دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ٹرمپ اور یاہو کی ایران کو پھر شدید حملے کی دھمکی اور ایران کا سخت جواب دینے کا اعلان
No image امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بہت بڑا امریکی بحری بیڑا ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کی قیادت عظیم طیارہ بردار بحری جہاز ابراہیم لنکن کر رہا ہے۔ ان کے بقول وینزویلا کی طرح یہ بحری بیڑہ بھی ضرورت پڑنے پر طاقت اور تشدد سے اپنے مشن کو فوری طور پر مکمل کرنے کا پوری طرح اہل ہے۔ امید ہے کہ ایران جلد از جلد مذاکرات کی میز پر آئے گا اور منصفانہ اور مساوی معاہدے پر بات کرے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جوہری ہتھیار نہیں، ایک ایسا معاہدہ جو تمام فریقین کے لیئے بہتر ہو۔ ان کے بقول وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور معاملہ واقعی بہت اہم ہے۔ میں نے ایران سے پہلے بھی کہا تھا کہ معاہدہ کر لو مگر ایران نے میری بات نہ مانی اور پھر اپریشن مڈ نائیٹ ہیمر ہوا جس میں ایران کو بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹرمپ کے بقول اگلا حملہ اس سے زیادہ شدید ہو گا۔ دریں اثناء امریکی صدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جون میں ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کر دیا گیا تھا۔ ہماری فوجی کارروائیوں کے دوران کوئی شہری ہلاک نہیں ہوا۔ امید ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ ڈیل کر لے گا۔ ٹرمپ نے عراق کو بھی خبردار کیا کہ اگر سابق وزیراعظم نوری المالکی دوبارہ اقتدار میں آئے تو امریکہ عراق کی مزید حمایت نہیں کرے گا۔ دوسری جانب یورپی یونین کے اہم سفارتکاروں نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایران میں مظاہرین کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کی وجہ سے ایران پر پابندیوں کے نئے سلسلے کے پہلے مرحلے کے طور پر پاسداران انقلاب کے کئی سینیئر حکام پر پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاسداران انقلاب کے 21 عہدے داروں پر پابندیاں عائد ہوں گی اور ان کے بنک اکاؤنٹس منجمد کئے جائیں گے۔ اسی طرح اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی ایران کو دوبارہ بھرپور طاقت سے جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔ ان کے بقول ایران نے دوبارہ ایران پر حملہ کیا تو اسے ایسا جواب دیں گے جو اس نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا۔ انہوں نے یہ بڑ بھی ماری کہ وہ غزہ میں فلسطینی ریاست کے قیام کی قطعاً اجازت نہیں دیں گے۔ دوسری جانب چین اور روس نے دفاعی اتحاد کے تحت ایران اور وینزویلا پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ یو این سیکرٹری جنرل انتونیو گوئترس نے خلیج میں عسکری سرگرمیاں بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ فریقین کو زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔اس طرح جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں۔ اس کے برعکس ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب جنگی مشقوں کا اعلان کرتے ہوئے اس کا نوٹم بھی جاری کر دیا گیا جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
یہ امر واقع ہے کہ آج دنیا ایک بار پھر ایک نہایت خطرناک موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کو کھلے عام دھمکیاں، بڑے بحری بیڑے کی مشرقِ وسطیٰ کی جانب پیش قدمی، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ بیانات اس حقیقت کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ عالمی طاقتیں سفارت کاری کے بجائے طاقت کی زبان کو ترجیح دینے لگی ہیں۔ ایران کو مذاکرات یا شدید حملوں کے درمیان انتخاب کا الٹی میٹم دراصل بین الاقوامی قوانین، ریاستی خود مختاری اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح نفی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کا ایران کو حملے سے باز رہنے کا انتباہ، روس اور چین کا مشترکہ حکمتِ عملی کا اعلان، جرمن چانسلر اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تشویش، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس وقت عالمی نظام شدید انتشار کا شکار ہو چکا ہے۔امریکی صدر کی کھلے عام دھمکیاں صرف ایران کی خود مختاری میں مداخلت نہیں بلکہ پورے خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی فلسطین، غزہ، لبنان، شام اور یمن جیسے بحرانوں کی لپیٹ میں ہے۔ ایسے میں ایک اور بڑی جنگ کا امکان نہ صرف مسلم دنیا بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل، اور عالمی امن کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے حساس آبی راستے میں کسی بھی نوعیت کی عسکری مہم جوئی عالمی تجارت کو یرغمال بنا سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا واقعی ایک اور تباہ کن جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے؟
