دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ایل ای ڈی ہیڈلائٹس: ریاستی غفلت یا اخلاقی کمزوری؟
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
پاکستان کی سڑکیں پہلے ہی ٹریفک کے بے شمار خطرات سے بھری ہوئی ہیں، مگر ان خطرات میں حالیہ برسوں میں ایک ایسا اضافہ ہوا ہے جسے نہ صرف نظرانداز کیا جا رہا ہے بلکہ بسا اوقات دانستہ سہولت بھی دی جا رہی ہے۔ یہ خطرہ ہے گاڑیوں میں غیر قانونی، غیر معیاری اور حد سے زیادہ تیز ایل ای ڈی اور ایچ آئی ڈی ہیڈلائٹس کا بے قابو استعمال۔ یہ محض ایک فیشن یا تکنیکی اپ گریڈ نہیں بلکہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو براہِ راست انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
یہ حقیقت اب ناقابلِ تردید ہے کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں گاڑیوں ، رکشوں، موٹر سائیکلوں میں ایسی ہیڈلائٹس استعمال ہو رہی ہیں جو سامنے سے آنے والی ٹریفک حتی کہ پیدل چلنے والوں کی بصارت کو متاثر کرتی ہیں۔ رات کے وقت چند لمحوں کی چکاچوند کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول سمجھی جاتی ہے، مگر ہمارے ہاں یہی عمل معمول بنتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ریاست، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور متعلقہ حکام کہاں کھڑے ہیں؟
قانونی بات کی جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ا یل ای ڈی ہیڈلائٹس کے استعمال کی بابت کوئی مخصوص قانون موجود نہیں ہے ۔ بہرحال موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 واضح طور پر اس بات کا پابند کرتا ہے کہ سڑک پر چلنے والی ہر گاڑی محفوظ حالت میں ہو۔ اس آرڈیننس کے سیکشن 39 کے تحت گاڑی کا فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی ایسی گاڑی کوفٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے روک سکے جو گاڑی سڑک پر چلنے سے دوسروں کے لیے خطرہ بن رہی ہو۔ حد سے زیادہ تیز اور چکاچوند پیدا کرنے والی ہیڈلائٹس اس تعریف میں مکمل طور پر فٹ آتی ہیں۔ اس کے باوجود، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سڑکوں پر روزانہ ہزاروں ایسی گاڑیاں چل رہی ہیں جن کی لائٹس نہ فیکٹری معیار کی ہیں، نہ درست زاویے میں نصب کی گئی ہیں اور نہ ہی کسی تکنیکی جانچ سے گزری ہیں۔ یہ صورتحال قانون پر عملدرآمد کی صریح ناکامی ہے۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان غیر قانونی لائٹس کا نقصان سامنے سے آنے والی ٹریفک یا پھر پیدل شہری سب کو یکساں ہوتا ہے ۔ رات کے وقت ڈرائیونگ ویسے بھی زیادہ احتیاط طلب ہوتی ہے اور جب سامنے سے آنے والی گاڑی کی تیز نیلی یا سفید روشنی اس کی آنکھوں کو چند سیکنڈ کے لیے مفلوج کر دے تو حادثہ محض امکان نہیں بلکہ قریب الوقوع حقیقت بن جاتا ہے۔ ایسے حادثات کو محض “قسمت” یا “غلطی” کہہ کر نظرانداز کرنا دراصل ریاستی ذمہ داری سے فرار کے مترادف ہے۔
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس و صوبائی ٹریفک پولیس نے متعدد بار واضح کیا ہے کہ غیر معیاری ایل ای ڈی اور ایچ آئی ڈی ہیڈلائٹس موٹرویز پر اور نیشنل ہائی ویز پر ناقابلِ قبول ہیں۔ اس کے باوجود موٹرویز، ہائی ویز اور شہری علاقوں میں یہی لائٹس دندناتی پھرتی ہیں، اور کہیں چالان ہو بھی جائی تو وہ محض رسمی کارروائی بن کر رہ جاتی ہے۔ قانون کا یہ دوہرا معیار عوام کے اعتماد کو مجروح اور خلاف ورزی کرنے والوں کی حوصلہ افزاءی کرتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ مسئلہ خود ایل ای ڈی ٹیکنالوجی نہیں۔ دنیا بھر میں جدید گاڑیاں فیکٹری سے ایل ای ڈی ہیڈلائٹس کے ساتھ آ رہی ہیں، مگر وہ لائٹس بین الاقوامی معیار، مخصوص بیم پیٹرن اور محفوظ روشنی کی شدت کے مطابق تیار کی جاتی ہیں۔ مسئلہ پاکستان میں لگنے والی وہ مارکیٹ میں دستیاب سستی کٹس ہیں جو بغیر کسی پروجیکٹر، بغیر کسی بیم کنٹرول اور بغیر کسی قانونی جانچ کے گاڑیوں میں فٹ کر دی جاتی ہیں۔ یہ عمل نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ کھلی انسانی غفلت بھی ہے۔
عوام کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ سڑک پر اپنی سہولت کو دوسروں کی جانوں پر فوقیت دینا کسی صورت قابلِ جواز نہیں۔ تیز لائٹس لگوانا کوءی ذہانت یا جدیدیت کی علامت نہیں بلکہ ایک غیر ذمہ دارانہ اور غیر اخلاقی عمل ہے۔ اگر ایک شخص کی لگائی گئی لائٹس کسی دوسرے کی بینائی چھین لے یا اس کی جان لے لے تو اس کا اخلاقی اور قانونی بوجھ صرف ڈرائیور پر نہیں بلکہ اس نظام پر بھی آتا ہے جو خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ ایل ای ڈی ہیڈلائٹس کا بے قابو استعمال ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ قانون، نظم و ضبط اور انسانی بینائی اور ساتھ ہی ساتھ انسانی جانوں کا مسئلہ ہے۔ اگر آج اس پر سختی نہ کی گئی تو کل سڑکوں پر ہونے والے حادثات کی ذمہ داری کسی ایک فرد پر نہیں بلکہ پورے نظام پر عاءد ہوگی۔ ریاست اگر واقعی عوام کی حفاظت چاہتی ہے تو اسے تیز ترین روشنی کی اس اندھی تقلید کو قانون کی روشنی میں روکنا ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ: ٹریفک قوانین و قواعد میں ترامیم لائی جائیں اور تیز روشنی والی لاءٹس پر مکمل پابندی عائد کردی جائے ۔ خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور فوری اصلاحی کارروائی کی جائے۔ فٹنس سرٹیفکیٹ کو سختی سے ہیڈلائٹس سے مشروط کیا جائے۔ مگر یاد رہے کہ ریاست کی ذمہ داری صرف قانون بنانے تک محدود نہیں بلکہ اس پر یکساں اور سخت عملدرآمد بھی ہے۔
واپس کریں