
ہفتے کے روز جب اسرائیلی اور امریکی بموں نے تہران کو نشانہ بنانا شروع کیا تو چند ہی گھنٹوں بعد روس نے ایک دوٹوک بیان جاری کیا۔ اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نمائندے واسیلی نیبنزیا نے اسے”اقوام متحدہ کے ایک خودمختار اور آزاد رکن ملک کے خلاف بلااشتعال مسلح جارحیت‘‘ قرار دیا۔
ماسکو تہران کے چند مگر مضبوط ترین اتحادیوں میں سے ایک ہے اور ایرانی حکومت کا ممکنہ خاتمہ روس کے جغرافیائی سیاسی اور معاشی مفادات کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ پھر آخر وہ تہران کی مدد کو کیوں نہیں آیا؟
آذربائیجان میں مقیم روس اور مشرقِ وسطیٰ کے امور کے آزاد ماہر نکیتا سماگِن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ماسکو اور تہران روس کے لیے اہم کئی معاشی منصوبوں میں تعاون کر رہے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی، ”نارتھ-ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور ان میں سے ایک ہے۔ خاص طور پر اس وقت سے جب روس فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ شروع کرنے کے بعد اپنے روایتی تجارتی راستوں سے کٹ گیا تھا۔‘‘
روس، بھارت اور ایران نے سن 2000 میں اس 7,200 کلومیٹر طویل کثیر النوع نیٹ ورک کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جو آذربائیجان سے بھی گزرے گا۔ سعودی عرب میں قائم تھنک ٹینک گلف ریسرچ سینٹر کے مطابق اس منصوبے کا 75 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔
ایران نے عسکری لحاظ سے بھی روس کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر 2023ء سے نام نہاد ‘شاہد‘ ڈرونز فراہم کر کے۔ امریکہ میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار نیول انالیسز (سی این اے) کے روس اسٹڈیز پروگرام کے ریسرچ انالسٹ جولیان والر کے مطابق ان ڈرونز نے یوکرین جنگ کی صورتِ حال کو بڑی حد تک بدل دیا ہے۔
والر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ایران روس کی جنگی کوششوں کے لیے مفید رہا، اگرچہ اب ڈرونز کی تیاری بڑی حد تک روس کے اندر ہی شروع ہو چکی ہے اور ان کے ڈیزائن میں بھی بہتری لائی گئی ہے۔‘‘
تہران کسی حد تک ماسکو کا ’رہنما‘ بن چکا ہے
اطلاعات کے مطابق روس نے ایران کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات بھی شیئر کی ہیں اور تہران کو میزائل اور گولہ بارود بھی بھیجا ہے۔
تاہم سماگِن نے زور دے کر کہا، ”روس اور ایران کی شراکت داری نظریے پر مبنی نہیں ہے۔ روسی سیاست دان ایران کو خاص پسند نہیں کرتے لیکن وہ تہران کو ایک قابلِ اعتماد اسٹریٹیجک شراکت دار سمجھتے ہیں۔‘‘
لندن میں قائم تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس کے یورپ اور روس ڈائریکٹر گریگوار روس کا بھی ماننا ہے کہ تہران کسی حد تک ماسکو کا ‘رہنما‘ بن چکا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ایران کو کئی برسوں سے بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے اور وہ روس کو یہ مشورے دیتا رہا ہے کہ ان پابندیوں کو کیسے نظرانداز کیا جائے۔‘‘
ایران کا غلط اندازہ
اس کے باوجود ماہرین اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ایران کے خلاف جاری امریکی اسرائیلی جنگ میں روس کے فعال طور پر مداخلت کرنے کا امکان کم ہے۔
جولیان والر نے کہا، ”دونوں ممالک دفاعی اتحادی نہیں ہیں۔‘‘ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ روس اور اسرائیل کے درمیان ایک غیر رسمی عدمِ حملہ معاہدہ موجود ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہر اور سیاسی تجزیہ کار مجتبیٰ ہاشمی کے مطابق تہران کو پھر بھی ماسکو سے ”واضح سیاسی اور عسکری حمایت‘‘ کی توقع تھی۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”اس میں عسکری و تکنیکی تعاون میں توسیع، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور اپنے دشمنوں کو واضح پیغام دینا شامل تھا، محض زبانی حمایت نہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی حکومت نے اپنے اندازوں میں غلطی کی۔
