
لاہور(نامہ نگار خصوصی)کشمیرسنٹرلاہور کے زیراہتمام بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ مناتے ہوئے پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مختلف سیاسی وسماجی جماعتوں کے رہنماؤں نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جمہوریت دنیا کا سب سے بڑا فراڈ ہے۔ نام نہاد جمہوریت کا لبادہ اوڑھے وہ دنیا کو گمراہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔دوکروڑ کے لگ بھگ کشمیری عوام پون صدی سے حق خودارادیت کی جدوجہد میں مصروف ہیں لیکن بھارت انھیں ان کا پیدائشی جمہوری حق دینے پر تیار نہیں۔مظاہرے سے سابق مشیر حکومت نصیب اللہ گردیزی، کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما انجینئرمشتاق محمود،انچارج کشمیرسنٹرانعام الحسن، صدر مسلم لیگ ن لاہورآزادکشمیر ڈویژن راجہ شہزاد احمد،سینئرنائب صدر معراج دین شاہین، ہنما جموں وکشمیروکلاء محاذ مرزا عبدالرشید جرال ایڈووکیٹ، کیپٹن (ر) محمدمشتاق، رہنمامحاذ رائے شماری آفتاب نازکی، صدر پی ٹی آئی آزادکشمیرلاہورڈویژن جاوید ڈار، جنرل سیکرٹری ن لیگ بلال بٹ،سکاؤٹس لیڈر محمداشفاق، سماجی رہنما نازیہ بٹ،مقبول اعوان،چوہدری صدیق،علامہ مشتاق قادری، علامہ فداء الرحمان، انوار قاضی،پروفیسرمحمد مظہر عالم، نعیم بٹ،نوید ملک، بشارت وہرا، محمود کشمیری،فیصل فابانی،مقصود چغتائی، فکراقبال فاؤنڈیشن کے عبدالمنان، نذربھنڈر اور دیگر نے خطاب کیا۔ مظاہرے میں سیاسی،سماجی مذہبی رہنماؤں کشمیری کمیونٹی کے نمائندگان،طلبا اور دیگرشہریوں سمیت بوائز سکاؤٹس کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ مظاہرین نے بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔سیاہ جھنڈے اورپلے کارڈ زاٹھارکھے تھے جن پر جموں وکشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے، ظلم وجبر اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بھارت ایک جانب یوم جمہوریہ منارہاہے اور دوسری جانب وہ مقبوضہ جموں وکشمیر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کرتے ہوئے جگہ جگہ فوجی دستے تعینات کردیتاہے۔ کرفیو کے نفاذ کے باوجود کشمیری عوام گھروں سے باہر نکل کر بھارت کے خلاف اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہوئے سخت احتجاجی مظاہرے منعقد کرتے ہیں۔انھوں نے کہا بھارت آج یوم جمہوریہ کا جشن منارہاہے لیکن دوسری جانب کشمیر آج کے دن کو یوم سیاہ منارہے ہیں۔ کشمیر میں نہ ہی جمہوریت ہے نہ ہی انسانی حقوق وہاں صرف اور صرف ظلم وجبر ہے، تشدد ہے او رخون کی ہولی ہے۔ مسئلہ کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی زندگی اور بقا کا مسئلہ ہے۔ یہ ان کے مستقبل کا مسئلہ ہے جس کا فیصلہ انھیں خود ہی کرنا ہے۔ یہ ایک انسانی زندگی کا مسئلہ ہے یہ پوری کشمیری قوم کے حق خودارادیت کا مسئلہ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بھارت انسانی حقوق کی زبردست پامالیوں میں ملوث ہے۔ 5اگست 2019ء کے بعد سے کشمیری عوام کے تمام انسانی و شہری حقوق سلب کرلیے گئے ہیں۔انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ بھارت کے ان اقدامات کا نوٹس لیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیش کش کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اس عالمی ادارے سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کشمیری عوام کو ان کا پیدائشی اور جمہوری حق حق خودارادیت دینے کی اپنی قراردادوں پر فوری عمل درآمد کے لیے بھار ت کو مجبور کرے۔ ان کا کہنا تھا بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا علم بردار ہونے کا دعوی کرتاہے لیکن اس کے اس ڈھونگ کو کشمیری عوام سخت احتجا ج اور گلی کوچوں میں مظاہرے کرتے ہوئے بے نقاب کرتے ہیں۔ دنیا کو جان لیناچاہیے کہ کشمیری عوام صدیوں تک آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد تو کرتے رہیں گے لیکن وہ کبھی بھی بھارت کی غلامی کو قبول نہیں کریں گئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا یوم جمہوریہ کشمیریوں کا یوم سیاہ ہے۔ اقوام متحدہ اور اوآئی سمیت تمام عالمی اداروں اور مہذب دنیا کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے اور وہاں انسانی حقوق کی شدید پامالیوں کا نوٹس لیں۔ بھارت خود کو جمہوری اور سیکولرریاست قراردیتاہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک فاشسٹ ہندو ریاست ہے جہاں کسی بھی اقلیت کو کوئی تحفظ اور حقوق حاصل نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے عوام کا مزید استحصال کرنے کے لیے صحافتی اداروں پر بھی پابندیاں عائد کردی ہیں تاکہ اس کے ظلم وجبرکے خلاف کوئی آواز کشمیر سے باہر نہ جاسکے۔ مظاہرے کے اختتام پر علامہ مشتاق احمدقادری نے شہدائے کشمیر کی بلندی درجات اور مقبوضہ جموں وکشمیر کی بھارت کے غاصبانہ قبضہ سے جلد آزادی کے لیے خصوصی دعا کرائی۔
واپس کریں