منظر الحق
بسم اللہ الرحمان الرحیم ،آپ سب یقینا حیرت و استعجاب کے دریا میں غوطے لگا رہے ہونگے،اس تحریر کی شروعات مولا رحمان و رحیم کی حمد و ثناء سے ہوئ ہے اور آپ کا خیال بجا ہے،یہ بڈھا کھوسٹ قبر میں جانے سے پہلے،مولا سے اپنا کھاتہ درست کرنے کی آخری سعی ہے۔اللہ موت نظر آنے سے پہلے، مغفرت کی دعا اور اس کی جستجو کا حکم دیتا ہے۔ہم الحمد اللہ تکبر سے مبرا ہو چکے ہیں،رب العزت نے ہدایت کا دروازہ کھول دیا ہے اور اس کی مغفرت و نعمت کو ٹھکرانا، نہایت احمقانہ فعل ہو گا۔
عمر کے اس حصہ میں، کم و بیش بیشتر لوگوں کو اپنا داغدار ماضی یاد آنے لگتا ہے اور گنہاہوں کا پلندہ ہلکا کرنا، اشد ضروری عمل ہے۔یہ بھی مولا کا فضل و کرم ہے،لہذا ہم اسی گورک دھندے میں الجھ گئے اور عمرے کا قصد کر بیٹھے،سرزمین حجاز سے بلاوا بھی آ گیا،الحمد اللہ۔
رمضان کا زمانہ عبادت گزاری کے لیئے نہایت موزوں ہے،دوسرا عشرہ مغفرت کی دعاوں کے لیئے مخصوص ہے اور خادم جیسے خطاکار کو، اپنی لامتناہی فہرست پیش کرتے کرتے، پورا عشرہ درکار ہو گا۔اب آپ ضرور غور و فکر کے گھوڑے پر سوار ہونگے،اس مخنچو کو کس کیڑے نے کاٹ لیا ہے اور یہ کیوں حواس باختہ ہو کر, اپنے اوپر کٹر مولوی ہونے کا ٹھپہ لگوانا چاھتا ہے۔ہم اس بحث مباحثے سے لاتعلق و بے پرواہ ہو چکے ہیں،ویسے کھال بھی خاصی موٹی ،جیسے سارا بدن یے!
یہ تمہید باندھنی ضروری تھی،تاکہ عزیز دوستوں و یاروں کو، ہمارے قبلے کی تبدیلی سمت کا بخوبی علم ہو جائے اور دماغی صحت پر گر کوئ شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں،انھیں بھی ضائل کر دیا جائے۔پرانے یاروں سے کچھ بھی چھپانا ،ایک بے سود کاروائ ہے اور وہ جسم و لبادے کے سارے داغ دھبوں سے خوب واقف و شناسا ہوتے ہیں۔
اگلا مرحلہ شاید ہماری دماغی کشمکش کا ہے،ادیب کو کاغذ پر سیاہی کے ڈورے ڈالنے کے لیئے ذہنی سکون درکار ہونا ضروری ہے اور دنیا کے حالیہ واقعات نے عجب اندرونی ہیجان و خلفشار پیدا کر رکھا ہے۔کئ قریبی احباب نے فرمائشی عنوانات کی ایک لمبی چوڑی فہرست بھی روانہ فرما دی،پر مصنف پر وجدانہ کیفیت طاری ہونی ضروری ہے،یہ وحی تو نہیں ،پر مولا انسانی ذہن میں ایک کھڑکی کھول دیتا ہے اور خیالات و احساسات کا ٹھاٹیں مارتا دریا رواں ہو جاتا ہے۔اس کیفیت کی امید لیئے ہم حجاز مقدس پہنچے،خشوع و خضوع سے مولا کو پکارا اور اس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے،یہ بھلا ہے یا برا،یہ آپ کو خود طے کرنا ہے ۔
