محمد ریاض ایڈووکیٹ
پاکستان میں جمہوریت کی بات تو بہت کی جاتی ہے، مگر جب جمہوریت کو گلی، محلے اور گاؤں کی سطح تک پہنچانے کی باری آتی ہے تو ہمارے سیاستدانوں کی دلچسپی اچانک ماند پڑ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کا سب سے بڑا اور سیاسی طور پر طاقتور صوبہ پنجاب گزشتہ کئی برسوں سے مقامی حکومتوں کے موثر نظام سے محروم ہے۔ آئین کی واضح ہدایات اور عوامی ضرورت کے باوجود بلدیاتی انتخابات مسلسل تاخیر کا شکار ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پنجاب کے سیاستدان ایک بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام سے اس قدر خائف کیوں نظر آتے ہیں؟
پنجاب میں مقامی حکومتوں کے آخری انتخابات 2016 میں منعقد ہوئے تھے، جب وفاق اور صوبے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی۔ ان انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے بھرپور کامیابی حاصل کی اور صوبے کے تقریباً تمام اضلاع میں بلدیاتی حکومتیں قائم کرنے میں کامیاب ہوئی۔ ان اداروں کو پانچ سالہ مدت کے لئے منتخب کیا گیا اور توقع کی جا رہی تھی کہ یہ نظام نچلی سطح تک عوامی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرے گا۔ تاہم سال 2018 کے عام انتخابات کے بعد جب پاکستان تحریک انصاف نے وفاق اور پنجاب میں حکومت قائم کی تو بلدیاتی نظام کا تسلسل برقرار رکھنے کی بجائے اسے ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 2019 میں نئے قانون کے ذریعے پہلے سے قائم مقامی حکومتوں کو تحلیل کر دیا گیا۔ اس اقدام کو قانونی و آئینی ماہرین نے جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔
تحریک انصاف کی حکومت نے اگرچہ نیا بلدیاتی نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا، مگر عملی طور پر ایسا نہ ہو سکا۔ نتیجتاً پنجاب کے شہری اور دیہی علاقے اس بنیادی جمہوری ادارے سے محروم ہو گئے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کے احکامات پر اکتوبر 2021 میں سابقہ بلدیاتی اداروں کو بحال تو کر دیا گیا، مگر یہ بحالی بھی محض رسمی ثابت ہوئی کیونکہ ان اداروں کی مدت مکمل ہونے کے قریب تھی اور انہیں موثر انداز میں کام کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ چند ہی ماہ بعد یہ ادارے اپنی آئینی مدت پوری کرکے تحلیل ہو گئے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ پنجاب گزشتہ کئی برسوں سے مقامی حکومتوں کے بغیر چل رہا ہے، جبکہ ملک کے دیگر صوبوں میں کسی نہ کسی شکل میں بلدیاتی ادارے موجود ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف جمہوری اصولوں کے خلاف ہے بلکہ آئینِ پاکستان کی روح سے بھی متصادم ہے۔ صوبہ پنجاب کو مقامی حکومتوں سے محروم رکھنے پر تحریک انصاف کو کھل کر تنقید کر نشانہ بنایا جاسکتا ہے مگر مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی و دیگر سیاسی جماعتوں کے مجرمانہ کردار کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
آئین کے آرٹیکل 32 کے مطابق ریاست پر لازم ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کے اداروں کو فروغ دے اور ان میں کسانوں، مزدوروں اور خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنائے۔ اسی طرح آرٹیکل 140 اے واضح طور پر ہر صوبے کو پابند کرتا ہے کہ وہ قانون سازی کے ذریعے مقامی حکومتوں کا نظام قائم کرے اور سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب نمائندوں کو منتقل کرے۔ اسی طرح آئین کے آرٹیکلز 219 اور 222 الیکشن کمیشن آف پاکستان کو مقامی حکومتوں کے انتخابات کے انعقاد کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔
اس آئینی وضاحت کے باوجود پنجاب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات مسلسل تاخیر کا شکار ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے صوبائی حکومت کو بارہا نوٹس جاری کیے گئے اور انتخابات کے انعقاد کے لئے تاریخیں طلب کی گئیں، مگر عملی پیش رفت اب تک نظر نہیں آتی۔ اس صورتحال میں صرف صوبائی حکومت ہی نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کا کردار بھی سوالات کی زد میں آتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پنجاب میں مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی کے پیچھے ایک بنیادی سیاسی حقیقت کارفرما ہے۔ صوبے کی تقریبا تمام بڑی سیاسی جماعتیں درحقیقت ایک مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام سے خائف دکھائی دیتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مقامی حکومتیں اگر واقعی بااختیار ہو جائیں تو عوام کے بہت سے مسائل براہ راست مقامی سطح پر حل ہونے لگیں گے۔ اس صورت میں شہریوں کو اپنے مسائل کے حل کے لئے ارکانِ قومی اسمبلی، ارکانِ صوبائی اسمبلی یا وزراء کے دفاتر اور ڈیروں کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے کیونکہ عمومی طور پر سڑکوں کی تعمیر، نالیوں کی صفائی، گلیوں کی مرمت اور دیگر بلدیاتی نوعیت کے کام عموماً انہی نمائندوں کے ذریعے کروائے جاتے ہیں۔ اگر ایک مضبوط بلدیاتی نظام قائم ہو جائے تو یہ اختیارات براہِ راست بلدیاتی نمائندوں کے پاس منتقل ہو جائیں گے، جس سے صوبائی اور قومی سطح کے سیاستدانوں کی سیاسی اہمیت کسی حد تک کم ہو سکتی ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں جب بھی غیر منتخب افراد اقتدار پر قابض ہوئے تو انہوں نے مقامی حکومتوں کے نظام کو زیادہ ترجیح دی، جبکہ منتخب افراد کی حکومتیں اکثر اس نظام کو کمزور کرنے یا نظر انداز کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کے لئے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اس دیرینہ مسئلے کے حل میں قائدانہ کردار ادا کریں۔ اگر پنجاب میں ایک مضبوط اور فعال بلدیاتی نظام قائم ہو جاتا ہے تو نہ صرف عوامی مسائل کے حل میں بہتری آئے گی بلکہ جمہوریت کی جڑیں بھی مزید مضبوط ہوں گی۔
واپس کریں