دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
آزاد جموں کشمیر پبلک سروس کمیشن ارکان تعیناتی، آئینی و قانونی تقاضے
خلیق الرحمن سیفی ایڈووکیٹ
خلیق الرحمن سیفی ایڈووکیٹ
آزاد جموں کشمیر پبلک سروس کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے جس کی تشکیل آزاد جموں کشمیر عبوری آئین، 1974 کے آرٹیکل 48 کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔ آئین نے کہا کہ ایک کمیشن ہو گا جس کا ایک چئیرمین اور ارکان ہوں گے۔ ارکانِ کمیشن اور چئیرمین کی تقرری/تعیناتی وزیراعظم کی سفارشات پہ صدر کرے گا۔ لیکن چئیرمین کی تقرری کیلئے وزراعظم صدر کو سفارشات ارسال کرنے سے قبل قائدِ حزبِ اختلاف سے رائے لینے کا پابند ہے۔ لیکن ہر دو صورت میں تقرری کا اختیار صدرِ ریاست کے پاس ہی ہے۔
پبلک سروس کمیشن کے ارکان کی تعداد اور ان کی مدتِ ملازمت/ دورانیہ کی تفصیل "آزاد جموں کشمیر پبلک سروس کمیشن ایکٹ، 1986" کی دفعہ 3 اور 4 میں بالترتیب درج ہے۔ مذکورہ دفعات کے مطابق کمیشن کے ارکان کی تعداد بشمول چئیرمین 11 ہے اور ان سب کی تقرری صدرِ ریاست نے کرنی ہے۔ 5 ارکان حکومت آزاد جموں کشمیر یا حکومت پاکستان کے 20ویں یا اس سے اوپر والے گریڈ سے ریٹائرڈ ملازمین میں سے مقرر ہوں گے، 2 ارکان آزاد جموں کشمیر یا پاکستان کے محکمہ تعلیم سے ریٹائرڈ 20ویں یا اس سے اوپر کے گریڈ سے ریٹائرڈ مقرر کیے جائیں گے جو کسی تعلیمی ادارے کے سربراہ یا محکمہ تعلیم کے سربراہ کی حیثیت سے کام کر چکے ہوں، دیگر 4 ارکان میں ایک رکن 21ویں گریڈ کا سابق جج (اعلیٰ عدلیہ یا سیشن جج)، ایک رکن خواتین میں سے پی ایچ ڈی یا ماسٹر ڈگری بشمول 15 سالہ تجربہ کی حامل، ایک رکن پروفیشنل ڈگری (وکیل، ڈاکٹر، انجینئر، ماہر ماحولیات، وغیرہ) اور 20 سالہ تجربہ کا حامل اور ایک رکن باشندہ ریاست جموں کشمیر جوکہ لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ ہو گا۔ مذکورہ ارکانِ کمیشن کی مدت ملازمت 3 سال ہو گی۔
چونکہ مذکورہ بالا اہلیت کے ارکان کی تقرری صدرِ ریاست نے کرنی ہے، سو اس حوالہ سے اہم بات یہ ہے کہ آزاد جموں کشمیر میں صدرِ ریاست بیرسٹر سلطان محمود کی رحلت کے بعد صدر کا عہدہ خالی ہے اور سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر بحیثیت قائم مقام صدر عہدے پر براجمان ہے جوکہ آئینی طور پر درست نہیں۔
آزاد جموں کشمیر عبوری آئین 1974 کے آرٹیکل 8 کے مطابق صدر ریاست اگر عدم دستیابی، بیماری یا کسی دیگر وجہ کے باعث موجود نہ ہو تو ایسے میں سپیکر قانون ساز اسمبلی قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں ادا کر سکتا ہے۔ یاد رہے کہ آرٹیکل 8 میں وفات کی وجہ درج نہیں بلکہ وفات اور استعفیٰ کی صورت میں میں طریقہ کار آرٹیکل 9 میں درج ہے۔
آرٹیکل 9 کے مطابق اگر صدر ریاست کی وفات ہو جائے یا وہ مستعفی ہو جائے تو نئے صدرارتی انتخاب تک اسپیکر اسمبلی قائم مقام صدر رہ سکتا ہے۔ اور نئے انتخاب کا دورانیہ محض 30 دن ہے اور اگر 30 دن میں صدارتی انتخاب اس لیے نہ ہو سکے کہ اس دوران اسمبلی تحلیل ہو چکی ہو تو نئے انتخابات کے بعد 30 دن کے اندر اندر صدر کا انتخاب ضروری ہو گا۔
اب چونکہ صدرِ ریاست بیرسٹر سلطان محمود 31 جنوری 2026 کو وفات پا گئے، تب سے صدر کا آئینی عہدہ خالی ہے اور صدر کا انتخاب 2 مارچ سے قبل ہونا آئینی طور پر ضروری تھا۔ اسمبلی بھی موجود تھی اور جموں کشمیر کونسل بھی موجود تھی۔ ایسے میں دانستہ طور پر صدارتی انتخابات نہ کروا آئین کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور ایسے بھی اسپیکر کا صدراتی کرسی پر غیرمعینہ مدت تک براجمان رہنا بھی آئینی طور پر درست نہیں۔
اب اہم اور دلچسپ امر یہ ہے کہ جب آئین کی رو سے منتخب صدر ہی موجود نہیں تو موجودہ تقرریاں جو کہ اہم اور ایک آئینی ادارے میں کی گئیں وہ کیسے درست ہو سکتی ہے۔ اور یہ اہم تقرریاں بھی اس وقت یعنی 08`اگست کو کی گئی جب منتخب وزیراعظم اور اسمبلی کا دورانیہ ہی ختم ہو چکا اور وزیراعظم محض انتظامی امور چلانے کی حد تک تھے۔
اس تقرری میں یقیناً اہل لوگ موجود ہوں گے لیکن تقرری کے عمل کو ہی اگر آئینی تحفظ حاصل نہ ہو تو ایسا عمل اہل لوگوں کی اہلیت کو ہی نقصان پہنچانے اور ادارے کی ساکھ متاثر کرنے کی مترادف ہو گا۔
آزاد جموں کشمیر کی سیاسی و پارلیمانی جماعتوں کو کم از کم اپنی اسمبلی کے منظور شدہ آئین کا ہی تحفظ کر لینا چاہیے وگرنہ کسی عام شہری اور فرد سے اس کی توقع تو ناممکن ہو جائے گی۔
واپس کریں