کچھ عرصے سے ہم ایک دوسرے مخمصے کا بھی شکار ہیں،ہم نے اڑتی اڑاتی یہ خبر سن رکھی تھی ، شعراء و ادباء بنا شراب و کباب کے، دماغی خلیئوں کی پیچیدہ پیوند کاری سے عاری رہتے ہیں ۔ ہم نہ در میخانہ پر حاضری کے شوقین ، نہ ہی رندوں کی صحبت اپنا مقصد حیات،پر حسیناوں کی زلفوں کے اسیر ہمیشہ سے ضرور رہے ہیں۔ہمارے لیئے حسین و جمیل خواتیں کریپٹوناٹ کا کام سر انجام دیتی ہے، فنون لطیفہ کی حس پر لقوہ طاری ہو جاتا ہے ، جیسے سیمسن کے بالوں میں اس کی ساری طاقت مرتکز تھی۔خیر اس کا ذکر آہستہ سے کریں،ورنہ بھانڈا پھوٹ جائے گا اور ہم کہیں پابند سلاسل نہ ہو جائیں۔
اب سلسلہ شروع کرتے ہیں، دوستوں کو ہماری تراویح سے رغبت کا بخوبی علم ہے،بچپن میں کھیل کود کے بہانے روزانہ جماعت میں شمولیت ہوتی اور ستائیسویں شب مٹھائ کی تقسیم،ہماری طلب شیرینی کے اندرونی تاروں کی جھنکار، باہر تک سناتی۔بچپن میں تراویح کا سلسلہ ناظم آباد نمبر چار سے شروع ہوا،اگلی یادیں گاندھی باغیچہ کے آس پاس ننھیالی رہائش گاہ کی ہیں اور دونوں مقامات پر خونخوار مستعد بزرگ صفوں کے پیچھے کھڑے رہتے،وہ ہم سب بچونگڑوں کی حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھتے۔پر جیسے ہی رکوع کی تکبیر ہوئ،انھوں نے بھی نیت باندھ لی اور جناب دھکم پیل شروع۔صف کے آخری کونے میں کھڑا بچہ ،دھڑام سے فرش پر گرا پڑا دکھائ دیتا اور جیسے ساری صف اسی موقعہ کی منتظر تھی،خوب زوردار قہقہ لگتا اور بزرگ فورا زور سے دو چار دفعہ کھنکارتے۔کبھی کبھار اسی عمل کے دوران کسی کی ریحاح خارج ہو جاتی،بس پھر تو اللمان و الحفیظ،ہنسی کا دورہ پڑ جاتا اور بیچارا معصوم بچہ شرمندہ ہو کر دوبارہ وضو کا بندوبست کرتا نظر آتا۔امام نے اللہ اکبر کہا،سب سجدے میں چلے گئے اور کسی منچلے نے پیچھے سے، دوسرے لڑکے کی ٹانگ کھینچی اور وہ چاروں خانے چت لیٹ گیا۔ہنسی کا فوراہ چھوٹا،خلخل کرتے بچوں کی سرزنش ضروری تھی اور جماعت کے بعد، یہ فرائض میں شمار ہوتا اور رعب و دبدبے والے بزرگ اپنی ہنسی چھپاتے ہوئے،چند غصیل و ترش کلمات ضرور ادا فرماتے ۔
افطاری کے بعد طعام ضروری ہے،سارا خاندان چاندنی پر دسترخوان لگانے میں امداد فراہم کرتا اور کٹورے و رکابیوں کی قطار لگ جاتی ۔سینیوں میں کچھ پھل سجائے جاتے،مشروب کو کٹوروں میں انڈیل دیا جاتا اور کھجور،کیلے،سیب انگور دھل دھلا کر سامنے رکابیوں میں رکھ دیئے جاتے۔نانا جان افطار سے پہلے مدلل دعا فرماتے،جو نہایت موزوں و مختصر ہوتی اور ہم بے صبرے آذان کی پہلی اللہ اکبر کی آواز پر افطار کا نعرہ لگاتے۔دسترخوان کے اٹھتے ہی,نماز مغرب ادا کی جاتی اور سنتوں کے بعد،طعام کا منقطع سلسلہ دوبارہ شروع ہو جاتا۔عشائیہ کا اصول یہ تھا،ایک شوربے والا سالن،ایک سبزی اور چاول،افطاری کی بقایہ جات بھی ساتھ ہی رکھ دی جاتیں اور مولا رحمان و رحیم کا شکر ادا کرتے ہوئے،محفل برخواست ہونے سے پہلے تراویح ادا کی جاتی،جس کا ذکر ہو چکا ہے۔
