہنچانا احتجاج کے زمرے میں نہیں آتا۔
اب جب یہ فساد پھیلائیں گے اور پھر قانون حرکت میں آئے گا تو 9 مئی کی طرح یہی شور مچائیں گے کہ یہ فوج اور ایجنسیوں کا فالس فلیگ آپریشن ہے۔
9 مئی کو بھی یہی ہوا تھا۔
چھوٹے بڑے سارے لیڈر کارکنوں کو اکساتے رہے، اور اب معصوم بنے پھرتے ہیں۔
واپس کریں