دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ایران۔امریکہ کشیدگی: مسلک یا امت؟
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
قرآن مجید ہمیں صاف اور دو ٹوک حکم دیتا ہے: (اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو)۔
مگر افسوس کہ عالمِ اسلام صدیوں سے اسی حکمِ الٰہی کی کھلم کھلا نافرمانی کرتا چلا آ رہا ہے۔ ہم نے اللہ کی رسی کو چھوڑ کر مسلک، گروہ، قومیت اور فرقے کو اپنا سہارا بنا لیا، اور یہی ہماری ذلت، کمزوری اور غلامی کی سب سے بڑی وجہ بن گئی۔یہ کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں کہ امتِ مسلمہ کی تباہی کا آغاز تلواروں سے نہیں بلکہ دلوں میں پیدا ہونے والی نفرت سے ہوا۔ شیعہ سنی اختلافات ہوں یا دیگر فقہی و فروعی مسائل، ان اختلافات کو ہم نے اس حد تک بڑھایا کہ بھائی، بھائی کا دشمن بن گیا۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا: (مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے تنہا چھوڑتا ہے، نہ حقیر سمجھتا ہے)۔
یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ شیعہ سنی اختلافات کی ابتدا سیاسی معاملات سے ہوئی تھی، نہ کہ عقائد اور عبادات سے۔ مگر ہم نے تاریخ سے سیکھنے کی بجائے انہی اختلافات کو نفرت، تکفیر اور قتل و غارت کا ذریعہ بنا لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان، مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے لگے۔ آج اگر ہم دیانتداری سے حساب لگائیں تو یہ کہنا پڑے گا کہ جتنا خون مسلمانوں نے ایک دوسرے کا بہایا، شاید ہی کسی غیر مسلم قوم نے بہایا ہو۔ افغانستان، شام، عراق، یمن، لیبیا، سوڈان و دیگر افریقی مسلم ممالک، یہ سب مسلمان ممالک ہیں، جہاں آگ اور خون کا کھیل کھیلا گیا، اور بدقسمتی سے اس کھیل کے سب سے بڑے کھلاڑی خود مسلمان بنے۔ قرآن ہمیں خبردار کرتا ہے: (اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی)۔ کیا آج ہماری“ہوا”اکھڑ نہیں چکی؟
بدقسمتی سے ہم پاکستانی مسلمان عالمی معاملات کو بھی مسلکی ترازو میں تولتے ہیں۔ اگر کسی سنی اکثریتی ملک پر حملہ ہو تو جذبات بھڑک اٹھتے ہیں، مگر اگر ایران جیسے ملک پر جارحیت کی بات ہو تو وہی زبانیں خاموش یا پس پردہ امریکہ کے حق میں بولتی نظر آتی ہیں۔ یہ کیسا اسلام ہے؟ یہ کیسی غیرتِ ایمانی ہے؟ سوشل میڈیا پر آج کھلے عام ایسے مسلمان دیکھے جا سکتے ہیں جو خالصتاً مسلکی بنیاد پر ایک مسلمان ملک کے خلاف امریکہ جیسے سامراجی ملک کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ بات بھی دیانت داری کے ساتھ تسلیم کرنا ہوگی کہ عرب و دیگر اسلامی ممالک میں پائی جانے والی باہمی نفرتوں، کشیدگی اور عدم استحکام میں ایرانی کردار بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بعض مواقع پر ایران کی پالیسیوں نے مسلکی حساسیت کو مزید ہوا دی اور خطے میں مسلکی شدت پسندی کو تقویت ملی۔ ماضی قریب کی بات ہے کہ شام میں حکومت کے خاتمے پر خوشیاں منائی گئیں، یہ دیکھے بغیر کہ اس آگ کو بھڑکانے والے کون تھے۔ غیر مسلم طاقتوں نے مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا، اور ہم نے خوشی خوشی یہ کردار ادا کیا۔ آج ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں پر بھی یہی بے حسی دکھائی دے رہی ہے۔ یاد رکھیے، دشمن کا ہدف مسلک نہیں، اسلام ہے۔ آج ایران، کل پاکستان۔ پاکستان کے اندر ایک اور خطرناک فتنہ سر اٹھائے کھڑا ہے، وہ سوچ جو پاکستان کو اسلامی ریاست ماننے سے انکار کرتی ہے۔ یہی سوچ تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کی بنیاد ہے۔ یہ وہی خارجی ذہنیت ہے جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: (یہ لوگ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے)۔
آج یہی خارجی پاکستان میں علماء کو قتل کر رہے ہیں، مساجد کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور معصوم شہریوں کا خون بہا رہے ہیں، اور پھر بھی ہم مسلکی بحثوں میں الجھے ہوئے ہیں کہ کون سا مسلک زیادہ حق پر ہے۔ کیا یہی دین کا تقاضا ہے؟ خدارا! اب ہوش کے ناخن لیجیے۔ مسلکی عینک اتار کر صرف“مسلمان”بن کر سوچیے۔ نبی کریم ﷺ نے حجتہ الوداع کے خطبے میں فرمایا تھا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔ پھر ہم کون ہوتے ہیں ایک دوسرے کو کافر، گمراہ یا واجب القتل قرار دینے والے؟
یہ تحریر کسی مسلک کے خلاف نہیں، بلکہ ہر اس سوچ کے خلاف ہے جو امت کو توڑتی ہے۔ یہ ایک عاجزانہ، مگر سخت اپیل ہے پاکستانی مسلمانوں سے کہ خدارا اپنے دشمن کو پہچانیے۔ ہماری کمزوری ہمارا تفرقہ ہے، اور ہماری طاقت ہماری وحدت۔ اگر آج ہم نے امت بننے کا فیصلہ نہ کیا تو کل تاریخ ہمیں ایک بزدل، منتشر اور ناکام قوم کے طور پر یاد رکھے گی۔
آئیے، سب کو مسلمان مانیں۔ آئیے، امت بنیں۔ بہرحال اس تنگ نظری کے ماحول میں بھی چند خوشگوار پہلو ایسے ہیں جو امید دلاتے ہیں۔ یہ کہ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک، ترکی اور بالخصوص پاکستان، ایران۔امریکہ معاملے کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کے لئے غیر معمولی طور پر متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔ ریاستی سطح پر مسلکی، فروعی اور علاقائی اختلافات کے باوجود یہ ممالک ایران کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں اور بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کو پرامن اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ آئیے، غیر مسلم جارحیت کے مقابل ایک دیوار بن کر کھڑے ہوں ورنہ باری باری سب نشانہ بنتے رہیں
غیرت ہے مسلمان کاجوہریہ نہ بھولوں ہردین کے گستاخ کو ادب سکھادوگے۔
ایک ہوکے زمانے کو وہی شان دیکھادو پھر نعرہ تکبیر سے ہربت کو گرادو
واپس کریں