دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
وزارتِ خزانہ کی اکنامک اپڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ
No image وفاقی وزارت خزانہ نے ماہانہ اکنامک اپڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ برقرار ہے اور رواں ماہ مہنگائی 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026ء کی پہلی ششماہی میں معاشی استحکام برقرار ہے اور موجودہ مالی سال 2025-26ء میں ملکی معیشت کی رفتار برقرار رہنے کی توقع ہے۔ وفاقی وزارت خزانہ نے بتایا کہ مہنگائی قابو میں ہے اور ایل ایس ایم کی نمو میں واضح بہتری آئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط اور روپے کی قدر بھی مستحکم ہے۔ حکومت کی جانب سے معاشی استحکام اور بہتری کے بلند بانگ دعوے تو مسلسل کیے جا رہے ہیں مگر زمینی حقائق ان دعوؤں سے یکسر مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ سرکاری بیانات میں مہنگائی کی شرح میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور معاشی اشاریوں کے مثبت ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے، لیکن عام آدمی کی زندگی میں اس بہتری کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک کٹھن مرحلہ بن چکا ہے۔ آج ملک میں اشیائے خوردونوش، بجلی، گیس، پٹرول اور ادویہ کی قیمتیں عام شہری کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔ تنخواہیں جوں کی توں ہیں جبکہ اخراجات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ متوسط طبقہ جو کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، تیزی سے غربت کی لکیر کے قریب پہنچ رہا ہے۔ غریب طبقے کی حالت تو پہلے ہی ناگفتہ بہ ہے، جہاں دو وقت کا کھانا بھی بہت سے خاندانوں کے لیے مسئلہ بن چکا ہے۔ اس سنگین صورتحال میں بھی اشرافیہ اور بیوروکریسی کو سرکاری خزانے سے بے تحاشا مراعات اور سہولیات دی جا رہی ہیں۔ مہنگی گاڑیاں، شاہانہ رہائش، مفت بجلی، گیس، پٹرول اور دیگر مراعات نہ صرف عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں بلکہ قومی وسائل پر بھی بوجھ ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ملک معاشی مشکلات کا شکار ہے تو حکمران طبقہ اور اعلیٰ افسران سادگی اختیار کرنے کی بجائے مزید مراعات کیوں حاصل کر رہے ہیں؟ کیا کفایت شعاری صرف عوام کے لیے ہے؟ حکومت اگر واقعی معیشت کی بہتری کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے سب سے پہلے عوام کو حقیقی اور فوری ریلیف دینا ہوگا۔ محض اعداد و شمار کے ذریعے کامیابی کے دعوے کرنے سے عوام کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں واضح کمی، اشیائے ضروریہ پر مو￿†ر کنٹرول اور تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اشرافیہ اور بیوروکریسی کی مراعات میں نمایاں کٹوتی کر کے ایک مثال قائم کرنا ہوگی۔ علاوہ ازیں، ٹیکس نظام کو منصفانہ بنانا ناگزیر ہے تاکہ بوجھ صرف تنخواہ دار اور غریب طبقے پر نہ پڑے بلکہ بڑے جاگیرداروں، تاجروں اور طاقتور طبقات سے بھی ان کی آمدن کے مطابق ٹیکس وصول کیا جائے۔ کرپشن کے خاتمے اور شفاف طرزِ حکمرانی کے بغیر کوئی بھی معاشی اصلاح دیرپا ثابت نہیں ہو سکتی۔ معاشی استحکام کا اصل پیمانہ عوام کی زندگی میں آسانی ہے نہ کہ صرف حکومتی رپورٹس اور بیانات۔ جب تک عام آدمی سکھ کا سانس نہیں لیتا، اس وقت تک معیشت کی بہتری کے دعوے کھوکھلے ہی سمجھے جائیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نعروں کی بجائے عملی اقدامات کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال کرے کیونکہ مطمئن عوام ہی مضبوط معیشت کی ضمانت ہیں۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں