دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ٹرمپ، نیتن یاہْو گٹھ جوڑ، مشرقِ وسطیٰ میں نئی جنگی صف بندیاں اور مسلم دنیا کی ذمہ داری
No image امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہْو کے ایران کی سلامتی کے خلاف گٹھ جوڑ نے پوری مسلم دنیا کو چوکنا کر دیا ہے اور مسلم قیادتیں امریکہ، اسرائیل کی مسلط کردہ نئی صلیبی جنگ کے مقابلہ کے لیئے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کا سوچنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ اس حوالے سے سعودی عرب کے اس اعلان نے اتحادِ امت کے جذبے کو تقویت پہنچائی ہے کی سعودی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایران نے سعودی عرب کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ پاکستان پہلے ہی ایران کے خلاف کسی جنگی کارروائی میں شریک نہ ہونے کا اعلان کر چکا ہے جبکہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ بھی کر چکا ہے۔ اس تناظر میں آنے والے دنوں میں مسلم ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کے تحت امریکہ اور اسرائیل کی جنگی کارروائیوں کا سخت جواب دیا جاسکتا ہے۔ مسلم امہ کے اتحاد کی یہ فضا گذشتہ روز امریکی شہ پر ہزاروں کْردوں کی جانب سے ایران پر کیئے گئے حملے سے بھی ہموار ہوئی ہے۔ ایران کے ایک اعلیٰ فوجی عہدے دار کی جانب سے انتباہ کیا گیا کہ اگر اسرائیل اور امریکہ نے ایران میں رجیم چینج کی کوشش کی تو اسرائیل کے جوہری مرکز ویمونا کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایران نے گذشتہ روز اسرائیل پر ایک ٹن وزنی وار ہیڈ میزائیلوں سے حملہ کیا اور خلیج فارس میں امریکی ٹینکر تباہ کر دیا۔ ایران نے امریکی جنگی طیارہ ایف 15 مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی سینٹ نے ایران کے خلاف جنگ روکنے کی قرارداد مسترد کر دی ہے اور امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر کے لیئے آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کی نامزدگی قبول کرنے سے انکار کردیا ہے اور نئے ایرانی رہنما کے انتخابی عمل میں انہیں شامل کرنے کا تقاضہ کیا ہے۔ گذشتہ روز اسرائیلی آرمی چیف نے دعویٰ کیا کہ جو ایرانی قیادت باقی رہ گئی ہے، اسے بھی ماردیں گے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل نے باہم گٹھ جوڑ کرکے صرف ایران ہی نہیں، پوری مسلم دنیا کے خلاف نئی صلیبی جنگ کا آغاز کر دیا ہے چنانچہ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے نازک اور خطرناک موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں کسی بھی غلط قدم کے نتیجے میں علاقائی تصادم ایک وسیع عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق ہزاروں مسلح کْرد جنگجوؤں نے ایران کے اندر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جبکہ اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے گزشتہ ایک سال سے ان عناصر کو منظم کر کے تربیت دے رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف جنگ روکنے کی قرارداد کا مسترد ہونا اس امر کی واضح علامت ہے کہ واشنگٹن کے طاقتور حلقے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے بجائے اسے مزید بڑھانے کے راستے پر گامزن ہیں۔
یہ صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف ایرانی قیادت کے حوالے سے انتہائی جارحانہ زبان استعمال کی بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخابی عمل میں انہیں شامل کیا جانا چاہیے جبکہ امریکہ اور اسرائیل کا یہ عندیہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایران کی جو قیادت باقی رہ گئی ہے، اسے بھی ختم کر دیا جائے گا۔ ایسے عزائم و اعلانات بلاشبہ کسی بھی خودمختار ریاست کے خلاف کھلی مداخلت کے مترادف اور بین الاقوامی قانون و سفارتی آداب کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ دنیا کی کوئی بھی باوقار قوم اس نوعیت کے بیانات کو اپنی خودمختاری کے خلاف کھلی جارحیت کے طور پر ہی دیکھے گی۔
یقیناً اسی تناظر میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے تیز کر دیئے ہیں جبکہ اسرائیل پر ایک ٹن وزنی وارہیڈ رکھنے والے میزائل داغے جانے کی اطلاعات پر مبنی پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن انتہائی خطرناک حد تک بگڑ چکا ہے اور اگر بروقت سفارتی کوششیں نہ کی گئیں تو صورتحال مکمل جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔اس حوالے سے سعودی عرب کا یہ اعلان کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا، نہایت اہم اور قابلِ توجہ پیش رفت ہے۔ ریاض کی طرف سے اس موقف کو ایران نے خوش آئند قرار دیا ہے جو اتحادِ امت کی فضا پروان چڑھنے کے مصداق ہے۔
یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ گزشتہ کئی دہائیوں سے بڑی طاقتوں کی پراکسی جنگوں کا میدان بنا ہوا ہے۔ کبھی عراق، کبھی شام، کبھی افغانستان اور کبھی یمن کو اس آتش فشاں کا ایندھن بنایا گیا۔ اب ایران کو براہِ راست جنگ میں دھکیلنے کی کوششیں دراصل اسی پرانی حکمت عملی کا تسلسل محسوس ہوتی ہیں۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد مسلم دنیا کو مسلسل عدم استحکام کا شکار رکھنا اور اس کے وسائل پر قابض ہونا ہے۔ٹرمپ اور نیتن یاہو کیحالیہ بیانات اور اقدامات نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کو صرف جغرافیائی یا سیاسی مسئلہ نہیں رہنے دیا گیا بلکہ اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ اگر عالمی سیاست کو مذہبی تصادم کی سمت دھکیل دیا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں پھیل سکتے ہیں۔ بے شک طاقت کی اس سیاست کے نتائج انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ایسے حالات میں مسلم دنیا کی قیادتوں پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں مسلم ممالک باہمی اختلافات اور سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے اکثر مشترکہ حکمت عملی اپنانے میں ناکام رہے ہیں جس کا فائدہ بیرونی قوتوں نے اٹھایا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم ممالک اپنے داخلی اختلافات کو پس پشت ڈال کر الحادی قوتوں کے مسلم دنیا کو منتشر کرنے کے عزائم کا توڑ کرنے کے لیئے مشترکہ ایجنڈے پر متفق ہوں۔اسلامی تعاون تنظیم کو بھی اس بحران میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ محض بیانات اور مذمتی قراردادوں سے آگے بڑھ کر ایک مؤثر سفارتی مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو اور جنگ کے امکانات کو روکا جا سکے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری یقینی بنانا چاہیے۔پاکستان ماضی میں بھی مسلم دنیا کے درمیان مفاہمت اور ثالثی کی کوششوں میں مثبت کردار ادا کرتا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ سفارتی سطح پر فعال کردار ادا کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی آواز بلند کرے۔
یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ جنگیں ہمیشہ معیشتوں کو تباہ، معاشروں کو تقسیم کرتی اور انسانیت کو خون میں نہلا دیتی ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی جنگوں نے لاکھوں جانیں لے لیں اور کروڑوں انسانوں کو بے گھر کر دیا۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آنے والی نسلیں بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکیں گی۔ لہٰذا دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔ عالمی طاقتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا کو نئے تصادم کی نہیں بلکہ امن، استحکام اور تعاون کی ضرورت ہے۔ اگر بڑی قوتیں اپنی طاقت کے زعم میں دنیا کو جنگ کے دہانے تک لے آئیں گی تو اس کے نتائج کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔اب وقت آ گیا ہے کہ تمام مسلم قیادتیں مصلحتوں کے لبادے اتار کر مشترکہ مقاصد و مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہوں۔ اگر مسلم ممالک سیاسی بصیرت اور اتحاد کا مظاہرہ کریں تو وہ نہ صرف اپنے خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچا سکتے ہیں بلکہ عالمی سیاست میں بھی ایک مثبت اور متوازن کردار ادا کر سکتے ہیں۔برتری کے زعم میں مبتلا ٹرمپ کو یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ طاقت کے کھیل میں انسانیت سب سے زیادہ نقصان اٹھاتی ہے۔ اس تناظر میں آج "جس کی لاٹھی اس کی بھینس" کے مجہول فلسفہ کا دامن چھوڑ کر اقوام متحدہ کے ایک دوسرے کی آزادی و خود مختاری کی پاسداری کے اصول پر مبنی چارٹر کو عملی طور پر لاگو کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر ٹرمپ، یاہو، مودی گٹھ جوڑ کے پیدا کردہ حالات عالمی امن کے بجائے عالمی تباہی پر ہی منتج ہوں گے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں