آزاد جموں کشمیریونیورسٹی آف حویلی ایکٹ، 2025 کی توثیق
خلیق الرحمن سیفی ایڈووکیٹ
صدر آزاد ریاست جموں کشمیر نے آزاد جموں کشمیریونیورسٹی آف حویلی ایکٹ، 2025 کی توثیق دے دی۔اس توثیق کے بعد سوشل میڈیا پر عوام میں مختلف آراء اور تبادلہ خیال سامنے آ رہا ہے جس پر بحیثیت وکیل، بحیثیت باشندہ ضلع حویلی اور بحیثیت ایک عام شہری قانون نکات پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
آزاد جموں کشمیر اسمبلی کے پاس قانون سازی کا اختیار ہے اور آزاد جموں کشمیر عبوری آئین 1974 کے آرٹیکل 31 کے قانون ساز اسمبلی کو اختیار دیا ہے کہ کسی بھی اہم اور ضروری امر کے پیشِ نظر قانون سازی یعنی کسی ایکٹ کی منظوری دے کر قانون پاس کیا جا سکتا ہے۔
آزاد جموں کشمیر کے کسی بھی ضلع میں کوئی اضافی یونیورسٹی بنانے کیلئے قانون ساز اسمبلی سے ایکٹ منظور ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ممبر قانون ساز اسمبلی ایک بل پیش کرتا ہے جسے اسمبلی سیشن میں بحث کے بعد منظور یا مسترد کیا جاتا ہے۔ اس قانون کو اگر ارکان اسمبلی کی اکثریت منظور کرنے کے حق میں ووٹ کر دے تو اس بل کو ایکٹ کی صورت میں پاس کر کے صدر ریاست کے پاس توثیق کیلئے بھیجا جاتا ہے۔ اب صدر ریاست عبوری آئین 1974 کے آرٹیکل 36 کے تحت اس ایکٹ کی توثیق کی بابت سیکرٹری اسمبلی کے نام لیٹر/نوٹیفیکیشن/چِٹھی جاری کرتا ہے جس کے بعد اس ایکٹ کو باقاعدہ سرکاری جریدے (گزٹ) میں شائع کیا جاتا ہے۔
اب یہی پراسیس یونیورسٹی آف حویلی کی منظوری کیلئے اپنایا گیا۔ ممبر قانون ساز اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور نے اسمبلی میں بل پیش کیا، جسے اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے "آزاد جموں کشمیر یونیورسٹی آف حویلی ایکٹ، 2025 کا نام دیا۔ اس کے بعد آئینی تقاضوں کے پیش نظر صدرِ ریاست کو توثیق کیلئے بھیجا گیا، اور صدرِ ریاست جو کہ آرٹیکل 36 کے تحت پابند تھا کہ وہ اسمبلی کے ایکٹ کی توثیق کرے، اپنی آئینی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ایکٹ کی توثیق دی۔
اس پورے پراسیس میں ظاہر ہے فیصل ممتاز راٹھور کو بہت سے ماہرین کی خدمات درکار ہوئی ہوں گی، بہت سے ممبران کو آمادہ کرنا پڑا ہو گا، بہت سی عرق ریزی سے کام لینا پڑا ہو گا، ایچ ای سی کے سابق چئیرمین ڈاکٹر مختار صاحب کا تعاون حاصل کیا۔ یہ وہ تمام اقدام ہیں جن کا کریڈٹ وزیر حکومت فیصل ممتاز راٹھور کو جاتا ہے اور اس اہم اقدام اور ایک یونیورسٹی کے حصول پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی و سماجی راہنما جنہوں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق ہر سطح پر آواز بلند کی یا عملی جدوجہد کی تو وہ سب کی یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں۔
بہرحال یونیورسٹی آف حویلی کے بل سے منظوری تک تمام کارکردگی کا سہرا فیصل ممتاز راٹھور کو جاتا ہے۔ صدر ریاست کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے آرٹیکل 36 کے تحت اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ایکٹ کی توثیق کی اور رکاوٹ نہ ڈالی۔
واپس کریں