ہاشمی نے کہا، ”روس اور چین کے اپنے بڑے مسائل ہیں۔ ان کی حمایت اسی نوعیت کی رہی ہے جس نے اب تک اسلامی جمہوریہ کو اسلحہ اور جبر کے مختلف ذرائع فراہم کیے ہیں۔‘‘
تاہم جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے لیکچرر محمد قائدی کا خیال ہے کہ روس کی جانب سے حمایت کا فقدان ایرانی قیادت کے لیے کوئی حیران کن بات نہیں تھی۔ ان کے مطابق تہران میں ماسکو پر انحصار کرنے کے حوالے سے شکوک و شبہات کافی عرصے سے موجود ہیں۔ جیسا کہ سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے ایک بار کہا تھا، ”روس نے ہمیشہ ایرانی قوم کو بیچا ہے،‘‘ اور صدر مسعود پزشکیان نے جون 2025ء کی 12 روزہ جنگ کے بعد کہا تھا، ”جن ممالک کو ہم دوست سمجھتے تھے انہوں نے جنگ کے دوران ہماری مدد نہیں کی۔‘‘
چیتھم ہاؤس کے گریگوار روس کے مطابق ایران میں طویل جنگ ماسکو کے لیے کچھ فائدہ مند بھی ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے، ”میڈیا کی توجہ (یوکرینی) صدر وولودیمیر زیلنسکی سے ہٹ جائے گی، کیونکہ ساری توجہ ایران اور کشیدگی کے خطرے پر مرکوز ہو جائے گی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ”اس کے علاوہ واشنگٹن سفارتی اور عسکری حمایت کے نقطۂ نظر سے ایک اور محاذ کو طویل عرصے تک برداشت نہیں کر سکتا اور ترجیحات کی فہرست میں واضح طور پر مشرقِ وسطیٰ کو فوقیت دی جائے گی۔‘‘
معاشی طور پر بھی روس کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ ایران نے بڑی حد تک آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس کے بعد تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
تھنک ٹینک سی این اے کے جولیان والر کے مطابق، ”اگر تیل اور گیس کی قیمتیں کئی مہینوں یا ایک سال تک بلند رہیں تو یہ تیل و گیس برآمد کرنے والے روس کے لیے بڑا فائدہ مند ثابت ہو گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی صورت میں کریملن اندرونی ٹیکس کم کر سکتا ہے جو جنگ کی مالی معاونت کے لیے لگائے گئے تھے۔
تاہم گریگوار روس کے مطابق ایرانی حکومت کا ممکنہ خاتمہ روس کی عالمی حیثیت کے لیے بڑا دھچکا ہو گا، کیونکہ ماسکو خود کو ایک بڑی طاقت کے طور پر پیش کرنا پسند کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، ”روس ان ممالک کے ایک گروہ کا حصہ رہا ہے، جن میں ایران، شام اور چین شامل ہیں، جو مغرب کی قیادت میں قائم عالمی نظام کی جگہ ایک کثیر قطبی دنیا قائم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
کیا روس ایران اتحاد جاری رہے گا؟
مجتبیٰ ہاشمی کے مطابق روس کی جانب سے ایران کو مؤثر حمایت نہ ملنا دونوں ممالک کے تعلقات میں دراڑ ڈال سکتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی، ”روس اور چین نے بڑی حد تک ایران کو مغرب کے ساتھ جغرافیائی سیاسی سودے بازی کے مہرے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اگر موجودہ حکومت مزید کمزور ہوتی ہے تو ماسکو گرتے ہوئے ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے آئندہ ایرانی حکومت سے یقین دہانیاں حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ چین بھی اسی طرح اگلی حکومت سے رعایتیں حاصل کرنا چاہے گا تاکہ کم از کم اپنا کچھ اثر و رسوخ برقرار رکھ سکے۔ تاہم دونوں جانتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ کے بعد ایران کے ساتھ ان کے تعلقات کافی مختلف ہوں گے۔‘‘
جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے محمد قائدی کا خیال ہے کہ موجودہ ایرانی حکومت مغرب کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے باعث اب بھی ماسکو کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھنا چاہے گی۔
انہوں نے کہا، ”تہران کے اس شراکت داری کو کھونے کا خطرہ مول لینے کا امکان نہیں ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس کے پاس ویٹو کا اختیار موجود ہے۔‘‘
واپس کریں