دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
یاسین ملک ایک "ہیرو"تحریر: ڈ اکٹر صغیر خان (راولاکوٹ کشمیر)
No image یاسین ملک… یوں تو نام ہی کافی ہے کہ عصر حاضر میں وہ میرے وطن جموں کشمیر میں جاری کسی قدر مزاحمتی تحریک کا ایک اہم ترین بلکہ کئی حوالوں سے سب سے اہم علامت و استعارہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود (ریکارڈ کی درستگی کے لئے) یہ کہنا حق بنتا ہے کہ میں یاسین ملک کو زیادہ نہیں جانتا، میں نہ ان سے کبھی بالمشافہ ملا ہوں نہ ان کے متعلق ’’دیدشنید‘‘ کے سنہرے سکے میرے جھولی میں کبھی پڑے ہیں۔ یہ سب کسی ’’گریز‘‘ کے سبب بھی ہو سکتا ہے اور ایک ان کہی سستی کا شاخسانہ بھی اور بوجوہ چھائی مایوسی بھی اس کی وجہ ہو سکتی ہے… لیکن ایسا ہے اور مجھے اپنی اس کم مائیگی کے اعتراف سے بچنے کے لئے کوئی معقول عذر سردست بہم نہیں۔ سو یہی حقیقت ہے… ہاں تو بات یاسین ملک کی ہو رہی تھی، ہو یاسین ملک جو بھارت کے بدنام زمانہ اور مشہور عقوبت خانوں کی سہتے سہتے اب ایک ایسے مرحلے پر آن پہنچا ہے کہ کل کلاں اس نے" ہونے" اور نہ ہونے کی سوچ آج ہرسو کھنڈر پھیل رہی ہے۔ یاسین ملک کون ہے؟ اس کا پس منظر کیا ہے؟ اس کا تعلیمی و سیاسی کیریئر کیسا ہے؟ اس کی سیاست اور قیادت کا معیار کیا ہے؟ گرچہ میں یہ سب کچھ زیادہ جانتا سمجھتا ہرگز نہیں لیکن سچ یہ ہے کہ میرے لئے آج ان سوالات کی کوئی اہمیت نہیں۔ مجھے یاسین ملک کی ذاتی، سیاسی و نظریاتی زندگی سے کوئی معقول یا نامعقول اختلاف ہو سکتا ہے لیکن کچھ حقائق ایسے ہیں جن کی تفہیم و تسلیم مجھ ایسوں کا فرض بنتا ہے۔
مقبول بٹ کی شہادت کے بعد اور بین الاقوامی و علاقائی حالات کے زیر اثر جب بھارتی مقبوضہ کشمیر میں عوامی مسلح جدوجہد یا ایک نوع کی ’’گوریلاوار‘‘ کا آغاز ہوا تو اس کی بنت کے معتبر و موقر کرداروں کے ساتھ ساتھ ایک Hajy کا تذکرہ یہاں وہاں ہرجگہ سننے کو ملا۔ میری ناقص معلومات کے مطابق یہ گروپ ایک بڑے نیٹ ورک اور ترتیب کا ’’چہرہ‘‘ تھا۔ صدشکر کہ ہزارہا کمیوں خرابیوں کے باوجود یہ چہرہ اسدعمر ثابت نہیں ہوا بلکہ حالات اور وقت کے مطابق کہیں نہ کہیں اپنا کردار نبھاتا رہا۔ اشفاق مجید وانی، حمیدشیخ، جاوید میر اور یاسین ملک… یہ مربع تھا یا مستطیل، یہ میں نہیں جانتا لیکن یہ ضرور ہوا عوامی مسلح جدوجہد (جس میں ہزارہا خامیاں تلاشی تراشی جا سکتی ہیں) کے قاعدہ آغاز میں ان افراد نے بھرپور کردار ادا کیا۔ پھر وہ وقت آیا جب اشفاق مجید وانی نے شہادت کا جامہ اوڑھا اور معرکہ ڈل میں حمیدشیخ بھی اسی سفر پر روانہ ہوئے جو اکثر اہل حق کا مقدر ہے۔ اب بات باقی کرداروں کی کرتے ہیں۔ جاوید میر اور یاسین ملک… بڑھتی پھیلتی اور کبھی رکتی سمٹتی تحریک میں یہ بات مدت سے ’’لائم لائٹ‘‘ پر ہے۔ گرفتاری و رہائی کی دھوپ چھائوں سہتے یہ لوگ چلتے رہے اور پھر یوں ہوا کہ ایک تحریکی سیاسی رہنما کے طور پر جلد ہی یاسین ملک کے نام کو ایک اعتبار و وقار حاصل ہو گیا۔
مختلف ذرائع بتاتے رہے کہ قبدبند، شدید تشدد اور معقول و ذہین افراد کی مشاورت نے یاسین ملک کو صیقل کیا اور یوں وہ جموں کشمیر کی مکمل آزادی کی تحریک کا لازمی و اہم ترین "کردار "بنتے چلے گئے۔ اس سارے سفر میں اپنی ذاتی زندگی اور تنظیمی و سیاسی معاملات میں ممکن ہے، ان سے کئی غلطیاں ہوتی ہوں اور ایسا یقینا ہوا ہو گا کہ ہماری تحریک اور اس سے متعلقہ کرداروں سے ایسا ہونا ایک عمومی سا عمل ہے لیکن بیسویں دوسرے فعال کرداروں کی طرح یاسین ملک کی قربانیوں سے انکار ممکن نہیں۔
