خلیق الرحمن سیفی ایڈووکیٹ
مورخہ 03`جون 2026 کو آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کی جانب سے تمام "کل جماعتی اجلاس" منعقد ہوا جس میں جموں کشمیر لبریشن لیگ کے صدر خواجہ منظور قادر ایڈووکیٹ اور مرکزی سیکرٹری جنرل راقم (خلیق الرحمن سیفی ایڈووکیٹ) کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ جموں کشمیر لبریشن لیگ کی نمائندگی صدر خواجہ منظور قادر ایڈووکیٹ نے کی جبکہ راقم بوجوہ شامل نہ ہو سکا۔ جبکہ راقم کا نام بھی حاضری شیٹ میں سیریل نمبر 15 پر درج ہے۔
قرارداد اور اعلامیہ کیلئے تمام سیاسی جماعتوں سے دستخط لیے گئے، مذکورہ قراردار جوکہ اجلاس میں پیش کیے بغیر اور منظوری لیے بغیر جاری کی گئی، کی شق نمبر 4 کے آخری جملہ میں احتجاج کے خلاف طاقت کے استعمال کی منظوری دی گئی۔
آل پارٹیز کانفرنس کا ایجنڈہ یہ تھا کہ تمام سیاسی جماعتی حکومت کو اجازت دیں کہ مظاہرین کو منتشر کرنے اور ریاستی رٹ بحال کرنے کیلئے طاقت کا استعمال کیا جائے اور دوسرا یہ کہ تمام سیاسی جماعتیں آزاد جموں کشمیر اسمبلی اور حکومت کو تمام تر فیصلوں کا اختیار دیں (جبکہ مذکورہ اختیارات کو بھی اجلاس کے سامنے نہ رکھا گیا تھا).
حاضری شیٹ کے سیریل نمبر 14 پر جموں کشمیر لبریشن لیگ کے مرکزی صدر خواجہ منظور قادر ایڈووکیٹ کے دستخط کے نیچے واضح لکھا گیا کہ "دستخط حاضری" یعنی اس دستخط کو صرف اجلاس میں حاضری کے طور پر تصور کیا جائے۔ جس پر مسلم لیگ ن کے صدر شاہ غلام قادر اور پیپلز پارٹی کے میاں وحید نے اعتراض کیا کہ آپ دستخط کے ساتھ نوٹ "دستخط حاضری" لکھ کر پارلیمان پر عدمِ اعتماد کر رہے ہیں، جس پر صدر لبریشن لیگ نے کہا کہ یہ ادارے اور پارلیمان تشکیل دینے میں جموں کشمیر لبریشن لیگ کے بانی صدر جناب کے ایچ خورشید کا بنیادی کردار ہے، لہٰذا ہم ادارے پر عدمِ اعتماد کا سوچ بھی نہیں سکتے، لیکن ہمیں اس ادارے میں موجود آپ حضرات پر اعتماد نہیں ہے کہ جنہوں نے رات 1 بجے کسی کے اشارے اور حکم پر 53 ممبران کے پارلیمان میں سے 47، 48 ممبران نے انوارالحق کو وزیراعظم بنایا۔ اس لیے ہمیں آپ پہ اعتماد نہیں ہے لہٰذا میرے دستخط کو کسی قرارداد کی منظوری، طاقت کے استعمال کے حق کے طور پر استعمال نہ کیا جائے بلکہ اس دستخط کو صرف اور صرف اجلاس میں حاضری کے طور پر تصور کیا جائے۔
صدر لبریشن لیگ نے اجلاس میں کہا کہ لبریشن لیگ نے 2 سال کے دوران متعدد مرتبہ حکومتی جماعتوں سے کہا کہ ایکشن کمیٹی کو "بے توجہی" کا شکار نہ کریں بلکہ ازخود اس پر توجہ دیں وگرنہ دو نقصان ہوں گے۔ اگر تو ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو آپ غیرریاستی جماعتوں کی فرنچائزوں کی اپنی قیادت کے سامنے بے توقیری ہو گی اور اگر مطالبات منوانے میں کامیاب ہو گئے تو آزاد حکومت غیرمؤثر ہو جائے گی جس کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑے گا۔
جموں کشمیر لبریشن لیگ کے اس اعتراض کے بعد اجلاس میں نہ تو کوئی قراردار پیش کی اور نہ ہی کوئی اعلامیہ پیش کیا۔ اور اجلاس ختم ہونے کے بعد حکومت نے قراداد ازخود جاری کی جس پر کسی کا دستخط نہیں بلکہ حاضری شیٹ کے دستخطوں کو استعمال کرتے ہوئے قرارداد اور اعلامیہ جاری کر دیا۔
جموں کشمیر لبریشن لیگ نے آل پارٹیز کانفرنس میں واضح الفاظ میں اپنا موقف پیش کیا کہ احتجاجی مظاہرین کے خلاف کسی قسم کی طاقت کا استعمال ہرگز نہ کیا جائے اور پاکستانی اداروں و فورسز کو ہرگز آزاد جموں کشمیر کے عوام کے خلاف استعمال نہ کیا جائے کیونکہ ایسے عمل سے آزاد جموں کشمیر اور پاکستان کےدرمیان عوامی و ریاستی ہر دو سطح پر تعلقات خراب ہوں گے۔
باقی تمام جماعتوں نے دستخط بھی کیے اور دستخط والی حاضری شیٹ پر کسی بھی دستخط کے ساتھ کوئی مشروط نوٹ سوائے جموں کشمیر لبریشن لیگ کے، کسی بھی سیاسی راہنما نے نہیں لکھا۔ اس لیے حکومت نے تمام قائدین کے دستخطوں کو جواز بنایا کہ سب نے طاقت کے استعمال کی اجازت دی۔
جموں کشمیر لبریشن لیگ کا شروع دن سے اب تک یہی موقف ہے کہ عوام کے خلاف طاقت کا استعمال، پاکستانی فورسز کا استعمال بالکل درست نہیں بلکہ مسائل کے حل کیلئے مطالمہ، گفت و شنید اور مذاکرات کا راستہ ہی واحد حل ہے۔
اب کچھ لوگ دستخط کر کے انکاری ہیں کہ ہم نے دستخط نہیں کیے اور طاقت کے استعمال کیلئے ریاستی پالیسی کی مخالفت کی۔ حالانکہ ریکارڈ کے مطابق ایسا صرف لبریشن لیگ نے ہی کیا ہے۔ اور ہم اپنے موقف پر قائم ہیں۔
خلیق الرحمٰن سیفی ایڈووکیٹ۔
مرکزی سیکرٹری جنرل جموں کشمیر لبریشن لیگ۔
واپس کریں