مولانا فضل الرحمٰن اور بدلتا ہوا عالمی سیاسی منظرنامہ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمٰن ایک ہمہ جہت اور بالغ نظر شخصیت کے حامل رہنما ہیں، جنہیں بیک وقت مذہبی اور سیاسی قیادت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ ان کی منفرد حیثیت ہے کہ مذہبی و سیاسی دونوں حلقے ان کی قیادت اور رائے کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ ریاستِ پاکستان کے مذہبی اور سیاسی معاملات میں مولانا فضل الرحمٰن کی بات کو محض نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سیاست کی بساط پر کب، کہاں اور کیسے چال چلنی ہے، اس فن پر جتنا عبور مولانا کو حاصل ہے، موجودہ پاکستانی سیاسی لیڈرشپ میں شاید ہی کسی اور کے حصے میں آیا ہو۔
اگرچہ ان کے نظریاتی، سیاسی یا مذہبی مؤقف سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر ان کی سیاسی بصیرت، معاملہ فہمی اور حالات کو بھانپنے کی صلاحیت سے انکار کرنا دانشمندی نہیں بلکہ صریحاً ناانصافی ہوگی۔
لاہور میں ڈیجیٹل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے میڈیا، سیاست، عالمی نظام اور پاکستان کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی اور فکر انگیز گفتگو کی۔ ان کا خطاب محض ایک سیاسی تقریر نہیں بلکہ ایک فکری اور نظریاتی تجزیہ تھا، جس میں انہوں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عصرِ حاضر کے مسائل کا جائزہ پیش کیا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے سب سے پہلے میڈیا، بالخصوص سوشل میڈیا، کے کردار پر سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج میڈیا کا ماحول منفی خبروں، کردار کشی، تمسخر اور جھوٹ پر قائم ہے، جو شریعتِ اسلامیہ کے سراسر منافی ہے۔ انہوں نے قرآن و حدیث کے حوالے دیتے ہوئے واضح کیا کہ بغیر تحقیق خبر پھیلانا، کسی کے عیوب تلاش کرنا اور مذاق اڑانا نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ دینی اعتبار سے بھی سنگین گناہ ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ سوشل میڈیا پر سنجیدہ علمی اور دینی مواد کے بجائے غیر سنجیدہ اور متنازع کلپس زیادہ وائرل ہوتے ہیں، جس سے معاشرے میں فکری سطحیت اور منفی رجحانات فروغ پا رہے ہیں۔ سیاسی تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پرانی تقاریر کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنا بدنیتی پر مبنی عمل ہے۔
عالمی سطح پر مولانا فضل الرحمٰن نے جمہوریت، سرمایہ داریت اور کمیونزم کے ناکام ہونے کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق، دنیا اب جمہوری اقدار سے ہٹ کر طاقت، آمریت اور عسکری غلبے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ افغانستان، عراق، لیبیا اور یوکرین کی مثالیں دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے اصولوں کو پامال کر رہی ہیں۔ وینزویلا کے صدر کو یرغمال بنا کر اسکے اپنے ہی ملک سے اٹھوا لینا ریاستی طاقت کی تازہ ترین مثال ہے۔
پاکستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ ملک میں حقیقی جمہوریت ناپید ہو چکی ہے۔ انتخابات محض ایک ڈھونگ بن چکے ہیں اور پارلیمنٹ، عدلیہ اور سول بالادستی کمزور ہو چکی ہے۔ ان کے بقول، فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں اور حکومتیں محض نمائشی کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی دفعات کو دانستہ کمزور کیا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اب جنگ نظریات کی نہیں بلکہ اتھارٹی کی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہے اور پارلیمنٹ محض مہرِ تصدیق بن کر رہ گئی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے اُن تنظیموں اور گروہوں پر بھی سخت تنقید کی جو جمہوریت کو کفر قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیانیہ نہ علمی بنیاد رکھتا ہے اور نہ ہی فقہی استدلال، بلکہ یہ سوچ دراصل امت کو تقسیم کرنے اور ریاستی و سماجی انتشار پیدا کرنے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ مولانا کے مطابق، اسلام میں اصل مسئلہ محض جمہوریت یا کسی اور نظام کا نام نہیں بلکہ حاکمیتِ الٰہیہ کا عملی نفاذ ہے، جس کے لیے اکابر علماء نے شورائیت اور پارلیمانی جدوجہد کو ایک عملی راستہ سمجھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جمہوریت کو سرے سے کفر قرار دینا وہی طرزِ فکر ہے جو تاریخ میں تکفیر، فتنہ اور خونریزی کا سبب بنتی رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے انتہاپسند تنظیموں پر بھی شدید تنقید کی جو اسلام کے نام پر تشدد، قتل اور کفر کے فتوے جاری کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عناصر نہ قرآن کو صحیح سمجھتے ہیں اور نہ حدیث کو، بلکہ موضوع اور ضعیف روایات کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں، جو صریحاً اسلام کے خلاف ہے۔ دینی مدارس کے دفاع میں انہوں نے واضح کیا کہ یہ ادارے صدیوں سے مستند، خود کفیل اور فلاحی کردار ادا کر رہے ہیں۔ طلبہ کو مفت تعلیم، رہائش، خوراک اور علاج فراہم کرنا دنیا کے کسی اور نظام میں ممکن نہیں۔ مدارس کو غیر ضروری قرار دینا دراصل قرآن و حدیث کے علوم سے انکار کے مترادف ہے۔
انہوں اس بات پر زور دیا کہ انسانیت کے تمام مسائل کا واحد حل اسلامی نظام ہے۔ شورائیت، اسلامی معیشت، انسانی حقوق اور اللہ کی حاکمیت پر مبنی نظام ہی دنیا کو استحکام فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے میڈیا، سیاسی کارکنان اور عوام سے اپیل کی کہ وہ سچائی، تحقیق اور اخلاقیات کو اپنا شعار بنائیں اور معاشرے کو ایک مثبت رخ دیں۔
سیاسی و نظریاتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے تو اس نشست میں مولانا فضل الرحمٰن کا یہ تفصیلی بیان محض ایک رائے نہیں بلکہ ایک فکر انگیز سوچ ہے جو توجہ اور سنجیدہ تجزیے کی متقاضی ہے۔
واپس کریں