دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان ہی قصوروار کیوں؟
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
دنیا کے بیشتر ممالک میں اگر کوئی بحران یا تنازعہ پیدا ہو جائے تو وہاں کی عوام اپنے ملکی مفادات کے تحفظ کے لئے ضرور اکٹھی ہو جاتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان ایک ایسا منفرد ملک بن چکا ہے جہاں بعض حلقوں کے نزدیک دنیا میں کچھ بھی ہو جائے، قصور صرف پاکستان کا ہی نکالا جاتا ہے۔
یہ رویہ کوئی نیا نہیں بلکہ برسوں سے ہمارے معاشرے میں جڑ پکڑتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی تنازعات ہوں، علاقائی کشیدگی ہو یا ہمسایہ ممالک کے ساتھ اختلافات ،پاکستانی سوشل میڈیا، سیاسی محفلوں اور دانشورانہ حلقوں میں ایک طبقہ ایسا ضرور موجود ہوتا ہے جو ہر واقعے کی ذمہ داری اپنے ہی ملک کے سر ڈالنے میں دیر نہیں لگاتا۔
حال ہی میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی ماحول کو ہی دیکھ لیجئے۔کچھ کا خیال ہے کہ پاکستان اس جنگ میں کود پڑے اور امریکہ سے لڑائی لڑے، کچھ کا خیال ہے کہ پاکستان ایران پر حملہ آور ہوجائے تاکہ خلیجی ممالک ایرانی حملوں سے محفوظ رہ سکیں۔حالانکہ سوال یہ ضرور بنتا ہے کہ خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کا کیا کام؟ اور سوال یہ بھی بنتا ہے کیا ایران نے امریکہ بارے اپنی ریاستی پالیسی پاکستان سے پوچھ کر مرتب کی تھی؟
عالمی سیاست کے پیچیدہ منظرنامے میں جہاں بڑی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتی ہیں، وہاں بھی ہمارے ہاں کچھ گروہ ایسے سامنے آ جاتے ہیں جو پاکستان کی پالیسیوں کو ہی تنقید کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے بطور ریاست ہمیشہ ذمہ دارانہ اور متوازن سفارتی رویہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایران پر ہونے والے حملوں کی مذمت بھی کی گئی اور خطے میں کشیدگی پھیلانے والے اقدامات پر تشویش بھی ظاہر کی گئی۔
اس کے باوجود حیرت کی بات یہ ہے کہ بعض پاکستانی حلقے ایران سے بھی زیادہ ایران کے خیرخواہ بن جاتے ہیں اور پاکستان کی پالیسیوں کو ہی ہدفِ تنقید بناتے ہیں۔ یہی صورتحال افغانستان کے معاملے میں بھی دیکھنے کو ملتی رہی ہے۔ جب افغانستان کیساتھ سرحدی کشیدگی کا معاملہ اٹھتا ہے تو کچھ افراد فوری طور پر پاکستان کو ہی موردِ الزام ٹھہرا دیتے ہیں۔ یہی حال ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملوں کےبعدسامنے آتا ہے کہ جب پاکستانیوں کے کئی حلقے خلیجی ممالک سے زیادہ انکے خیرخواہ نظر آرہے ہیں۔ ان کا بس نہیں چلتاورنہ وہ پاکستان سے مطالبہ کریں کہ ایران پر حملہ آور ہوجائے۔
دنیا کے دیگر ممالک میں قومی مفاد کو مقدم رکھا جاتا ہے، مگر پاکستان میں اکثر اوقات قومی مفاد کی بجائے مسلکی، لسانی اور سیاسی وابستگیاں غالب آ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم خود کو پہلے سندھی، بلوچ، پنجابی یا پختون سمجھتے ہیں اور بعد میں پاکستانی۔ اسی طرح مذہبی شناخت بھی ہمیں مختلف خانوں میں تقسیم کر دیتی ہے،مسلمان کہنے کی بجائے کوئی خود کو بریلوی کہتا ہے، کوئی دیوبندی، کوئی شیعہ اور کوئی وہابی۔
یہ تقسیم دراصل ہمارے اجتماعی شعور کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ جب کسی قوم کی شناخت مشترکہ قومی مفاد کی بجائے چھوٹے چھوٹے دائروں میں محدود ہو جائے تو اس کے اندر اتحاد اور یکجہتی کمزور پڑ جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بیرونی چیلنجز کے مقابلے میں بھی ہم متحد موقف اختیار نہیں کر پاتے۔
گزشتہ برس پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آئی۔ جب سرحدوں پر کشیدگی عروج پر تھی اور دونوں ممالک کی افواج آمنے سامنے تھیں، تب بھی پاکستان کے اندر کچھ آوازیں ایسی سنائی دیں جو اپنے ہی ملک کی شکست کی خواہش کرتی دکھائی دیں۔ اس سے بڑھ کر افسوسناک بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ جب پاکستان کو کامیابیاں حاصل ہوئیں تو بعض لوگوں نے اسے بھی “نورا کشتی” قرار دے دیا۔
یہ رویہ دراصل ایک خطرناک ذہنی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ تنقید جمہوریت کا حسن ضرور ہے اور کسی بھی ریاستی پالیسی پر سوال اٹھانا شہریوں کا حق بھی ہے، مگر ہر معاملے میں اپنے ہی ملک کو موردِ الزام ٹھہرانا کسی بھی قوم کے لیے صحت مند طرزِ فکر نہیں سمجھا جا سکتا۔
کاش ہم پاکستانی بھی اس حقیقت کو سمجھ سکیں کہ قومی یکجہتی کسی بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ اگر ہماری ہمدردیاں اپنے وطن کے ساتھ اتنی ہی مضبوط ہو جائیں جتنی ہم دیگر ممالک کے لیے ظاہر کرتے ہیں تو یقیناً پاکستان نہ صرف ایک مضبوط ریاست کے طور پر ابھر سکتا ہے بلکہ دنیا میں ایک باوقار مقام بھی حاصل کر سکتا ہے۔
آخرکار سوال یہی ہے کہ کیا ہم واقعی ایک قوم بننا چاہتے ہیں، یا پھر ہمیشہ کی طرح چھوٹے چھوٹےمسلکی، لسانی و صوبائی گروہوں میں بٹے رہ کر ہر واقعے کا قصور اپنے ہی ملک کے سر ڈالتے رہیں گے؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تنقید اور حب الوطنی کے درمیان توازن قائم کریں۔ جہاں ریاستی پالیسیوں میں خامیاں ہوں وہاں اصلاح کی بات ضرور کی جائے، مگر اس انداز میں کہ قومی مفاد اور وقار متاثر نہ ہو۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں مکمل مثالی نظام موجود نہیں، مگر کامیاب قومیں وہی ہوتی ہیں جو اپنے مسائل کا حل اندرونی اتحاد اور مثبت سوچ کے ساتھ تلاش کرتی ہیں۔
واپس کریں