دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
داخلی و خارجی نمک حرام
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
اکیس اور بائیس فروری کی درمیانی شب پاکستانی مسلح افواج کے شاہینوں نے دہشتگردی کے مرکز یعنی افغانستان میں بھرپور کاروائی کرتے ہوئے کمین گاہوں پر بمباری کی اور متعدد دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا۔ ان حملوں کے بعد سوشل میڈیا پر منقسم بیانئے سامنے آئے، جسکی بدولت یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ افغان دہشتگردوں کے حوالے سے افغانی، بھارتی اور پاکستان میں موجود نمک حرام مودیئے مکمل طور پر ایک پیچ پر نظر آئے جو اپنے من گھڑت اور زہریلے پروپیگنڈا کے ذریعہ سوشل میڈیا کی سکرینوں پر افغانی دہشتگردوں کو مظلوم اورپاکستانی مسلح افواج کو جارح کے طور پر پیش کررہے تھے۔
افغانی دہشتگردوں پر حملوں کے بعد افغانیوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی مودیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو پاکستان کے خلاف زہر اگلتا ہوا باآسانی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اک سیاسی جماعت اور اسکے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور بالخصوص بیرونی ممالک مقیم یوٹیوبرز نے پاکستانی ریاست اور خصوصا مسلح افواج کی اس شاندار کاروائی کے برخلاف من گھڑت اور بیہودہ پروپیگنڈا جاری رکھا۔ کچھ بدبختوں نے تو قرآن مجید کے شہید نسخوں کی پرانی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں، یعنی یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستانی افواج نے مساجد و مدارس پر حملے کرکے قرآنی نسخوں کو شہید کردیا، نااعوذ باللہ۔ ایسے بدبختوں اور جھوٹ بول کر روزی روٹی کمانے والوں کیلئے یہ کہنا ہی کافی ہوگا کہ لعنت اللہ علی الکاذبین۔
یہ جھوٹے لوگ قرآن کریم کے صاف ستھرے شہید شدہ اوراق کی تصاویر شئیر کر کے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یاد رہے جس جگہ جنگی جہاز میزائل یا بم پھینکتا ہے وہاں پر کنکریٹ اور لوہا ایسے مواد تک تباہ ہوجاتے ہیں چہ جائے کہ یہاں قرآنی اوراق کو دھواں بھی نہیں لگا۔حالانکہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ یہ تصاویر کئی ماہ پرانی ہیں۔ ویسے ہماری مساجد میں آئے روز جب یہ خودکش خارجی پھٹتے ہیں تو کیا خدانخواستہ ہماری مساجد میں قرآن کریم کی بجائے بائبل یا گیتا رکھی ہوتی ہے؟ ہماری مساجد کا قرآن، قرآن نہیں ہوتا؟ اس کے تقدس کے بارے میں کبھی دجال کے پیروکاروں نے کوئی مذمتی بیان دیا؟
پاکستان کا شمار ان بدقسمت ریاستوں میں ضرور کیا جاسکتا ہے جہاں کے باسیوں میں ایسے گروہ بھی رہتے ہیں، جنکے دل و دماغ پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ جسکا اظہار اپنی گذشتہ تحریر ''پاکستانیت ہی ہماری بقا ہے'' میں کیا تھا۔ افغان دہشتگردوں پر حملے سے ایک دن پہلے پاک آرمی کے کرنل سمیت جوان شہید ہوئے، گذشتہ جمعہ اسلام آباد مسجد میں درجنوں افراد نماز پڑھتے شہید کردیئے جاتے ہیں۔ اس موقع پر آپکو داخلی و خارجی نمک حراموں کی جانب سے طنز کے نشتر چلاتے ہی دیکھا گیا۔ آپ مسلح افواج کے کسی جوان کی شہادت کی خبر سوشل میڈیا پر بریک ہوتی دیکھیں آپکو پاکستان میں موجود مودیئے ہنستی ہوئی سمائلی دیتے، پاکستانی ریاست اور افواج کے خلاف بکواس کرتے ضرور دیکھائی دیں گے۔
ہمارے ہاں پاکستانیوں کو ہزاروں میل دور فلسطین میں شہید ہونے والے افراد کی اتنی فکر لاحق ہوتی ہے کہ لمبی لمبی پریس ریلیزیں اور تقریریں کرتے دیکھائی دیں گے، مگر افسوس پاکستانی عوام اور مسلح افواج کی شہادتوں پر ایسے افراد کو سانپ ہی سونگھ جاتا ہے۔ کیا پاکستانی عوا م اور مسلح افواج مسلمان نہیں اور کیا انکی قربانیوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے؟ آج نمک حرام افغانی حکمران پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ مل کر پاکستانی ریاست کو کمزور کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔ ہمیں یہ بتایا جاتا تھا کہ شمالی اتحاد والے پاکستان کے خلاف ہیں اور یہ طالبان اچھے لوگ ہیں جو پاکستان کے بارے میں نیک سوچ رکھتے ہیں۔ کل تک ہم یہی سمجھتے رہے کہ اشرف غنی، حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ ایسے افراد ہی نمک حرام ہیں مگر یہ بات کہتے کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ افغان طالبان تو ان سب سے زیادہ نمک حرام نکلے۔بلا شک و شبہ ٹی ٹی پی والے ہی طالبان ہیں۔ جو پاکستانی سرزمین پر بے شرمی سے حملے کرتے ہیں۔ افسوس اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ نمک حرام افغانیوں کے حماتیوں کی پاکستان میں بھی کمی نہیں ہے چاہے وہ سیاسی لوگ ہوں یا پھر مذہبی جماعتوں سے وابستہ۔ آپ ملاحظہ فرمائیں کہ حامد کرزئی، عبداللہ عبداللہ ایسے افراد جو طالبان کے کٹر مخالف رہے ہیں وہ بھی آج افغانی دہشتگردوں پر پاکستانی حملوں کی مزمت کرتے اور افغان حکومت کیساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ مگر افسوس پاکستان میں مودیئے ہر لمحہ، ہر موقع پر پاکستان سے زیادہ افغانیوں کے حمایتی نظر آتے ہیں۔ چاہے وہ پرنٹ میڈیا ہو، الیکٹرانک یا پھر سوشل میڈیا۔
یاد رہے غلیظ اور من گھڑت پروپیگنڈا، بلٹ سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف ایکشن کے ساتھ ساتھ وطن عزیز میں انکے حمایتوں جو بظاہر دشمن کے ترجمان ہیں، ان پر بھی کریک ڈاؤن کیا جائے۔ پرنٹ و الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پروپیگنڈاکسی صورت اجازت نہ دی جائے۔
واپس کریں