دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خدارا فرسودہ اقدام اور ہتھکنڈوں کو اب چھوڑ دیں
خلیق الرحمن سیفی ایڈووکیٹ
خلیق الرحمن سیفی ایڈووکیٹ
آزاد جموں کشمیر میں جاری تحریک سے آپ مکمل اتفاق یا اختلاف کر سکتے ہیں جو کہ آپ کا حق ہے۔
لیکن اس اختلافِ رائے کا استعمال کرتے ہوئے جھوٹ، پراپیگنڈہ، انتہاء پسندی اور بے بنیاد الزامات سے گریز کرنا چاہیے۔ اور اصولی اختلاف کو منطقی بنیادوں پر قائم کرنا چاہیے۔
افسوسناک صورتحال یہ دیکھنے کو مل رہی ہے کہ عوامی احتجاج اور عوامی اجتماعات پر بے بنیاد اور احمقانہ الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ جن لوگوں نے بھارتی استبداد کو ہمیشہ مسترد کیا اس عوام کو بھارتی سپانسرڈ، بھارتی ایجنٹ اور اس جیسے متعدد الزامات لگا کر بھارتی اداروں کو جوا فراہم کیا جا رہا ہے کہ وہ عالمی سطح پر یہ پراپیگنڈہ عام کرے کہ آزاد جموں کشمیر کے لوگ اس کے حامی ہیں۔ احمق لوگوں کے احمقانہ اقدام اور الزامات دراصل ریاستی عوام اور ریاستی مفاد کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں۔
اس صورتحال میں میڈیا کا کردار انتہائی افسوسناک رہا ہے۔ بالخصوص ہمارے آزاد جموں کشمیر کے میڈیا سے وابستہ افراد کی اکثریت نے انتہائی مایوس کن کردار ادا کیا۔ اور عوامی تحریک کے افراد کو دہشتگرد تک ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ وہ احباب جن کے ساتھ ہمارا دوستانہ تعلق تھا وہ بھی کوئی حقیقت پہ مبنی بات کو اپنے اخبار یا چینل پر چلانے سے بلکہ رابطہ کرنے سے بھی مکمل کنارہ کشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
یاد رہے حالت مشکل اور آسان بنتے اور سنبھلتے رہتے ہیں لیکن ایسے حالات میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا آپ کو تاریخ میں شرمندہ نہیں ہونے دیتا۔
میری درمندانہ درخواست ہے کہ عوام کی حالتِ زار پہ رحم کیا جائے۔ مجھے اندازہ ہے کہ ریاست اور ریاستی اداروں کے سامنے عوام اور عوامی قوت کوئی معنیٰ نہیں رکھتا اور عوام کو صفحہ ہستی سے مٹانا بھی فورسز کیلئے کوئی بڑا کام نہیں۔ لیکن ایسے اقدام دیرپا اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جن کا ازالہ ناممکن ہوتا ہے۔
پاکستان کے سابق وزیراعظم، موجودہ اپوزیشن لیڈر، اور سیاسی شخصیات کا راستہ اپنی ہی پولیس کے ہاتھوں روکنا جگ ہنسائی کے سوا کچھ نہیں۔
زور زبردستی عوام کو اپنا دشمن ثابت کرنا دراصل ان کے دلوں کو زبردستی دشمنی ڈالنے کا اقدام ہے۔ خدارا ان فرسودہ اقدام اور ہتھکنڈوں کو اب چھوڑ دیں۔
واپس کریں