ایرانی مشن کا یہ بیان کہ ایران باہمی احترام کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر دباؤ کی زبان میں ایسا جواب دیا جائے گا جو پہلے کبھی نہیں دیا گیا، خطے کی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے۔ یہ ایک خوددار قوم کا موقف ہے جو دھمکیوں کے سائے میں فیصلے کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے زور پر مسلط کیے گئے فیصلے نہ پائیدار ہوتے ہیں نہ امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ افغانستان، عراق اور لیبیا جیسے ممالک کی مثالیں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہونی چاہئیں، جہاں نام نہاد جمہوریت اور سلامتی کے نام پر مداخلت نے ریاستوں کو کھنڈرات میں بدل دیا۔روس اور چین کا مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا تیزی سے دو یا کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اقوام متحدہ جیسے اداروں کی کمزوری کو مزید عیاں کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل گوئیترس کا احتیاط پر زور دینا دراصل اس نمائیندہ عالمی ادارے کی بے بسی کا اعتراف ہے۔ یہ عالمی ادارہ بڑی طاقتوں سے اپنے ہی چارٹر پر عملدرآمد کرانے میں ناکام ہو چکا ہے۔ سلامتی کونسل اکثر طاقتور ریاستوں کے مفادات کی یرغمال بن جاتی ہے اور کمزور ممالک کی خود مختاری محض بیانات تک محدود رہ جاتی ہے۔ جرمن چانسلر کا یہ کہنا کہ احتیاط کی ضرورت ہے، یورپ کے اس خوف کی عکاسی کرتا ہے کہ اگر آگ بھڑکی تو اس کے شعلے سرحدوں کو نہیں پہچانیں گے۔ مہاجرین کے نئے سیلاب، توانائی بحران، عالمی منڈیوں میں عدم استحکام اور دہشت گردی کے نئے امکانات یورپ سمیت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ اس کے باوجود افسوسناک پہلو یہ ہے کہ طاقت کی سیاست بدستور غالب ہے اور سفارت کاری پس منظر میں دھکیلی جا رہی ہے۔
ہمارا اصولی مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ کسی بھی خود مختار ریاست کے خلاف دھمکیوں، جارحیت اور دباؤ کی پالیسی ناقابلِ قبول ہے۔ پاکستان خود دہشت گردی اور بیرونی مداخلت کے تلخ تجربات سے گزر چکا ہے۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ جنگیں صرف نقشوں پر نہیں لڑی جاتیں، ان کی قیمت عام انسان اپنے خون، معاش اور مستقبل سے ادا کرتا ہے۔ اس لیے عالمی برادری بالخصوص مسلم دنیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خلاف مؤثر اور مشترکہ آواز بلند کرے۔امریکی صدر کے توسیع پسندانہ اقدامات اگر اسی طرح جاری رہے تو دنیا واقعی ‘‘جس کی لاٹھی اس کی بھینس’’ کے فلسفے کی طرف لوٹ جائے گی۔ یہ وہی جنگل کا قانون ہے جس نے بیسویں صدی میں دو عظیم جنگوں کو جنم دیا اور کروڑوں انسانوں کو نگل لیا۔ آج کے ایٹمی دور میں کسی بڑی طاقت کی ذرا سی لغزش پوری انسانیت کو ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار کر سکتی ہے۔ کیا عالمی قیادت اس بنیادی حقیقت کو فراموش کر چکی ہے؟اسرائیل کا کردار بھی اس پورے بحران میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطین میں جاری مظالم، غزہ کی تباہی اور بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیاں خطے میں غصے اور بے چینی کو ہوا دے رہی ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست تصادم پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک وسیع جنگ میں جھونک سکتا ہے، جس کے اثرات جنوبی ایشیا تک محسوس ہوں گے۔ پاکستان کو بھی، جس کے مفادات خطے کے امن سے وابستہ ہیں، اس صورتحال پر گہری نظر رکھنی ہوگی اور سفارتی سطح پر امن کی کوششوں کا حصہ بننا ہوگا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ طاقت کے مظاہرے بند ہوں، بحری بیڑے پیچھے ہٹیں، اور اقوام متحدہ کو محض خاموش تماشائی کے بجائے فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ بڑی طاقتوں کو قانون کا پابند بنائیں، ورنہ ان کی ساکھ ہمیشہ کے لیے مجروح ہو جائے گی۔ ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات ہوں یا اسرائیل اور ایران کی دشمنی، ان سب کا حل مذاکرات، اعتماد سازی اور بین الاقوامی ضمانتوں کے ذریعے ہی ممکن ہے، نہ کہ میزائلوں اور طیارہ بردار جہازوں کے ذریعے۔ اس حوالے سے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ نئے اور زیادہ خطرناک مسائل کو جنم دیتی ہے۔ اگر آج ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ عالمی قیادت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ تاریخ میں امن کے معمار کے طور پر یاد رکھی جائے گی یا تباہی کے معمار کے طور پر۔ اقوانِ عالم بالخصوص مشرقِ وسطیٰ مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ دنیا کو اب طاقت کی بجائے دانش اور معاملہ فہمی کی ضرورت ہے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں