محمد ریاض ایڈووکیٹ
سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق درخواست کو جرمانے کے ساتھ مسترد کرنا محض ایک عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ پاکستان کے تعلیمی، سیاسی اور آئینی ڈھانچے پر ایک گہرا تبصرہ ہے۔ جسٹس عدنان الکریم میمن کے ریمارکس کہ“تعلیم پہلے ہی تباہ ہے، آپ اور کیوں برباد کرنا چاہتے ہیں؟”بظاہر سخت ضرور محسوس ہوتے ہیں، لیکن اگر انہیں پاکستان کی عدالتی تاریخ اور زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ غیر معمولی نہیں بلکہ تسلسل کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ اکثر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جب سندھ میں سندھ سٹوڈنٹ یونین ایکٹ، 2022 موجود ہے تو پھر عدالت نے طلبہ یونین کے اغراض و مقاصد پر سوال کیوں اٹھایا؟ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ عدالت محض قانون کی موجودگی نہیں دیکھتی بلکہ اس کے عملی نتائج، سماجی اثرات اور آئینی مطابقت کو بھی جانچنے کی پابند ہوتی ہے۔ یہی وہ اصول ہے جس پر پاکستان کی سپریم کورٹ ماضی میں طلبہ یونین کے معاملے پر واضح مؤقف اختیار کر چکی ہے۔ 1993 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے طلبہ یونینز اور طلبہ تنظیموں کی سیاسی سرگرمیوں سے متعلق ایک اہم فیصلے میں اس امر کی توثیق کی تھی کہ تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد تعلیم ہے، نہ کہ سیاسی تربیت یا طاقت کا مظاہرہ۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس فیصلے میں اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ طلبہ سیاست نے کالج یونیورسٹیوں کو علم کے مراکز کی بجائے تصادم کے میدان بنا دیا ہے، جہاں تشدد، اسلحہ اور دباؤ معمول بن چکا ہے۔ اسی فیصلے کے تحت 1984 میں عائد کی گئی پابندی کو عملاً برقرار رکھا گیا۔ یاد رہے پاکستان میں سندھ واحد صوبہ ہے جہاں طلبہ یونین کے لئے خصوصی قانون موجود ہے۔
یہ عدالتی تاریخ اس بات کی غماز ہے کہ ریاستِ پاکستان، بطور مجموعی ادارہ، طلبہ یونین کو کبھی محض ایک جمہوری حق کے طور پر نہیں دیکھتی رہی بلکہ اسے ایک ممکنہ سیکیورٹی اور نظم و ضبط کے مسئلے کے طور پر بھی جانچا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ نے بارہا اس نکتے پر زور دیا کہ آئین کا آرٹیکل 17 (تنظیم سازی کا حق) مطلق نہیں بلکہ معقول پابندیوں کے تابع ہے، خصوصاً جب معاملہ عوامی مفاد، نظمِ عامہ اور ادارہ جاتی استحکام سے جڑا ہو۔ سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت کیس کے دوران عدالت کا یہ سوال کہ“کیا طلبہ یونین فیکٹری یونین کی طرز پر وائس چانسلرز کو دھمکانا چاہتی ہے؟”کسی ذاتی رائے کا اظہار نہیں بلکہ اسی عدالتی سوچ اور زمینی حقائق کا تسلسل ہے جسے سپریم کورٹ پہلے ہی اصولی طور پر تسلیم کر چکی ہے۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی بڑی جامعہ ہو جو طلبہ تنظیموں کے ہاتھوں یرغمال نہ بنی ہو، جہاں اساتذہ کو دھمکایا گیا ہو، امتحانات ملتوی کروائے گئے ہوں اور انتظامیہ فیصلے کرنے سے قاصر رہی ہو۔
یہاں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ سندھ اسٹوڈنٹس یونین ایکٹ 2022 میں تشدد اور سیاسی وابستگی پر پابندیاں عائد ہیں، مگر سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں اصل سوال قانون کے متن کا نہیں بلکہ اس کے نفاذ کا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ متعدد مقدمات میں یہ واضح کر چکی ہے کہ محض قانون سازی ریاست کو ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں کرتی، بلکہ ناقص نفاذ بھی آئینی ناکامی تصور کیا جاتا ہے۔ ہائی کورٹ کا یہ استفسار کہ درخواست گزار کی موجودہ حیثیت کیا ہے اور آیا وہ اب بھی طالب علم ہیں یا نہیں، بھی سپریم کورٹ کے طے شدہ اصول یعنی "دعویٰ دائر کرنے کا حق دار ہے بھی یا نہیں" کے عین مطابق ہے۔ عدالتیں بارہا یہ قرار دے چکی ہیں کہ عوامی مفاد کے نام پر دائر کی جانے والی درخواستوں میں نیت، اہلیت اور عملی فائدہ واضح ہونا ضروری ہے، ورنہ عدالتی وقت کو نظریاتی بحثوں کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں طلبہ یونین کے نام پر ہونے والی غنڈہ گردی، کلانشکوف، ماردھاڑ کلچر کی وجہ سے عدالت اگر یہ سوال اٹھائے کہ طلبہ یونین واقعی قیادت پیدا کرتی ہے یا صرف طاقت کے نئے مراکز، تو یہ سوال غیر منطقی نہیں۔ ہم نے زمانہ طالب علمی میں اپنے کالج، یونیورسٹی میں طلبہ یونین کی کوئی ایک مثبت سرگرمی نہیں دیکھی ماسوائے یہ کہ برسراقتدار سیاسی جماعت کی پشت پناہی پر حزب اختلاف کی نمائندہ طلبہ تنظیم کے اراکین کی پھینٹی۔ ہمارے جیسے کمزور اور شریف النفس طلبہ تو شیطان کے بعد یونین لیڈران سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے۔
سندھ ہائیکورٹ شاید یہ سمجھتی ہے کہ جب تعلیمی ادارے پہلے ہی انتظامی کمزوری، تدریسی زوال اور سیاسی دباؤ کا شکار ہوں، تو ایسے ماحول میں طلبہ یونین کی بحالی مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک نیا بحران پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وہ معروضی حالات ہیں جنہیں سپریم کورٹ ماضی میں نظمِ عامہ کے زمرے میں رکھ چکی ہے۔ آخر میں یہ کہنا زیادہ حقیقت پسندانہ ہوگا کہ سندھ میں طلبہ یونین کا قانون اپنی جگہ، مگر جب تک ریاست، حکومت اور تعلیمی ادارے سپریم کورٹ کے طے کردہ اصولوں کے مطابق ایک محفوظ، غیر سیاسی اور نظم و ضبط پر مبنی تعلیمی ماحول فراہم نہیں کرتے، تب تک عدالتوں کی سختی نہ صرف قابلِ فہم ہے بلکہ شاید ناگزیر بھی۔ میری ذاتی رائے کے مطابق طلبہ یونین صرف اور صرف ترقی یافتہ ممالک میں ہی چل سکتی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں طلبہ یونین کسی عذاب سے کم نہیں ہیں۔ مزید قارئین کے لئے سوال چھوڑ دیتا ہوں کہ پاکستان میں طلبہ یونین ہونی چاہیے یا نہیں؟
واپس کریں