یومِ عہدِ وفا — 19 جولائی 1947: قراردادالحاقِ پاکستان کی اٹل حقیقت

تحریر: سمعیہ ساجد ۔ہمیں پاکستان سے عشق ہے، یہ مقدر کی بات نہیں صرف جذبہ ہے!اور آج جب ہم 19 جولائی 1947 کی طرف دیکھتے ہیں تو مجھے بطور ایک کشمیری بیٹی اور ایک مہاجر خاندان کی فرد کے طور پر یہ کہنا لازم محسوس ہوتا ہے کہ اس قرارداد کا درد، اس کی معنویت، اور اس کی روشنی کو ہم سے بہتر شاید کوئی نہ سمجھ سکے۔ ہم اُن خاندانوں سے ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان کی محبت میں ہجرت کی، اور آج پاکستان کے پرچم تلے آزادی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم نے یہاں تعلیم، عزت، سہارا اور قومی شناخت پائی — لیکن یہ سب کچھ پاتے ہوئے بھی دل کا ایک گوشہ ہمیشہ خالی رہا ہے۔ہمارے عزیز و اقارب آج بھی مقبوضہ وادی کے ظلم و ستم کے نیچے سسک رہے ہیں۔ کوئی خوشی ہو یا غم، ہم ان کی زندگی کے لمحات میں شریک نہیں ہو سکتے۔ کئی دفعہ کوئی چچا، خالہ، کزن شہید ہو جاتا ہے اور ہمیں صرف ان کے جنازے کی تصویر دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ فاصلہ صرف سرحدی نہیں بلکہ خونی اور روحانی ہے، جو ہر دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری سرزمین ابھی مکمل آزاد نہیں، اور ہمارا وعدہ ابھی ادھورا ہے۔اسی لیے جب ہم ’’الحاقِ پاکستان‘‘ کی بات کرتے ہیں تو یہ صرف نعرہ نہیں بلکہ ہمارے بزرگوں کے خواب، ہمارے شہداء کی قبریں، اور ہمارے بچوں کی امیدیں ہیں۔ ہمیں اس نظریے سے محبت وراثت میں ملی ہے، اور اسے نبھانا ہم پر فرض ہے۔یومِ قرارداد الحاق پاکستان 19 جولائی 1947، ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ میں وہ ناقابلِ فراموش دن ہے جب کشمیریوں نے اپنی آزاد مرضی سے یہ اعلان کیا کہ ان کا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ ہوگا۔ یہ صرف ایک تاریخی قرارداد کا دن نہیں بلکہ ایک فکری، نظریاتی اور سیاسی بیداری کا لمحہ تھا جو وقت کے طوفانوں کے باوجود آج بھی اپنی آب و تاب سے روشن ہے۔ یہ دن اس عہدِ وفا کی تجدید کا دن ہے جس میں ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں نے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد اپنے جذبات اور ارادوں کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہم پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں، ہم وہ قوم ہیں جو محمد علی جناح کے تصورِ پاکستان پر ایمان رکھتی ہے اور ہمارا جغرافیہ، ثقافت، تہذیب اور دین ہمیں پاکستان کے ساتھ جوڑتا ہے۔19 جولائی 1947 کو سری نگر میں سردار ابراہیم خان کی رہاشگاہ پر ایک عظیم الشان اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس دراصل کشمیری مسلمانوں کے اس جذبہ خود ارادیت کی نمائندگی کر رہا تھا جسے مہاراجہ ہری سنگھ کی ڈوگرہ حکومت دبانے کی کوشش کر رہی تھی۔ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے اس اہم اجلاس کی صدارت محترم چودھری حمید اللہ خان نے کی، جبکہ قرارداد الحاق پاکستان مولوی محمد ابراہیم صاحب نے پیش کی۔ یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی، جس میں واضح طور پر کہا گیا کہ ریاست جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان سے کیا جائے گا کیونکہ ریاست کی اکثریت مسلمان ہے، اور مسلمانوں کی تہذیب، تمدن، تاریخ اور مذہب پاکستان سے وابستہ ہیں۔یہ قرارداد نہ صرف ایک کاغذی فیصلہ تھا بلکہ ایک عوامی مطالبہ تھا، ایک اجتماعی شعور کا مظہر تھا۔ اس قرارداد کے بعد کشمیری عوام نے ہندو مہاراجہ کی مخالفت کے باوجود، ہر محاذ پر پاکستان سے وفاداری اور قربانی کی مثالیں قائم کیں۔ یہی وہ تاریخی لمحہ تھا جب کشمیری عوام نے فیصلہ کیا کہ اگر انہیں زبردستی بھارت کے ساتھ ملانے کی کوشش کی گئی تو وہ مزاحمت کریں گے، قربانیاں دیں گے، لیکن اپنے نظریاتی فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔اسی جذبہ الحاق پاکستان نے 1947 کے بعد تحریکِ آزادی کشمیر کو جنم دیا۔ اسی تسلسل میں 1947 کی قبائلی تحریک، 1948 کی جنگ، 1965، 1971، 1990 کی مسلح جدوجہد اور آج تک کی سیاسی و سفارتی کوششیں دراصل اسی قرارداد کے عملی مظاہر ہیں۔ ان تمام کوششوں کے پیچھے اگر کوئی نظریہ کارفرما رہا تو وہ الحاق پاکستان کا نظریہ ہے، اور اگر کسی جماعت نے اس نظریہ کو مسلسل زندہ رکھا تو وہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس ہے۔مجاہدِ اول سردار محمد عبدالقیوم خان اس جدوجہد کا وہ روشن ستارہ ہیں جنہوں نے نہ صرف 1947 میں عملی طور پر جنگِ آزادی آغاز کیا بلکہ بعد ازاں سیاسی میدان میں اس تحریک کی قیادت کرتے ہوئے اسے ایک نئی جہت دی۔ سردار عبدالقیوم خان وہ پہلے رہنما تھے جنہوں نے آزاد کشمیر میں الحاق پاکستان کے نعرے کو آئینی، سیاسی اور عوامی سطح پر مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ اسی عہد کی تکمیل میں صرف کیا جو 19 جولائی 1947 کو کشمیری عوام نے کیا تھا۔ ان کی قیادت میں مسلم کانفرنس نے آزاد کشمیر کے ہر شہر، ہر گاؤں، ہر دل میں پاکستان سے محبت کا چراغ روشن رکھا۔مجاہداول سردار عبدالقیوم خان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہی تھا کہ وہ الحاق پاکستان کو محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک عقیدہ سمجھتے تھے۔ انہوں نے اپنے بیانا ، تقاریر، تحریروں اور اقدامات میں ہمیشہ اس عہد کی پاسداری کی جس کی بنیاد 19 جولائی کو رکھی گئی تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ جب تک کشمیر کا مکمل الحاق پاکستان سے نہیں ہو جاتا، نہ ہماری جدوجہد مکمل ہے نہ آزادی حاصل ہوئی ہے۔مجاہداول نے 70کی داہی میں کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرپ دے کر کشمیریوں کے جذبہ آزادی میں ایک نئی روح بخشی۔ سید علی گیلانی شہید جیسے عظیم المرتبت رہنما نے بھی اسی قرارداد الحاق پاکستان کو اپنی جدوجہد کا محور بنایا۔ انہوں نے بھارتی ظلم و جبر کے باوجود، قید و بند کی صعوبتیں جھیلتے ہوئے، پاکستان کے ساتھ الحاق کی بات کی۔ ان کے مشہور جملے ’’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘‘ دراصل 19 جولائی 1947 کی قرارداد کی روح کی ترجمانی ہیں۔ سید علی گیلانی کی قیادت میں حریت کانفرنس نے یہ بات دنیا کو باور کروائی کہ کشمیری بھارت کے ناجائز قبضے کو قبول نہیں کرتے اور ان کا حقیقی اور فطری الحاق صرف پاکستان سے ہے۔ ان کا خواب وہی تھا جو 1947 میں سری نگر میں مسلم کانفرنس نے دیکھا تھا، حریت کانفرنس کے دیگر قائدین جیسے میر واعظ مولوی عمر فاروق، محمد یاسین ملک،سید ہ آسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی ،ناہیدہ نسرین ۔ شبیر شاہ اور دیگر رہنماؤں نے بھی ہمیشہ اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ کشمیریوں کی اصل منزل پاکستان ہے۔ ان کی قربانیاں، ان کی قیدیں، ان پر مظالم، سب دراصل اسی اٹل حقیقت کا اظہار ہیں کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں بلکہ پاکستان کی شہ رگ ہے۔یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے آج تک اس نظریہ الحاق پاکستان کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ دیگر جماعتیں وقت کے ساتھ اپنے مؤقف بدلتی رہیں، کبھی مذاکرات کی بات کی، کبھی خودمختاری کی، لیکن مسلم کانفرنس نے ہر دور میں، ہر حکومت میں، ہر بحران میں یہ ثابت کیا کہ وہ صرف اور صرف الحاق پاکستان کی بات کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب ریاستِ جموں و کشمیر پر بھارتی ظلم بڑھ چکا ہے، اور جب دنیا دوغلی پالیسیوں کا شکار ہے، مسلم کانفرنس آج بھی استقامت، اصول اور نظریہ کی علامت بن کر کھڑی ہے۔