خلیق الرحمن سیفی ایڈووکیٹ
اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحت ماتحت عدلیہ میں سول جج/جوڈیشل مجسٹریٹ (BPS-18) کی تقرریوں کیلئے درخواستیں طلب کی گئیں۔
آزاد جموں کشمیر کے ڈومیسائل حامل نے آن لائن درخواست جمع کروائی جو کہ Not-Eligible قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی گئی۔
مذکورہ امیدوار نے درخواست دی جسے ہائیکورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار امتحانات نے لیٹر نمبر 21/2026 مورخہ 20 اکتوبر 2026 کے تحت مسترد کیا گیا اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے مشتہر فیصلہ کا حوالہ دیا (یاد رہے کہ مذکورہ فیصلہ صرف فیملی مقدمات کی سماعت کے متعلق تھا کہ جن میاں بیوی کا نکاح آزاد جموں کشمیر میں رجسٹر ہوا ہو، دونوں آزاد جموں کشمیر کے مستقل شہری ہوں، شادی بھی آزاد جموں کشمیر میں ہوئی ہو تو وہ میاں بیوی پاکستان کی فیملی عدالتوں میں مقدمات دائر نہیں کر سکتے).
اسی اہم نکتے پر آزاد جموں کشمیر کے ایک اور شہری نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک رٹ پٹیشن نمبر 5212/26 دائر کر رکھی ہے جو کہ جسٹس ایاز شوکت صاحب جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے بنچ میں زیرِ التواء ہے جس میں نوٹس کر کے جواب طلب کیا گیا ہے اور ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا۔
لہٰذا ابھی تک ایسا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا کہ آزاد جموں کشمیر کے ڈومیسائل کے حاملین کو اسلام آباد کی ماتحت عدلیہ میں تعیناتی کے امتحانات کا کوئی اجازت نامہ مل چکا ہے۔
پاکستانی قانون اور آئین کے مطابق آزاد جموں کشمیر واقعتاً پاکستان کا حصہ نہیں ہے بلکہ آزاد ریاست کے طور پہ مانی جاتی ہے. لیکن ہمارے ہاں قانون و آئین نہیں بلکہ جذباتی نعروں کے تحت خود کو پاکستان کا حصہ قرار دینے کا رواج رائج ہے۔
پاکستان کے سیٹیزن شپ ایکٹ کے آرٹیکل 14-بی کے تحت بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر کے مہاجرین کی پاکستان آمد پر انہیں پاکستان کی شہریت دینے کی بات ہے جبکہ مذکورہ آرٹیکل آزاد جموں کشمیر کے شہریوں پر لاگو نہیں ہوتا۔
مجھے قانونی و آئینی اعتبار سے اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہے ہاں یہ بات ضرور ہے کہ اگر فیڈرل پبلک سروس کمیشن میں تعیناتیوں کیلئے آزاد جموں کشمیر کا کوٹہ مختص ہے تو عدلیہ میں تقرریوں کیلئے بھی کوٹہ مختص ہونا چاہیے۔
مسئلہ یہ ہے کہ آزاد جموں کشمیر کی عوام اور پاکستان کی اشرافیہ بھی تمام قوانین کو محض اپنے فائدے کی حد تک استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے آئین اور قوانین کا اطلاق مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے ہوتا ہے۔
یہ بات بہرصورت ذہن نشین رہنی ازحد ضروری ہے کہ آزاد جموں کشمیر کے شہری استصواب رائے یا الحاق کے فیصلے تک پاکستان کے شہری نہیں ہیں اور چھوٹے چھوٹے فوائد کیلئے قانون کی تشریحات اپنی پسند سے نہیں کرنی چاہییں۔
خلیق الرحمن سیفی ایڈووکیٹ ہائیکورٹ ۔
واپس کریں