دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
تحریک آزادی کشمیر کے عظیم رہنما میرواعظ مولوی محمد یوسف شاہ ؒ
انعام الحسن کاشمیری
انعام الحسن کاشمیری
میرواعظ مولانا محمد یوسف شاہ ممتاز سیاسی، سماجی ومذہبی رہنمااورتحریک آزادی ئ کشمیر کے صف اول کے قائد تھے۔ 19 فروری 1894ء کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے راجوڑی میں غلام رسول شاہ کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابھی 10برس کے تھے کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا جس کے بعد چچا میرواعظ مولوی احمد اللہ اور مولوی عتیق اللہ کے زیرکفالت آگئے جنہوں نے آپ کی پرورش کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ مذہبی تعلیم دارالعلوم دیوبند سے حاصل کی جہاں آپ کو عظیم کشمیری سکالر علامہ انور شاہ کشمیریؒ سے اکتساب فیض کا موقعہ بخوبی میسر آیا۔ دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد آپ لاہور تشریف لے گئے جہاں پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی کی سند حاصل کی۔ دارالعلوم دیوبند میں قیام کے دوران آپ تحریک خلافت میں بھی شریک رہے چنانچہ جب 1924ء میں آپ واپس آبائی وطن پہنچے تو یہاں بھی آپ نے ایک خلافت کمیٹی قائم کی اور اس سلسلے میں ہر گھر میں جاکر دعوت وتبلیغ کا فریضہ سرانجام دیا۔
آپ کے والد نے مستحق کشمیریوں کی مدد کے لئے ایک فلاحی جماعت انجمن نصرت الاسلام قائم کررکھی تھی چنانچہ اس جماعت کے صدر کی حیثیت سے آپ نے سرینگر میں علی گڑھ کالج کی طرز پر اورینٹیل کالج کی بنیاد رکھی جہاں مولوی فاضل، ادیب فاضل اور منشی فاضل کی تعلیم دی جاتی تھی۔وطن واپسی کے بعد آپ نے ڈوگرہ مظالم کا شکار کشمیری مسلمانوں کی دادرسی اور ان کی مدد کے لئے خود کو وقف کردیا۔ چنانچہ اس دوران آپ نے بھرپور کوششیں کی کہ ڈوگرہ حکومت ریاست کی اکثریتی آبادی کے حامل مسلمانان کشمیر کو ان کے جائز حقوق دینے کی بابت ضروری اقدامات اٹھائے۔ 13جولائی 1931ء کو سرینگر سنٹرل جیل کے باہر خونیں سانحہ میں شہید ہونے والے 22مسلمانوں کے جسد ِ خاکی جب مرکزی مسجد میں پہنچائے گئے تو میر واعظ نے اعلان کیا کہ ان شہداء کو بڑے اعزاز کے ساتھ صوفی بزرگ نقش بند صاحب کے مزار کے احاطے میں مدفون کیا جائے گا۔
آپ نے شیخ عبداللہ اور قائد ملت چوہدری غلام عباس ؒ کے ہمراہ 1932ء میں آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کی بنیاد رکھی۔ جب شیخ عبداللہ نے مسلم کانفرنس کو نیشنل کانفرنس میں مبدل کیا تو آپ نے محسوس کرلیا کہ ایسا کرنے سے ہم اپنے اصل مقصد سے ہٹ رہے ہیں لہٰذا آپ نے اپنی راہیں شیخ عبداللہ سے جدا کرلیں اور جداگانہ حیثیت میں مسلمانانِ کشمیر کی سیاسی وسماجی اور مذہبی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دینے لگے۔ 1943ء میں قائدملتؒ نے آپ کو مسلم کانفرنس میں شمولیت کی دعوت دی جسے آپ نے خندہ پیشانی سے قبول کرلیا اور سرینگر کی جامع مسجد میں ہزاروں مریدوں کے ہمراہ مسلم کانفرنس میں شمولیت کا اعلان کردیا۔ ان کی شمولیت سے مسلم کانفرنس کو زبردست تقویت پہنچی اور مسلمانان کشمیر جوق درجوق اس جماعت میں شمولیت اختیار کرنے لگے۔ آپ نے 1943ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ کراچی میں بھی دوساتھیوں مولوی محمد امین اور مولوی میرک شاہ کے ہمراہ شرکت کی۔ مئی 1944ء میں قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے کشمیر کا دورہ فرمایا تو میر واعظ منزل پر قائداعظم کے اعزاز میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ 1945ء میں آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے 14ویں سالانہ اجلاس کی صدارت میر واعظ مولوی محمد یوسف شاہ نے فرمائی۔ یہ اجلاس راولاکوٹ پونچھ میں منعقد کرنا طے پایا تھا لیکن حکومت نے یہاں اجلاس کرنے پر پابندی عائد کردی جس کے بعد یہ اجلاس پونچھ کے پلیٹ گراؤنڈ میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں قائدملت چوہدری غلام عباسؒ نے رات 10بجے سے لے کر صبح 4بجے تک تقریر کی اور حکومت پر زبردست نکتہ چینی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ مسلمانوں کو ان کے جائز حقوق دینے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرے۔
اس اجلاس میں میری واعظ مولانا محمد یوسف شاہ ؒکو اگلے سال کے لئے مسلم کانفرنس کا صدر اور قریشی محمد یوسف کو جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ 1946ء میں شیخ عبداللہ کی نیشنل کانفرنس نے ڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف ”کشمیر چھوڑ دو“ تحریک شروع کی تو مسلم کانفرنس نے بھی اسی نہج پر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا۔ میرواظ یوسف شاہ ؒنے ا س فیصلے کی مخالفت کی لیکن اکثریتی اراکین کی رائے پر عمل کرتے ہوئے تحریک کا آغاز کردیا گیا جس کے نتیجے میں چوہدری غلام عباس اور اے آ رساغر سمیت مسلم کانفرنس کی تمام اعلیٰ قیادت کو گرفتار کرلیا گیا تاہم میرواعظ مولوی یوسف شاہ گرفتار ہونے سے محفوظ رہے۔ چنانچہ جب قیام ِ پاکستان کا اعلان ہوا تو مسلم کانفرنس کی اعلیٰ قیادت جیل میں تھی جبکہ میر واعظ مولوی یوسف شاہ ؒ جیل سے باہر رہتے ہوئے مسلمانانِ کشمیر کی سیاسی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔
قیام پاکستان کے بعد میر واعظ مولوی یوسف شاہ لاہو رتشریف لائے تاکہ قائداعظم ؒ سے مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جاسکے۔ واپسی پر بھارتی حکومت نے ان کا کشمیر میں داخلہ بند کردیا۔ 24اکتوبر 1947ء کو قائم ہونے والی آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیرکی کابینہ میں آپ کو وزارت تعلیم کا قلم دان سونپا گیا۔ آپ 1951اور 1956ء کے دوران مختصر وقت کے لئے آزاد کشمیر کے منصبِ صدارت پر بھی فائز رہے۔ میر واعظ مولوی محمد یوسف شاہ ؒنے 1964ء کے دوران اعلیٰ سطحی وفد کے سربراہ کی حیثیت سے اسلامی اور یورپی ممالک کا دورہ کیا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیریوں کو ان کے ازلی پیدائشی حق ”حق خودارادیت“ کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ آپ کی وفات16رمضان المبارک 1968ء کو ہوئی۔ وصیت کے مطابق آپ کو سپریم کورٹ کی سابق عمارت واقع مظفرآباد کے احاطہ میں امانتاً دفن کیا گیا ہے تاکہ جب کشمیر کاباقی ماندہ حصہ بھارتی تسلط سے آزاد ہوجائے تو آ پ کے جسد خاکی کو سرینگر میں واقع خاندانی قبرستان میں دفن کیاجاسکے۔
واپس کریں