اس موقع پر میں بطو ر افواج پاکستان کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بھی شکریہ کرتی ہوں کہ انھوں کی قیادت میں مسئلہ کشمیر ایک بار پھر سے زندہ ہوا ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر و ہم جو آزاد کشمیر میں رہنے والے کشمیری ہیں افوا ج پاکستان کو اپنا محافظ سمجھتے ہیں، انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب کشمیر 19جولائی 1947کی قرارداد کے مطابق آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ بنے گا۔آج 19 جولائی 2025 ہے، اور اس تسلسل کی ایک اور روشن کڑی آج عظیم الشان الحاق پاکستان کنونشن کی صورت میں نظر آ رہی ہے جو مظفرآباد میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس کنونشن کے مہمانِ خصوصی صدر مسلم کانفرنس و سابق وزیرِاعظم آزاد کشمیر، سردار عتیق احمد خان ہیں، جو اپنے عظیم قائد مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان (رح) کے نظریات کے امین اور وارث ہیں۔ سردار عتیق احمد خان نے اپنے مجاہداول کی فکر کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اسے آج کی نوجوان نسل میں منتقل کرنے کے لیے بے پناہ کوششیں کیں۔ ان کی قیادت میں مسلم کانفرنس نے ہر سال 19 جولائی کو شایانِ شان طریقے سے منایا، اسے ایک تحریک کا عنوان بنایا، اور دنیا کو باور کروایا کہ کشمیری آج بھی پاکستان سے جڑے ہوئے ہیں۔آج کا کنونشن دراصل کشمیریوں کے اس عہدِ وفا کی تجدید ہے جسے وقت کی گرد مٹا نہ سکی۔ اس میں وہ خاندان، وہ کارکن، وہ مجاہد، وہ بزرگ، وہ نوجوان شریک ہیں جنہوں نے نسل در نسل الحاق پاکستان کے نظریہ کو سینے سے لگایا۔ یہ کنونشن صرف ایک رسم نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ کشمیری قوم اب بھی اپنے فیصلہ پر قائم ہے۔ وہ فیصلہ جو 1947 میں لیا گیا تھا، وہی آج بھی ان کے ایمان کا حصہ ہے۔ آج بھی کشمیریوں کے دل پاکستان کے لیے دھڑکتے ہیں، ان کے نعرے پاکستان کے لیے بلند ہوتے ہیں، ان کی قربانیاں پاکستان کے لیے دی جا رہی ہیں۔ اور آج جب بھارت نے دفعہ 370 کا خاتمہ کر کے اپنی اصلیت آشکار کر دی ہے، تب دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کشمیریوں کی جدوجہد کسی زمین کے ٹکڑے کے لیے نہیں بلکہ ایک نظریہ کے لیے ہے، ایک تاریخی فیصلے کے لیے ہے، ایک مذہبی، تہذیبی، ثقافتی رشتے کے لیے ہے جس کا اظہار 19 جولائی کو ہو چکا ہے۔مسلم کانفرنس کا یہ کنونشن اس بات کی دلیل ہے کہ کشمیریوں کی آواز آج بھی ایک ہے، ان کی منزل آج بھی پاکستان ہے، اور ان کی قیادت آج بھی اس مشن پر قائم ہے جس کی بنیاد چودھری غلام عباس، مجاہداول سردار عبدالقیوم خان نے رکھی تھی۔آج جب ہم 19 جولائی 1947 کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ دن محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک تحریک کا آغاز نظر آتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جس نے کشمیریوں کے دلوں میں ایک نیا جوش، ایک نئی امید، اور ایک نیا عہد پیدا کیا۔ اور آج جب ہم اسی تسلسل کو سردار عتیق احمد خان کی قیادت میں ایک نئے عہد کے ساتھ دیکھتے ہیں تو ہمیں یقین ہوتا ہے کہ قربانیوں کا یہ سفر رائیگاں نہیں جائے گا۔ وہ دن دور نہیں جب 19 جولائی کا خواب پورا ہوگا، جب سری نگر میں بھی الحاق پاکستان کا پرچم لہرائے گا، جب شہدائے کشمیر کی قربانیوں کا صلہ ملے گا، اور جب کشمیری قوم مکمل آزادی کے ساتھ پاکستان کا حصہ بنے گی۔یہی وہ نظریہ ہے جو ہمیں ہر دور میں متحد رکھے گا۔ یہی وہ جذبہ ہے جو ہمیں ظلم کے اندھیروں میں روشنی دے گا۔ یہی وہ وعدہ ہے جو ہم نے اپنے اجداد سے کیا تھا اور یہی وہ عہد ہے جس کی تجدید ہم ہر سال 19 جولائی کو کرتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ۔
ہم وہ چراغ ہیں جو آندھیوں میں بھی جلتے ہیں
کشمیر بن کے رہے گا پاکستان، یہ وعدہ ہے!
واپس کریں