دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سہیل آفریدی کا سوال یا قومی سلامتی سے انکار؟
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا یہ کہنا کہ “ریاست پاکستان ثبوت دے کہ افغانستان سے دہشت گردی ہو رہی ہے”محض ایک بیان نہیں بلکہ قومی سلامتی پر براہِ راست حملہ ہے۔ یہ جملہ لاعلمی نہیں، دانستہ انکار ہے اور انکار وہ بھی ایسے وقت میں جب خیبر پختونخوا روزانہ لاشیں اٹھا رہا ہو۔ یہ طرزِ فکر صرف گمراہ کن نہیں، بلکہ دہشت گردی کے بیانیے کو سہارا دینے کے مترادف ہے۔ یہ حقیقت اب کسی بحث کی محتاج نہیں کہ خیبر پختونخوا پاکستان کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔ پولیس، سیکیورٹی فورسز، امن جرگوں کے عمائدین اور عام شہری سب نشانے پر ہیں۔ جس لمحے وزیراعلیٰ صاحب“ثبوت”مانگ رہے تھے، انہی لمحوں میں ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی آئی ای ڈی حملے کا شکار ہو چکی تھی، جس میں ایس ایچ او سمیت چھ اہلکار شہید ہوئے۔ اس سے ایک دن قبل 11 افراد جن میں سات پولیس اہلکار اور چار امن جرگے کے ارکان شامل تھے قتل کیے گئے۔ بنوں میں مارے جانے والے آٹھ دہشت گرد کون تھے؟ کیا وہ کسی خلا سے آئے تھے یا ایک منظم سرحد پار نیٹ ورک کے سپاہی تھے؟
وزیراعلیٰ صاحب اگر واقعی ثبوت چاہتے ہیں تو وہ پشاور سے ٹانک، بنوں سے باجوڑ تک پھیلی قبریں دیکھ لیں۔ بازاروں، مساجد، تھانوں اور چیک پوسٹوں پر بہتا خون دیکھ لیں۔ وہ مائیں دیکھ لیں جو اپنے بیٹوں کو وردی میں دفن کر رہی ہیں۔ اگر یہ ثبوت نہیں تو پھر ثبوت کی تعریف بدل دی گئی ہے اور بدلی ہوئی تعریف کا فائدہ صرف دہشت گردوں کو ہوتا ہے۔ یہاں دوغلے معیار کی انتہا نظر آتی ہے۔ افغانستان سے دہشت گردی کے لیے تو ثبوت مانگے جاتے ہیں، مگر بغیر کسی ثبوت کے یہ الزام لگا دیا جاتا ہے کہ مساجد میں کتے باندھے گئے۔ سوال یہ ہے کہ ثبوت کا تقاضا صرف وہاں کیوں ہوتا ہے جہاں ریاستی مؤقف کمزور کیا جا سکے؟ کیا وزیراعلیٰ کا منصب انہیں یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ سچ کو سیاسی سہولت کے مطابق قبول یا مسترد کریں؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے ناقابلِ تردید شواہد بارہا پیش کر چکا ہے، داخلی سطح پر بھی اور عالمی فورمز پر بھی۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس، سلامتی کونسل کے اجلاس، اور بین الاقوامی سفارتی بریفنگز واضح کر چکی ہیں کہ ٹی ٹی پی، داعش، القاعدہ اور دیگر تنظیمیں افغانستان میں موجود اور سرگرم ہیں۔ یہ کیمپ کسی افسانے کا حصہ نہیں، یہ افغان طالبان حکومت کی ناک کے نیچے قائم حقیقت ہیں۔ صرف سال 2025 میں 2,597 دہشت گرد مارے گئے، جن میں 130 سے زائد افغان دہشت گرد شامل تھے۔ ٹی ٹی پی کی قیادت، نور ولی، بشیر زیب اور گل بہادر،آج بھی افغانستان میں کھلے عام موجود ہے اور وہیں سے خیبر پختونخوا کے خلاف کارروائیاں منظم کر رہی ہے۔ ان حقائق کے بعد بھی“ثبوت”کا مطالبہ دراصل دہشت گردی کے انکار کے سوا کچھ نہیں۔ یہ دعویٰ بھی جھوٹ پر مبنی ہے کہ افغانستان کے پڑوسی ممالک کو کوئی مسئلہ نہیں۔ ایران کی سرحدی بندش، اور عالمی جریدوں کی رپورٹس اس بات کا اعلان ہیں کہ افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشت گردی کا مرکز بن رہا ہے۔ ایسے میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کا اس حقیقت سے انکار کرنا محض نااہلی نہیں، یہ خطرناک سیاسی سرپرستی ہے۔
سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جب صوبہ آگ میں جل رہا ہے، وزیراعلیٰ صاحب دیگر صوبوں میں بے مقصد سیاسی سرگرمیوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ یہ طرزِ حکمرانی نہیں، عوام سے بے وفائی ہے۔ ایک منتخب عہدہ اگر عوام کے خون کی قیمت پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال ہو تو اس پر خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔ حد تو یہ کہ خیبرپختونخواہ حکومت اور انکے وزراء ٹی ٹی پی کو دہشتگرد گروہ ماننے سے بھی انکاری ہیں۔ باوجود اسکے کہ ٹی ٹی پی افغان طالبان کی پشت پناہی کی بدولت پاکستان خصوصا صوبہ خیبرپختونخواہمیں خون کی ہولی کھیل رہی ہے۔بسا اوقات تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے خلاف بھارت، افغانستان اور پی ٹی آئی یکساں موقف اپنائے ہوئے ہیں۔
ریاست پاکستان پر لازم ہے کہ وہ اس روش کو فوری طور پر روکے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں، بیانیے سے بھی لڑی جاتی ہے۔ جو شخص اس بیانیے کو کمزور کرے خواہ وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو اسے آئین اور قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ پارلیمانی احتساب، عدالتی جائزہ، اور قومی سلامتی سے متصادم بیانات پر واضح تادیبی کارروائی ناگزیر ہے۔ یہ بھی سوال ہے کہ عام شہری پر قانون فوراً حرکت میں آتا ہے، مگر بااثر عہدیداروں کے لیے نرمی کیوں؟ اگر ریاست واقعی سنجیدہ ہے تو اسے مثال قائم کرنا ہوگی۔ دہشت گردی کو جواز دینے والے ہر بیان، ہر اشارے اور ہر انکار کے خلاف فیصلہ کن اقدام کرنا ہوگا۔
اب وقت آ چکا ہے کہ مصلحت کو دفن کیا جائے۔ پاکستان خصوصا خیبر پختونخوا مزید جنازے نہیں اٹھا سکتا۔ قوم کو ایک واضح، غیر مبہم اور جارحانہ قومی مؤقف درکار ہے اور ایسے افراد کا سدِباب جو اس مؤقف کو کمزور کرتے ہیں۔ ورنہ تاریخ یہ سوال ضرور پوچھے گی کہ جب صوبہ جل رہا تھا، تو ذمہ دار کہاں تھے اور ریاست کیوں خاموش رہی؟
واپس کریں