مسئلہ کشمیر: بدلتی بین الاقوامی سیاست میں ایک فیصلہ کن موڑ

جموں و کشمیر پر بھارت کا غیر قانونی تسلط ایک ایسا معاملہ ہے جسے دنیا متنازعہ تصور کرتی ہے حالانکہ حالیہ برسوں میں بھارت بین الاقوامی برادری کو یہ یقین دلانے کے لیے بہت زیادہ کوششیں کرچکا ہے کہ 5 اگست 2019ء کے اس کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام کے بعد مسئلہ کشمیر حل ہو چکا ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ میں حال ہی مسئلہ کشمیر کو جس طرح موضوع بنایا گیا ہے اس سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ بین الاقوامی برادری مسئلہ کشمیر کو بھارت کی نظر سے ہرگز نہیں دیکھتی۔ برطانوی میڈیا کے مطابق، بھارت کو یہ خدشہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی امن بورڈ میں لاسکتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ نہیں بلکہ ایک ایسا متنازعہ علاقہ مانتی ہے، لہٰذا بھارت کے 5 اگست 2019ء کے اقدام اور اس کے بعد کی گئی تمام کوششوں کو بین الاقوامی برادری کوئی حیثیت نہیں دیتی۔
اسی تناظر میں یہ واقعہ بھی اہمیت کا حامل ہے کہ کنٹرول لائن کے دونوں جانب کشمیر میں اور دنیا بھر میں گذشتہ روز 26 جنوری کو بھارت کے یومِ جمہوریہ کو کشمیریوں کی طرف سے ’یومِ سیاہ‘ کے طور پر منایا گیا جس کا مقصدعالمی برادری کوباورکرانا تھا کہ بھارت کشمیریوں کو ان کا ناقابلِ تنسیخ حق، حقِ خود ارادیت دینے سے مسلسل انکار کر رہا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، ’یومِ سیاہ‘ منانے کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس نے دی تھی۔ اس موقع پر مقبوضہ جموں وکشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی جبکہ آزاد جموں و کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں بھارت مخالف مظاہرے کیے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں تاکہ بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دیا جاسکے کہ بھارت جس نے کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں ،اسے مقبوضہ علاقے میں اپنا یومِ جمہوریہ منانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
ہر سال 26 جنوری مظلوم کشمیریوں کے لیے نئی مشکلات کا باعث بنتاہے۔ اس سلسلے میں بھارتی فوجیوں نے پورے مقبوضہ علاقے میں گاڑیوں اور راہگیروں کی تلاشی کا سلسلہ تیز کر دیا تھا۔ وادیِ کشمیر اور جموں خطے میں یومِ جمہوریہ کی سرکاری تقریبات کے مقامات کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو خار دار تاریں اور رکاوٹیں لگا کر بند کردیا گیا تھا جبکہ لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے بڑی تعداد میں قابض فورسز کو تعینات کیاگیاتھا اور لوگوں پر نظر رکھنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا تھا۔ بھارتی پیراملٹری اور پولیس اہلکار، سراغرساں کتوں کے ہمراہ سرینگر اور مقبوضہ علاقے کے دیگر شہروں اور قصبوں میں داخلی اور خارجی راستوں پر گاڑیوں کی تلاشیاں لے رہے تھے اورراہگیروں کی شناخت پریڈ کرائی جارہی تھی۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اب تک امریکا کے ساتھ بھارت کے گہرے تعلقات اور روابط بھی مسئلہ کشمیر کی راہ میں رکاوٹ بنتے رہے ہیں لیکن پچھلے برس مئی میں صورتحال بدلنا شروع ہوئی اور اب اس میں بہت زیادہ تبدیلی آ چکی ہے۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی جریدے ’دی ڈپلومیٹ‘ کی وہ حالیہ رپورٹ بھی اہمیت کی حامل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بھارت تنازعہ پرامریکی ثالثی کے دعوے کوبھارت کے مسترد کرنے کے بعد امریکا اور بھارت کے تعلقات منجمد کیفیت میں داخل ہوگئے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی بحران کو پاکستان نے سفارتی موقع میں بدلا، پاکستان نے صدر ٹرمپ کے ثالثی کردار کو بھرپور انداز میں سراہا۔ جریدے کے مطابق، پاک امریکا انسداد دہشت گردی تعاون دوبارہ بحال ہو گیا اور پاک امریکا تعلقات کے پرانے ستون کو نئی زندگی ملی۔ دسمبر2025ء میں پاکستان نے ایف16طیاروں کے اپ گریڈ کے لیے امریکی منظوری حاصل کی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے بعد صدر ٹرمپ نے پاک فوج کے سربراہ کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا جو بذاتِ خود ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت تھی۔ دی ڈپلومیٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ہونے والی گفتگو محض دفاعی یا سکیورٹی امور تک محدود نہ رہی بلکہ اس میں تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی استحکام اور معاشی شراکت داری جیسے اہم موضوعات بھی شامل تھے۔ یہ پیش رفت اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ پاکستان اب صرف ایک سکیورٹی اسٹیٹ نہیں بلکہ ایک ابھرتی ہوئی معاشی اور سفارتی طاقت کے طور پر اپنی شناخت منوا رہا ہے۔ اس کے بعد ستمبر 2025ء میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس کا اہم دورہ کیا۔ یہ دورہ اس بات کا ثبوت تھا کہ امریکا پاکستان کو خطے میں ایک کلیدی شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے، نہ صرف سکیورٹی بلکہ معاشی اور سفارتی میدان میں بھی۔
مذکورہ صورتحال سے یہ اندازہ تو ہوتا ہے کہ امریکا پاکستان کو ایک تزویراتی شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس کے ساتھ مل کر کام کرے لیکن امریکا اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ پاکستان کے لیے مسئلہ کشمیر بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے، لہٰذا اسے چاہیے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔ علاوہ ازیں، بین الاقوامی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ، پر یہ اخلاقی اور قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوشش کرے۔ کشمیری عوام تقریباً آٹھ دہائیوں سے منتظر ہیں کہ انھیں آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔ آج جب بین الاقوامی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی، امریکی ثالثی کی پذیرائی اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام آباد امن کا خواہاں ہے مگر وہ کسی بھی صورت اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اب یہ بین الاقوامی برادری پر منحصر ہے کہ وہ تاریخ کے اس نازک موڑ پر انصاف کا ساتھ دیتی ہے یا خاموشی کا۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں