افغانستان سے دوبارہ سر اٹھاتی دہشت گردی! وزیراعظم شہباز شریف کا عالمی امن فورم سے فکر انگیز خطاب

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اشک آباد میں بین الاقوامی امن فورم سے خطاب کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ افغانستان سے دہشت گردی سر اٹھا رہی ہے۔ دنیا طالبان رجیم پر دباؤ ڈالے اور اسے دہشت گردوں کو قابو کرنے کا کہا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی امن کے لئے بھرپور اور ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ تنازعات کا پر امن حل ہماری خارجہ پالیسی کا ستون ہے۔ ہماری حمایت سے غزہ امن منصوبہ منظور ہوا۔ غزہ میں امداد کی فراہمی ناگزیر ہے۔ سیز فائر پر ہم برادر ملکوں کے شکر گذار ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے دو روزہ دورہ ترکمانستان کے دوران روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور ترک صدر رجب طیب اردوان سمیت وہاں موجود تمام سربراہانِ حکومت و مملکت سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور ان سے خطے کی صورت حال، علاقائی اور عالمی امن کی کوششوں اور دو طرفہ تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں کے ہمراہ ترکمانستان کی مستقل غیرجانبداری کی پالیسی کی علامت یادگارِ غیرجانبداری کا دورہ بھی کیا اور پھول چڑھائے۔ اس موقع پر وزیراعظم کا روسی صدر پیوٹن، ترک صدر اردوان ، ترکمانستان کے صدر بروی محمدوف اور دوسرے عالمی قائدین کے ساتھ خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ وزیراعظم ہاؤس کے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان اور کرغزستان کے صدر صادرڑ پاروف سے بھی ملاقاتیں کیں اور ان سے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیاک کیا۔
یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ بھارتی آشیرباد اور طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا نیا اور خطرناک سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو چکا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے عالمی برادری کو متنبہ کرتا آ رہا ہے کہ افغان سرزمین فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان جیسی دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنتی جا رہی ہے، مگر افسوس کہ عالمی اداروں نے اب تک عملی اقدامات کے بجائے روایتی خاموشی کو ترجیح دی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیز فائر کی موجودہ صورتِ حال غیر معمولی طور پر نازک ہو چکی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ برادر ہمسایہ ملک کے ساتھ امن، استحکام اور تعاون کی پالیسی اپنائی، لیکن یہ حقیقت اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ طالبان حکومت اپنی سرزمین کو دہشت گرد عناصر کے استعمال سے روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اور طالبان وزیر خارجہ امیر متقی کے اس بیان کے باوجود کہ افغان سرزمین دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، دہشت گرد تنظیمیں نہ صرف افغان علاقوں میں آزادانہ نقل و حرکت کر رہی ہیں بلکہ پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد بھی وہیں سے کیا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال پاکستان کی سلامتی کے لیے ناقابلِ قبول ہے اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر قیادت ہماری سکیورٹی فورسز کسی بھی جارحیت اور دہشت گردانہ کارروائی کا بھارت اور افغانستان دونوں کو منہ توڑ جواب دے رہی ہیں۔ اسی تناظر میں اقوام عالم میں پاکستان کی دہشت گردی کے تدارک اور امن کی کوششوں کی ستائش کی جا رہی ہے
یہ بات بھی اقوام عالم پر واضح ہو چکی ہے کہ دہشت گردی محض پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی چیلنج ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سے وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا تک دہشت گرد نیٹ ورکس عالمی امن کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکے ہیں۔ اس حقیقت کو اب عالمی قیادتیں اور نمائندہ عالمی ادارے بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ دہشت گردی کے پیچھے صرف غیر ریاستی عناصر نہیں بلکہ ریاستی سرپرستی، پراکسی جنگیں اور جیو اسٹریٹجک مفادات کارفرما ہیں۔ بھارت اس پراکسی جنگ کا مرکزی کردار ہے جو افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔
ایسے حالات میں وزیراعظم شہباز شریف کا اشک آباد میں بین الاقوامی امن فورم سے خطاب انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں عالمی برادری کو باور کرایا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ رہا ہے اور اس جنگ میں بے پناہ جانی و مالی قربانیاں دے چکا ہے۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ امن کا راستہ صرف مکالمے، تعاون اور دہشت گردی کے خاتمے سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ خاموش تماشائی بننے سے۔
وزیراعظم کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے غیر معمولی ملاقات اور ترک صدر رجب طیب اردوان سے تفصیلی تبادلۂ خیال اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی سفارتی محاذ پر تنہائی کا شکار نہیں بلکہ ایک مؤثر اور ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہ ملاقاتیں محض رسمی نہیں بلکہ اس امر کی عکاس ہیں کہ عالمی طاقتیں خطے میں پاکستان کے کردار اور اس کے مؤقف کو سنجیدگی سے سن رہی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادتوں کی ہم آہنگی نے سفارتی محاذ پر ملک کی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے۔
یہ امر باعثِ اطمینان ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر مکمل اتفاقِ رائے موجود ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادتیں ایک متفقہ ایجنڈے کے تحت دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیئے سرگرمِ عمل ہیں تاکہ ملک کو درپیش اس سنگین چیلنج سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امن کا خواہاں ضرور ہے مگر اپنی خودمختاری، سلامتی اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اب عالمی اداروں، بالخصوص اقوام متحدہ، کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت اور افغانستان کے دہشت گردانہ کردار کا کھل کر نوٹس لیں۔ محض قراردادیں اور رسمی بیانات کافی نہیں۔ اگر دنیا واقعی دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدہ ہے تو بھارت اور افغانستان پر اقتصادی پابندیوں سمیت سخت اور فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والے ممالک کو عالمی قوانین کے تحت جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔
پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ عالمی امن کے لیے ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے۔ دنیا کو اب یہ سمجھنا ہو گا کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو نظر انداز کرنا درحقیقت عالمی امن کو دائو پر لگانے کے مترادف ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری دہرے معیار ترک کرے اور دہشت گردی کے خلاف حقیقی، عملی اور فیصلہ کن اقدامات اٹھائے کیونکہ امن کسی ایک ملک کا نہیں، پوری دنیا کا مشترکہ مفاد ہے۔
واپس کریں