اب یہ ساری یادیں مسجد نبوی میں عود کر آئیں ،بچے ساری دنیا کے ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں اور تراویح کے دوران وہ یہی سارے شعبدے سر انجام دے رہے تھے۔ہم چونکہ ذرا دیر سے جماعت میں شامل ہوئے،لہذا ان بچوں نے ہماری سمت دیکھ کر، کھسیانے پن کا مظاہرہ کیا اور پھر مصنوعی صوفیانہ طرز بنا کر صف میں شامل ہو گئے۔ہم نے ان کی جانب مسکرا کر دیکھا،ان کی ذرا جان میں جان آئ اور وہ دوبارہ اپنی شرارتوں میں جت گئے۔
ان ساری حرکات نے ،ہمیں اپنے دور بچپن میں پہنچا دیا اور بڈھے ہونے کے باوجود،ایک زیر لب مسکراہٹ چہرے پر عود کر آئ ۔کاش ہم آج بھی اپنے اندر کا بچہ باہر آنے دیں،ایک جانب دھکا ماریں اور دوسرے کی ٹانگ کھینچیں،پھر سب مل جل کر ٹھٹھے لگائیں!پر مسجد نبوی کا احترم لازم و ملزوم ہے،اس قسم کے فضول خیالات، صرف ذہن کے کونوں کھدروں میں جنم لیتے ہیں اور الحمد اللہ وہیں دم توڑ دیتے ہیں۔
ہم نے بیس تراویح شاذو نادر ہی کبھی پڑھی ہونگی،حالیہ بزرگی کی چادر اوڑھ کر اور مزاج صوفیانہ چہرہ پر چڑھا کر، چند دن یہ روایتی حرکت کر بیٹھے اور امام صاحب کی حسن قرآت، یاد داشت،روانی و تیز رفتاری پر عش عش کر اٹھے،پر ہم بمشکل چند آیات کا سر پیر سمجھ پائے۔اگلے دن فرض نماز کے بعد ،ان سے ترجمہ سنانے کی درخوست کی اور انھوں نے پیار و محبت کے ساتھ، اس تجویز کو منتظمین کے سامنے پیش کرنے کا عندیہ دیا۔
اب مدینہ شریف کی گلیوں کی طرف واپس لوٹتے ہیں،اہل مدینہ بیس تراویح کے بجائے،آٹھ،بارہ و سولہ کے قائل ہیں اور باقی عربوں کی طرح،چھوٹی آیات سے بیس رکعت جماعت ادا ہوتی ہے۔مسجد سے نکلتے ہی،دوست احباب چوراہوں پر بیٹھک لگاتے ہیں اور خواتین دسترخوان بچھا کر انواع و اقسام کے کھانے چن دیتی ہیں۔محفل میں کہیں کوئ صوفیانہ رنگ دکھائ نہیں دیتا،کہیں مرد ماجونگ،شطرنج و دوسرے کھیل سجا کر بیٹھ جاتے ہیں اور خواتین آپس میں بزرگوں کے قصے کہانیوں کا تبادلہ کرتی ہیں اور بچوں کو اسلاف کے طور طریقے ،تہزیب و تمدن سے روشناس کراتی ہیں۔الغرض کہیں بھی کوئ بصورتی شکل دکھائ نہیں دیتی،نہ کوئ دین کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہوتا ہے اور رمضان کی حسین شاموں سے اہل خانہ لطف اندوز ہوتے نظر آتے ہیں۔
کاش ہمارے معاشرے میں بھی ہم دین کی اصل روح کو پہچانیں،اس کا ڈھنڈورا پیٹنا بند ہو اور رمضان میں عبودیت کی ریاکاری سے پرہیز کیا جائے اور بچوں کو رمضان کے مزیدار پہلوں سے روشناس کرایا جائے۔
یہ تحریر دینی نہیں ہے،بس چند یادیں سطور میں قید کر دی ہیں اور آپ سب کا ان سے اتفاق کرنا قطعی ضروری نہیں،بلکہ اختلاف ضرور کریں ۔
اپنے بچپن کی حسین یادوں سے ہم سب کو مطلع فرمائیں،چونکہ ہر شخص کی ایک منفرد کہانی ہے، آپ ایک کھڑکی کھول کر، ہمیں اپنی زندگی میں جھانکنے کا موقع فراہم کریں،تاکہ آپ کے خاندان کی یادیں بن کہے مدفن نہ ہو جائیں گی۔
واپس کریں