دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
میر واعظ کشمیرمولانا محمد یوسف شاہؒ سابق صدر آزاد جموں و کشمیر
نجیب الغفور خان
نجیب الغفور خان
میر واعظ کشمیر مولوی محمد یوسف شاہؒ ایک عالم دین،سیاستدان،مفسرقرآن تھے ،میرواعظ مولانا محمد یوسف شاہ ؒ کی تحریک آزادی اور الحاق پاکستان کے لئے گراں قدر خدمات ہیں۔ ہر سال ان کی برسی 16رمضان المبارک کوسرکاری سطع پر منائی جاتی ہے۔
ریاست جموں و کشمیر، بالخصوص سری نگر کے علمی و روحانی افق پر 'میر واعظ خاندان' ایک ایسا درخشندہ ستارہ ہے جو ایک طویل مدت سے فروغِ اسلام، اشاعتِ دین اور مسلمانوں کی فکری و سیاسی رہنمائی کا مرکز رہا ہے۔ اسی معتبر خانوادے کے چشم و چراغ میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہؒ 22 شعبان 1313 ہجری (بمطابق 1892ء) کو پیدا ہوئے، اگرچہ بعض تاریخی حوالہ جات میں آپ کا (سنِ پیدائش 1890ء اور 1894ء) بھی درج ملتا ہے۔ آپ کے والدِ محترم میر واعظ رسول شاہؒ خاندان کے سربراہ اور جید عالم تھے، جن کے سائے میں آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں علم کی پیاس بجھانے کے لیے برصغیر کی عظیم درسگاہ 'دارالعلوم دیوبند' کا رخ کیا۔ دیوبند سے فارغ التحصیل ہو کر جب آپ وادی کشمیر واپس لوٹے تو آپ کی شخصیت علم و عمل کا ایک ایسا سنگم بن چکی تھی جس نے آگے چل کر کشمیر کی تحریکِ آزادی اور الحاقِ پاکستان کے نظریے کو ایک نئی جلا بخشی۔ مولانا محمد یوسف شاہؒ کی علمی خدمات محض تدریس تک محدود نہ تھیں بلکہ آپ نے کشمیری زبان و ادب اور مذہبی فہم کو ایک نیا وقار عطا کیا۔ آپ کا سب سے عظیم علمی شاہکار قرآن مجید کا کشمیری زبان میں ترجمہ اور تفسیر ''بیان الفرقان'' ہے، جسے کشمیری زبان کی مذہبی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ آپ نے قرآن پاک کے بیس پاروں کا سلیس اور پر اثر ترجمہ کیا، جس نے وادی کے دور افتادہ علاقوں میں بسنے والے ان کشمیریوں کے لیے فہمِ قرآن کے دروازے کھول دیے جو عربی یا اردو سے نابلد تھے۔ معاصر تذکرہ نگاروں کے مطابق، آپ کی یہ علمی کاوش ''انجمن نصرت الاسلام'' کے پلیٹ فارم سے شروع ہونے والی تعلیمی تحریک کا تسلسل تھی۔ اس کے علاوہ صحافت کے ذریعے شعور بیدار کرنے کے لیے آپ نے سری نگر سے سہ روزہ اخبار ”اسلام“ اور رسالہ ”راہنما“ بھی جاری کیے، جو کشمیریوں کی سیاسی و مذہبی ترجمانی کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوئے۔ جموں و کشمیر کی تاریخ کے اس نازک ترین موڑ پر، جب افغانوں، سکھوں اور ڈوگروں کے پرآشوب ادوار نے مسلمانوں کو سیاسی و معاشی طور پر مفلوج کر رکھا تھا، آپ نے جس تدبر اور ثابت قدمی سے عوام کی رہنمائی کی، وہ تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ آپ کی سیاسی بصیرت کا اعتراف اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ آپ نے مسئلہ کشمیر کو صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رکھا بلکہ مصر اور الجزائر جیسے اسلامی ممالک کے دورے کر کے اسے عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد جب آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کا ڈھانچہ تشکیل پایا، تو آپ کی خدمات کے پیشِ نظر 1949ء میں آپ کو وزارتِ تعلیم کی پیشکش ہوئی جسے آپ نے قبول نہ کیا، تاہم قوم کی پکار پر آپ دو مرتبہ (یکم نومبر 1951ء سے 21 جون 1952ء اور دوبارہ یکم جون 1956ء سے 6 ستمبر 1956ء تک) ریاستِ آزاد جموں و کشمیر کے صدر کے منصب پر فائز رہے۔ آپ کے دورِ صدارت کو آزاد خطے کی تعمیر و تشکیل کا ''ابتدائی تعمیری دور'' کہا جاتا ہے۔ بطور صدر آپ نے آزاد کشمیر میں نظم و نسق کی بہتری، مہاجرین کی آباد کاری اور تعلیمی اداروں کی بحالی کے لیے انقلابی اقدامات کیے۔ آپ نے صدارتی اختیارات کو عوام کی فلاح کے لیے استعمال کیا اور ریاست میں اسلامی تشخص کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔ مؤرخین کے مطابق، میر واعظ نے اپنی مختصر صدارتی مدت میں بھی دیانت اور خلوص کی وہ مثالیں قائم کیں جو بعد میں آنے والوں کے لیے مشعلِ راہ بنیں۔ آپ کی صدارت محض ایک عہدہ نہیں بلکہ ریاست کے مسلمانوں کے سیاسی و مذہبی حقوق کے تحفظ کی ایک ڈھال تھی۔
میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہؒ ایک ایسی حسرت لے کر اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے کہ ساری ریاست غاصبوں کے پنجہ غلامی سے آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ بن جائے، اور اسی نظریے کی پاداش میں انہیں ہجرت کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ سیاست سے کنارہ کشی کے بعد آپ نے راولپنڈی میں مستقل سکونت اختیار کی، جہاں 16 رمضان المبارک 1388ھ (بمطابق 1968ء) کو آپ کا انتقال ہوا۔ آپ کی وصیت کے مطابق آپ کا جسدِ خاکی مظفرآباد لایا گیا اور سپریم کورٹ کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آج بھی حکومتِ آزاد کشمیر ہر سال 16 رمضان کو آپ کی برسی سرکاری سطح پر مناتی ہے۔
میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہؒ کی زندگی علمی وقار اور سیاسی استقامت کا ایک روشن نمونہ تھی۔ آپ نے نہ صرف کشمیریوں کو قرآن کے آفاقی پیغام سے روشناس کرایا بلکہ ان کی بکھری ہوئی طاقت کو یکجا کر کے ایک توانا تحریک کی شکل دی۔ آج کشمیری نوجوان جس جرأت کے ساتھ غاصبانہ قبضے کے خلاف نبردآزما ہیں، اس میں میر واعظ خاندان کی دی ہوئی فکری غذا کا بڑا عمل دخل ہے۔ آپ کا مشن ابھی ادھورا ہے، اور آپ کی وصیت کی تکمیل اسی صورت ممکن ہے جب کشمیری قوم اپنی منزلِ مقصود یعنی مکمل آزادی حاصل کر لے۔
واپس کریں