
سری لنکا کے قریب بحرِ ہند میں ایرانی بحری جہاز پر ہونے والے امریکی حملے نے اس خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کہ جنگ کا دائرہ اب پاکستان کے مشرق تک وسیع ہو چکا ہے۔ یہ صورتحال عالمی نظام کے بکھرنے اور ایک بڑی عالمی جنگ کی دستک معلوم ہو رہی ہے‘ جس کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے بجا طور پر سفارتی کوششوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔جنگ کی پھیلتی ہوئی چنگاریوں نے علاقائی طاقتوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے میں نیٹو کے ایک سابق کمانڈر کا یہ بیان کہ دنیا تیسری عالمی جنگ دیکھ رہی ہے‘ محض ایک مفروضہ نہیں بلکہ ان خدشات کی عکاسی ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ ہولناک ہوتے جا رہے ہیں۔
ایک طرف مشرقِ وسطیٰ لہو لہو ہے تو دوسری طرف روس اور یوکرین کے تنازع نے عالمی معیشت کو مفلوج کر رکھا ہے۔ روس کی جانب سے یورپ کو گیس کی فراہمی معطل کرنے کی دھمکی نے توانائی کے عالمی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے‘ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جدید دور میں جنگیں صرف میدانِ کارزار تک محدود نہیں رہتیں بلکہ معاشی ناکہ بندیوں اور توانائی کی جنگوں کی صورت میں ان کے اثرات عام آدمی کی دہلیز تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے‘ جو پہلے ہی معاشی عدم استحکام سے نبرد آزما ہے‘ یہ صورتحال دہری آزمائش سے کم نہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی اس کشیدگی کے براہِ راست اثرات پاکستان کی سکیورٹی پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ایرانی بحری جہاز پر حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں سمندری تجارتی گزرگاہیں بھی اب محفوظ نہیں رہیں۔ پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ سمندری تجارت سے وابستہ ہے لہٰذا خطے میں کسی بھی قسم کی بحری یا زمینی جنگ پاکستان کے سٹرٹیجک مفادات کے لیے براہِ راست نقصان دہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت جنگ بندی کیلئے سفارتی کوششیں مزید تیز کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
واپس کریں