یاسین ملک اب بھی بھارتی قید میں ہے اور اندازے و قرائن کی بنیاد پر کہا جا رہا ہے کہ اسے قیدحیات سے رہائی کا ’’مژدہ‘‘ بھی سنایا جا سکتا ہے… ممکن ہے ایسا کر دیا جائے کہ غاصب، ظالم اور بالادستوں کے لئے اپنے مدمقابل کھڑے ہر شخص کی زندگی غیرضروری اور فضول ہے اور وہ اپنے آرام میں مخل ہونے والے ہر ’’جینے جیو‘‘ سے یقینا خلاصی چاہتے ہیں۔ سو یاسین ملک کے باب میں گر انہیں یہ ’’سہولت‘‘ میسر ہو تو ان کے لئے اس سے فائدہ نہ اٹھانا یقینا ’’کفران نعمت‘‘ ہو گا، لیکن تاریخ بناتی ہے کہ اس نوع کی موت اس قبیل کے کرداروں کو حیات جاوید بخشنے اور ان کی جدوجہد و نظریات کو تابندگی اور دوام دینے کے لئے اکسیر ثابت ہوتی ہے، سو مجھ کوڑھ مغز کے خیال میں یاسین ملک کی زندگی سے متعلق غاصب جابر ظالم بھارت کا کوئی بھی فیصلہ اس کے لئے ’’عمرخضر‘‘ کا پروانہ ثابت ہو گا…
ہر نوع شناسائی اور کسی بھی طرح کے اختلاف کو ایک طرف رکھتے ہوئے اگر آج کے جموں کشمیر اور اس کی تحریک آزادی کے منظرنامہ کو دیکھا پرکھا جائے تو اس حوالے سے یاسین ملک کی جدوجہد اور قربانیوں سے انکار کسی طور بھی ممکن نہیں۔ یہ ضرور ہے کہ تحریکی و تنظیمی سطح پر یاسین ملک ایسوں سے Do More کی توقع ضرور رکھی جاتی رہی ہو گی اور اس مشکل سفر میں ان کا سانس بھی کہیں پھولا ہو گا، لیکن اس سے سب کچھ کے باوجود ان کی محنت و دیانت میرے خیال میں قابل ستائش و تقلید ہے۔ آج جب یاسین ملک ایک مخصوص صورتحال کا شکار ہیں تو جانے کیوں میرا دل کہتا ہے کہ ایسے مرحلے پر تمام فروعی، گروہی، شخصی بلکہ تنظیمی و نظریاتی اختلافات کو وقتی طور پر ایک جانب رکھ کر مظلوم، محکوم و منقسم کشمیری قوم اور قیادت کو یک زبان و یکجان ہو کر ظلم کی اس رات اور ریت کے خلاف صدا بلند کرنی چاہیے… ہو سکتا ہے کہ میری یہ خواہش محض دیوانے کا خواب ہو کیونکہ ’قرزانگی‘‘ اور ’’مردانگی‘‘ تقاضے مختلف ہوا کرتے ہیں، لیکن ایک ’’عامی‘‘ خاصوں اور خاصے کی بات اس طرح نہیں سمجھ سکتا جس طرح انہیں اس کی تفہیم پر دسترس ہوتی ہے… بہرحال یاسین ملک بوجوہ آج کشمیری قوم کے لئے ایک آوازہ، مینارہ اور شاید خمیازہ بن چلا ہے جس کے ہونے اور نہ ہونے کے اثرات کا ادراک کرنا اہل سیاست و قیادت کا منصب ہے… میں تو محض ایک جلتے ٹمٹماتے دیے کے بجھنے اور اس کے باعث تاریکی کے مزید بڑھنے کے خوف میں مبتلا ایک ’’بیبا‘‘ ہوں جو ’’اصل اور بیچ کی بات‘‘ ذرا کم ہی سمجھتا ہوں… لیکن کیا کیجئے… جب کسی کا گھر جل رہا ہو… سارا اثاثہ بھسم ہو رہا ہو اور ساتھ ہی مکین بھی زیرآتش ہوں تو تب اس کی دہائی میں ترنم کہاں سے آئے گا؟… اس نے تو اپنے لٹنے پٹنے پر ’’رواس پٹاس‘‘ ہی کرنا ہے… اور یہ عمل یقینا بے سرا بھی ہو گا اور بے سوادا یا بے وقت کی ’راگنی‘ بھی… لیکن بقول منیرنیازی… بین کرتی عورتیں… رونق ہیں میت کی… شاید اسی لئے میں اپنے وطن جموں کشمیر، اس کی وحدت، آزادی، سیاست و قیادت کی اجتماعی ’میت‘ پر نوحہ کناں ہوں اور سمجھتا ہوں کہ یاسین ملک ماضی کے اور بلاشبہ مستقبل کے کئی اہم کرداروں کی طرح وقت کا وہ چراغ ہے جس کا دم اور لو غنیمت ہے۔
سو ایک بار پھر یاسین ملک ایسوں کو لاحق خدشات کی بنیاد پر ان کے اپنوں سے اور غیروں سے دست بستہ عرض گزار ہوں کہ وقت کی نزاکت کا احساس کیجئے… اور یاد رکھیے کہ سانپ گزر جائے تو لکیر پیٹنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
میری دُعا ہے کہ مالک دو جہاں یاسین ملک کو لاحق خطرات سے محفوظ رکھے کہ مارنے والے سے بچانے والا بہت ہی بڑا ہے… اور یہ بھی دُعا ہے کہ ملک صاحب سمیت سبھوں کو حقیقی سمجھ عطا ہو کہ اپنے مشترکہ وجود، دکھ اور ناسور کو جان پہچان سکیں کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر ہماری داستاں تک بھی نہ رہے گی داستانوں میں۔
واپس کریں