دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
میر واعظ یوسف شاہ کی قومی و ملی خدمات:سردار ساجد محمود
No image ریاست جموں و کشمیر کی سیاسی اور مذہبی تاریخ میں میر واعظ محمد یوسف شاہ کا نام ایک ایسی باوقار شخصیت کے طور شامل ہے جنہوں نے بیسویں صدی کے اہم ترین سیاسی ادوار میں کشمیری مسلمانوں کی مذہبی و دینی رہنمائی کے ساتھ ساتھ ان کے سیاسی حقوق کے لیے بھی مؤثر آواز بلند کی۔ آ پ کا شمار سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کے میرواعظ کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کی سیاسی بیداری کے نمایاں قائدین میں ہوتا ہے۔ 1930 کی دہائی سے لے کر تقسیم ہند اور اس کے بعد کے دور تک کشمیری مسلمانوں کی نمائندگی اور مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ( بحوالہ
Muhammad Yusuf Saraf, Kashmiris Fight for Freedom, Vol.1؛ Josef Korbel, Danger in Kashmir)
میر واعظ محمد یوسف شاہ 1894ء میں سرینگر کے ایک علمی و مذہبی خاندان میں پیدا ہوئے۔ آ پ کے خاندان کو کشمیر میں دینی قیادت کا ایک نمایاں مقام حاصل تھا۔ ابتدائی تعلیم سرینگر میں حاصل کرنے کے بعد آپ نے دارالعلوم دیوبند سے حدیث، فقہ اور دیگر دینی علوم میں مہارت حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کشمیر واپس آئے اور دینی و اصلاحی سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے۔ 1931ء میں سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کے میرواعظ مقرر ہوئے اور اس منصب کے ذریعے انہوں نے مذہبی تعلیم، اصلاح معاشرہ اور سیاسی شعور کی بیداری میں اہم کردار ادا کیا۔ ( بحوالہ سید محبوب رضوی، تاریخ دارالعلوم دیو بند ؛ محمد سعید الرحمٰن شمس، حریت کشمیر کے تین کردار۔)
1930 کی دہائی میں کشمیر کی سیاست میں جو بیداری پیدا ہوئی اس میں میر واعظ یوسف شاہ کی قیادت نمایاں ہے۔ 1931ء میں ڈوگرہ حکومت کے خلاف شروع ہونے والی عوامی تحریک میں آ پ نے کشمیری مسلمانوں کے مطالبات کو منظم انداز میں پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 13 جولائی 1931 کے شہدا اور اس تحریک کے نتیجے میں ریاست جموں وکشمیر کے مسلمان پہلی مرتبہ منظم سیاسی جدوجہد کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوے۔ میر واعظ یوسف شاہ نے عوامی اجتماعات اور مذہبی خطبات کے ذریعے سیاسی شعور کے فروغ میں اہم کردار ادا کیااور کشمیری مسلمانوں کے بنیادی اور مذہبی حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ ( بحوالہ
Ian Copland, “Islam and Political Mobilization in Kashmir 1931-34۔ Pacific Affairs)
سیاسی بیداری کے نتیجے میں جموں وکشمیر میں منظم سیاسی پلیٹ فارم کے قیام کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے 1932 کے دوران آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ میر واعظ یوسف شاہ اس جماعت کے نمایاں رہنماؤں میں شامل تھے اور انہوں نے ریاست کے مسلمانوں کو سیاسی طور پر منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مسلم کانفرنس کا بنیادی مقصد ریاست میں آئینی اصلاحات، مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی اور بنیادی حقوق کا تحفظ تھا۔ اس جماعت نے کشمیری سیاست میں ایک نئی سمت متعین کی ۔
(Muhammad Yusuf Saraf, Kashmiris Fight for Freedom)
آ ل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کی قیادت بالخصوص شیخ محمد عبداللہ سے اختلافات کے نتیجہ میں آزاد مسلم کانفرنس کی بنیاد بھی رکھی۔ تاہم جب 1940 کی دہائی میں برصغیر کی سیاست فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئی اور قیام پاکستان کی بازگشت سنائی جانے لگی تو جموں وکشمیر کی سیاست بھی اس سے برات راست متاثر ہوئی۔ میر واعظ یوسف شاہ نے اس دور میں کشمیری مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے بارے میں واضح اور دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوے تقسیم ہند کے موقع پر کشمیر کی صورت حال کو برصغیر کی قیادت کے سامنے پیش کیا۔ ستمبر 1947ء میں وہ پاکستان آئے اور محمد علی جناح سے ملاقات کر کے ریاست جموں و کشمیر کی سیاسی صورت حال سے آگاہ کیا۔ تاہم جب انہوں نے واپس کشمیر جانے کی کوشش کی تو ڈوگرہ حکومت نے ان کے داخلے پر پابندی لگا دی جس کے نتیجے میں وہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔
(Josef Korbel, Danger in Kashmir؛ Alastair Lamb, Kashmir:
A Disputed Legacy)
جلاوطنی کے بعد میر واعظ یوسف شاہ آزاد کشمیر منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ آزاد جموں و کشمیر کے سیاسی اور حکومتی ڈھانچے میں بھی ان کی خدمات نمایاں رہیں اور وہ دو مرتبہ آزاد جموں و کشمیر کے صدر کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس حیثیت میں انہوں نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اجاگر کرنے اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کے لیے سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔
(Muhammad Yusuf Saraf, Kashmiris Fight for Freedom)
میر واعظ یوسف شاہ ایک علمی اور دینی شخصیت بھی تھے۔ انہوں نے قرآن مجید کا کشمیری زبان میں ترجمہ و تفسیر تیار کی جو کشمیری عوام میں دینی تعلیم کے فروغ کے لیے ایک اہم علمی کاوش سمجھی جاتی ہے۔ ان کے خطبات اور تحریروں نے کشمیری معاشرے میں مذہبی شعور اور اصلاحی فکر کو فروغ دیا اور انہوں نے مذہبی قیادت کو سماجی اصلاح اور قومی شعور کے ساتھ وابستہ کرنےکی کوشش کی۔
(Syed Mehboob Rizvi, Tarikh Darul Uloom Deoband).
میر واعظ محمد یوسف شاہ نے اپنی زندگی کشمیری عوام کی دینی رہنمائی اور سیاسی جدوجہد کے لیے وقف کیے رکھی۔ آ پ 12 دسمبر،1968ء سولہ رمضان المبارک کو راولپنڈی میں انتقال کر گئے اور مظفرآباد میں سپرد خاک کیے گئے۔ کشمیری تاریخ میں انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے مذہبی قیادت کو قومی سیاست کے ساتھ جوڑ کر کشمیری عوام کے حقوق اور شناخت کے تحفظ کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ آ پ کی خدمات نے کشمیر کی سیاسی و مذہبی تاریخ اور تحریکِ آزادی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ہر سال سولہ رمضان المبارک کو آپکی برسی سرکاری سطح پر منائی جاتی ہے جو آپکی خدمات کا اعتراف اور آپ سےعقیدت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
(Sumantra Bose, Kashmir: Roots of Conflict, Paths to Peace؛ Alastair Lamb, Kashmir: A Disputed Legacy)
واپس کریں